ٹیکہ کی تاریخ میں سائنسی قاعدہ

سائنسی قاعدہ کیا ہے؟

سائنسی قاعدہ مادی دنیا کے بارے میں سوالات پوچھنے اور جواب دینے کا ایک منضبط اور منظم طریقہ ہے۔ اگرچہ یہ سوچنا مفید ہو سکتا ہے کہ سائنسی قاعدہ اقدامات کا ایک آسان تسلسل ہے، لیکن حقیقت میں سائنسی قاعدہ کوئی ایک بھی نمونہ ہے جس کا استعمال سبھی حالات میں کیا جا سکے۔ اس کے بجائے، مختلف سائنسی تحقیقات مختلف سائنسی طریقوں کا تقاضہ کرتی ہیں۔ تاہم، کچھ مخصوص کوالٹی کا اطلاق سائنسی قاعدہ کے سبھی استعمالات پر ہونا چاہئے۔

ایک سائنسی تحقیق کی ایک اہم کوالٹی یہ ہے کہ یہ کسی سوال کا جواب دینے کوشش ضرور کرے۔ دیگر الفاظ میں، کسی تحقیق میں کسی نقطہ کو "ثابت" کرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے، بلکہ اس میں جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔ ایک دیگر کوالٹی یہ ہے کہ محتاط، کنٹرول شدہ مشاہدات معلومات جمع کرنے کی بنیاد ہونا چاہئے۔ آخری یہ کہ، کسی سائنسی تحقیق کے نتائج ایسا ہونے چاہئے کہ انہیں دوبارہ تیار کیا جا سکے: دیگر محقق، اسی طریقہ کا استعمال کرتے ہوئے، اس قابل ہوں کہ اس میں اس نتائج کا مشاہدہ کرسکیں۔ اگر کوئی نتیجہ دوبارہ ناقابل تخلیق ہو تو اوریجنل نتائج پر سوال اٹھنا چاہئے۔

سائنسی قاعدہ کے اقدامات

آج ہم سائنس کے "اقدامات" کے بارے میں جو کچھ بھی سوچتے ہیں وقت کے ساتھ اس میں ترقی ہوئی ہے، اور وہ اس تحقیق سے الگ ہو سکتے ہیں جس طرح کی تحقیق انجام دی جارہی ہے۔ لیکن عام طور پر ان اقدامات میں شامل ہیں مشاہدہ کرنا، قیاس کرنا (وہ "سوال" جو اوپر مذکور ہے)، ایک ٹسٹ انجام دینا، اور کوئی نتیجہ نکالنا۔

مشاہدہ

سائنسی تحقیقات عام طور پر ایک مشاہدہ کے ساتھ شروع ہوتی ہیں جو ایک دلچسپ سوال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایک مشاہدہ کی ایک مشہور مثال جس کی وجہ سے مزید تحقیق عمل میں آئی وہ اسکاچستانی بایولوجسٹ الیگزینڈر فلیمنگ کے ذریعہ 1920 کی دہائی میں پیش کی گئی۔ اپنے لیب سے ایک بار غیر حاضر ہونے کے بعد وہ واپس آیا اور کچھ شیشے کے کچھ پلیٹوں کو صاف کرنا شروع کردیا جن پر وہ کچھ مخصوص قسم کی بیکٹیریا کی نشونما کررہا تھا۔ اس کو ایک عجیب چیز دکھائی دی: ان میں سے ایک پلیٹ پھپھوندی سے آلودہ ہو گیا تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ، پھپھوندی کے ارد گرد موجود ایریا بیکٹیریا کی نشونما سے آزاد دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے مشاہدے نے اشارہ کیا کہ ایک وجوہاتی تعلق موجود ہو سکتا ہے: پھپھوندی یا اس پھپھوندی کے ذریعہ پیدا کردہ مواد بیکٹریا کی نشونما کو روک سکتا ہے۔ فیلیمنگ کے مشاہدہ کی بنا پر کئی مسلسل سائنسی جانچوں کو انجام دیا گیا جن کے نتیجے میں نئی جانکاری سامنے آئی: پینسیلین کا استعمال بیکٹیریائی انفیکشن کے علاج کے لئے ہو سکتا ہے۔

مفروضہ

مفروضہ ایک تجویز یا ممکنہ حل ہے جو مشاہدہ کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے۔ پھپھوندی کی اینٹی بایوٹک خصوصیت کے بارے میں الیگزنڈرا فلیمنگ کی تحقیق، اس کا مفروضہ کچھ اس طرح رہا ہوگا، "اگر کسی مخصوص قسم کے پھپھوندی کے مقطر کو بیکٹیریا میں داخل کیا جائے تو بیکٹیریا مر جائے گا"۔

اچھے مفروضے میں بہت سی کوالٹی ہوتی ہیں۔ پہلا، وہ عام طور پر موجودہ جانکاری کے ساتھ شروع ہوتے ہیں۔ یعنی، وہ ایسے آئی ڈیا پیش نہیں کرتے ہیں جو اس بارے میں ہماری عام جانکاری سے بالکل ہی الگ ہو کہ دنیا کیسے چلتی ہے۔ مزید یہ کہ، اچھے مفروضے آسان ہوتے ہیں، اس میں ایک ہی مسئلہ ہوتا ہے اور اس کا ممکلہ حل ہوتا ہے۔ آخر میں، اچھے مفروضے قابل ٹسٹ اور "قابل تکذیب" ہوتے ہیں۔  یعنی، مفروضہ میں مجوزہ حل کا ایک قابل مشاہدہ ٹسٹ ہو سکتا ہے، اور اس ٹسٹ کے توسط سے، تحقیق کار کے لئے مفروضہ کو جھوٹ ثابت کرنا ممکن ہوتا ہے۔ پھپھوندی کے بارے میں فلیمنگ کے مطالعات سے متعلق مذکورہ بالا مفروضہ قابل تکذیب/قابل تحریف ہے، کیونکہ ایک ایسا ٹسٹ جس میں پھپھوندی کے ایک مقطر کی موجودگی میں بیکٹیریا کی نشونما ہوئی وہ غلط ثابت ہوا ہوتا، اگر یہ صحیح نہیں ہوتا۔

ٹسٹنگ

بہت سے جدید سائنسی مطالعات میں کنٹرول گروپ یا تجرباتی گروپ والا ایک ٹسٹ شامل ہوتا ہے۔ ماڈلنگ کے ساتھ یا تحقیق اور ڈیٹا کے تجزیہ کے ساتھ دیگر قسم کے مطالعات انجام دیئے جا سکتے ہیں۔ لیکن اس مضمون میں، ہم اس ٹسٹنگ کے بارے میں تبادلہ خیال کررہے ہیں جو تجربہ کے ذریعہ کی جاتی ہے۔

تحقیق کار کنٹرول گروپ ٹھیک اسی طرح تجربہ انجام دیتا ہے جس طرح تجرباتی گروپ پر انجام دیتا ہے۔ فرق بس یہ ہے کہ تحقیق کار کنٹرول گروپ کو واحد عامل یا اس معالجہ کے تحت نہیں لاتا جس کا ٹسٹ کیا جا رہا ہے۔ یہ واحد عامل جس کا ٹسٹ کیا جا رہا ہے تغیر پذیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تجرباتی گروپ کے ساتھ ایک درست موازنہ فراہم کرنے کے لئے کنٹرول گروپ موجود ہے۔

مثلا، فلیمنگ کے مفروضہ کی جانچ کئے جانے والے ایک تجربہ میں، ایک سائنسداں پھپھوندی کے مقطر کو شیشے کے پلیٹوں پر بیکٹیریا کے کلچر میں داخل کر سکتا ہے۔ یہ تجرباتی گروپ ہوگا۔ کنٹرول گروپ بیکٹیریا کے اسی جیسے کلچر پر مشتمل ہوگا، لیکن پھپھوندی کے مقطر کے شمولیت کے بغیر۔ دونوں گروپ ایک ہی شرائط کے دائرے میں آئیں گے۔ دونوں گروپ کے درمیان کوئی بھی فرق تغیر پذیری سے ہوگا، یا ان کے درمیان واحد فرق: پھپھوندی کے مقطر کا بیکٹیریا کے کلچرس میں دخول۔

محتاط مشاہدات اور ڈیٹا کی ریکارڈنگ سائنسی قاعدہ کے ٹسٹنگ مرحلہ کے دوران بہت اہم ہیں۔ درست طریقے سے پیمائش، مشاہدہ اور ریکارڈ کی ناکامی کی صورت میں ٹسٹ کے نتائج خراب ہو سکتے ہیں۔

اختتامہ

سائنسی طریقہ میں موجود آخری قدم میں شامل ہے ان آئیڈیا کا تجزیہ اور ترجمانی جو ٹسٹنگ مرحلہ کے دوران جمع کئے گئے ہیں۔ یہ تحقیق کار کو ڈیٹا پر مبنی ایک اختتامی نتیجہ قائم کرنے کا اہل بناتا ہے۔ ایک اچھے اختتامی نتیجے میں ان تمام ڈیٹا کو ملحوظ رکھا جاتا ہے جو جمع کئے گئے ہیں اور اس کا عکاسی مفروضہ پر ہوگی، چاہے یہ مفروضہ کی حمایت کرے یا نہیں۔

اب ہم سائنسی قاعدہ کے مختلف پہلووں کا جائزہ لیں گے جس کا استعمال ٹیکہ کی تیاری میں مختلف موجدین کے ذریعہ کیا گيا ہے۔

ایڈوارڈ جینر: مشاہدہ کی اہمیت

1749 میں انگلینڈ میں پیدا ہونے والا ایڈوارڈ جینر طبی تاریخ کے مشہور ترین معالج میں سے ایک ہے۔ جینر نے مفروضہ کو ٹسٹ کیا کہ جدری البقر (کاؤپوکس) کے ساتھ انفیکشن ایک فرد کو چیچک کے انفیکشن سے تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ جینر کے وقت سے تیار کردہ سبھی ٹیکے اس کے کام سے ماخوذ ہوتے ہیں۔

جدری البقر گائے اور بیل کی ایک غیر عام بیماری ہے، جو عام طور پر ہلکی ہوتی ہے، جو گائے کے تھن ہو ہونے والے زخموں کے ذریعہ ایک گائے سے کسی انسان تک پھیل سکتی ہے۔ اس کے برعکس، چیچک انسانوں کی ایک مہلک بیماری تھی۔ یہ تقریبا 30 فیصد ایسے لوگوں کو ہلاک کردیتا تھا جو اس میں مبتلا ہوتے تھے۔ اس بیماری سے زندہ بچ جانے والوں کو اکثر ان کے چہروں پر اور جسم کے ان حصوں میں جو آبلے سے متاثر ہوتے تھے گہرے داغ پڑ جاتے تھے۔ چیچک بہرہ پن کی ایک بڑی وجہ تھی۔

جینر کے بارے میں یہ بتایا جاتا ہے کہ گائے کے باڑے میں کام کرنے والے کارکن کے مشاہدہ میں دلچسپی رکھتے تھے۔ اس نے ان کو بتایا، "مجھے کبھی چیچک نہیں ہوگا، کیونکہ مجھے جدری البقر (کاؤ پوکس) ہو چکا ہے۔ میرے چہرے میں کبھی بھی کوئی بدصورت داغ نہیں ہوگا"۔ اور گائے کے ساتھ کام کرنے کے لئے بہت سارے دیگر افراد کو عام طور پر یقین تھا کہ جدری البقر کے ساتھ انفیکشن نے انہیں چیچک سے تحفظ فراہم کیا ہے۔

اس بات کے مدنظر کہ جدری البقر انفیکشن کی حفاظتی کوشش عام مقامی جانکاری تھی، جینر کی شمولیت کیوں اہم تھی؟ جینر نے منظم طور پر مشاہدہ کو ٹسٹ کرنے کا فیصلہ کیا، جو کہ پھر جدری البقر انفیکشن کے فائدہ کے ایک عملی استعمال کی بنیاد بنا۔

جینر نے ایک دودھ والے کے ہاتھ پر موجود جدری البقرسے کچھ مواد کو کھرچ کر ایک آٹھ سالہ بچہ جیمس فیپس کے بازو میں ڈال دیا، جو کہ جینر کے باغبان کا بیٹا تھا۔ چھوٹے فیپس کی حالت تو کچھ دن گڑبڑ رہی لیکن بعد میں مکمل طور پر صحت یاب ہو گیا۔

کچھ ہی مدت کے بعد، جینر نے ایک تاوہ انسانی چیچک کے زخم کے مواد کو کھرچ کر فیپس کے بازو پر ڈال دیا اس کوشش میں وہ چیچک سے بیمار ہو جائے۔ تاہم، فیپس کو چیچک نہیں ہوا۔ جینر دیگر انسانوں پر اپنے آئیڈیا کو ٹسٹ کرنا شروع کیا اور اپنے نتائج کی رپورٹ شائع کی۔

اب ہمیں معلوم ہے کہ وہ وائرس جو جدری البقر پیدا کرتا ہے اس کا تعلق وائرس کی اورتھوپوکس فیملی سے ہوتا ہے۔ اورتھوپوکس وائرس میں ویریولا وائرس بھی شامل ہیں، وہ وائرس چیچک کا سبب بنتے ہیں۔

جینر کا چیچک کے خلاف ٹیکہ کاری کا قاعدہ مقبول ہو گیا اور آخر میں دنیا بھر میں پھیل گیا۔ 1923 میں جینر کی موت کے تقریبا 150 سالوں بعد، چیچک اپنی آخری سانس لے رہا ہوگا۔ عالمی ادارہ صحت نے آخرکار اس بات کا اعلان کردیا کہ ایک کڑی نگرانی اور ٹیکہ کاری پروگرام کے بعد 1980 میں کرہ ارض سے چیچک کا خاتمہ ہو گیا۔

جینر کا سائنسی قاعدہ کی ایک وضاحت نیچے دکھائی گئی ہے:

·       مشاہدہ: جن لوگوں کو جدری البقر ہو چکا ہے وہ چیچک سے بیمار نہیں ہوتے ہیں۔

·       مفروضہ: اگر کوئی فرد قصدا جدری البقر میں مبتلا ہو جائے تو چیچک سے ایک بامقصد سامنا کے بعد اس فرد کو بیماری سے تحفظ حاصل ہو جائے گا۔

·       ٹسٹ: کسی فرد کو جدری البقر کے انفیکشن میں مبتلا کریں۔ پھر اس فرد کو چیچک کے انفیکشن میں مبتلا کرکے آزمائیں۔ (یاد رکھیں کہ جینر نے اپنے تجربہ میں کسی کنٹرول گروپ کا استعمال نہیں کیا۔)

·       اختتامیہ: کسی فرد کو جدری البقر کے انفیکشن میں مبتلا کرنے سے اس کو چیچک کے انفیکشن سے تحفظ حاصل ہو جاتا ہے۔

جینر نے متعدد بار اپنے تجربہ کو دہرایا اور اسے ایک ہی نتائج حاصل ہوئے۔  دیگر سائنسدانوں نے ایسا ہی کیا اور انہیں بھی ایک ہی نتائج حاصل ہوئے۔  جینر چیچک کی روک تھام کے وسائل کو ثابت کرنے کی خاطر سائنسی قاعدہ کو استعمال کرنے کے لئے مشہور ہیں۔

رابرٹ کوچ: کسی بیماری کے سبب کا پتہ لگانے کے طریقے

رابرٹ کوچ (1843-1910) ایک جرمن فیزیشن تھا جس نے علم بیکٹیریا کو ایک سائنس کے طور پر قائم کرنے میں مدد کی۔ کوچ نے ان بیکٹیریا کی نشاندہی میں اہم دریافتیں کیں جو انتھریکس (راج پھوڑا)، ہیضہ، اور تپ دق کا سبب بنتے ہیں، ایک ایسے وقت میں جب خوردبینی جرثومہ کے بار میں سمجھ ابھی پیدا ہورہی تھی۔

کوچ اور ان کا ساتھی فریڈریچ لویفلر نے بیماری کا سبب بننے والے ایک ایجنٹ کی نشاندہی کے لیے ایک قاعدہ تیار کیا۔ آج سائنسداں کسی متعدد بیماری کے سبب کی نشاندہی کرنے کی کوشش کرتے وقت ان بنیادی اصول کی پیروی کرتے ہیں، جن کو اب ہم کوچ کے مفروضے کے نام سے جانتے ہیں۔ کوچ کے مفرو‌ضے محتاط مشاہدات اور نو افزودگی پر مبنی ہیں۔

1.    بیماری کے ہر کیس میں خوردبینی جرثومہ موجود ہوتا ہے۔

2.    خوردبینی جرثومہ میزبان سے حاصل کیا جا سکتا ہے اور آزادانہ طور پر اس کی نشونماں ہو سکتی ہے۔

3.    ایک تندرست تجرباتی میزبان میں خوردبینی جرثومہ کے پیور کلچر کو داخل کرکے بیماری پیدا کی جا سکتی ہے۔*

4.    اسٹیپ 3 میں انفیکشن زدہ میزبان سے خوردبینی جرثومہ کو علیحدہ کیا جا سکتا ہے اور نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

*اسٹیپ 3 میں ایک استثناء یہ ہے کہ کچھ افراد بیماری پیدا کرنے والے ایک خوردبینی جرثومہ سے متاثر ہو سکتے ہیں اور ان میں بیماری کی علامت نظر نہیں آسکتی ہے۔ اس کو غیر علامتی کیریئر کہا جاتا ہے۔

جوناس ساک: ایک دوہری نامعلوم بے ترتیب آزمائش

جاناس ساک کے غیر فعال پولیو وائرس ویکسین (IPV) کا 1954 کا فیلڈ ٹرائل ایک ویکسین کی جانچ کے سائنسی طریقہ کے استعمال میں ایک دوسرے اہم سنگ میل تھا۔ اس آزمائش میں متعدد زیر تحقیق افراد کا اندراج ہوا – مکمل 1.3 ملین بچے- جو کہ اب تک انجام دی گئی سب سے بڑی طبی فیلڈ آزمائش ہے۔

ساک ٹرائل ایک محتاط طریقہ سے ڈیزائن کردہ دوہرا انجان بے ترتیب تجربہ تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ پہلے بچوں کو بذریعہ قرعہ اندازی یا تو کنٹرول یا تجرباتی گروپ میں رکھا گیا۔ "دوہرا انجان" کا مطلب ہے کہ کسی کو بھی – ناہی بچہ، والدین، وہ فرد جس نے انجیکشن دیا، اور ناہی وہ فرد جس نے بچہ کی صحت کی تشخیص کی- یہ معلوم نہیں تھا کہ آیا کسی بچہ کو پولیو ویکسین یا پلاسیبو انجیکشن ملا۔ (پلاسیبو ایک غیر فعال مواد ہے۔ اس صورت میں، پلاسیبو ایک نمکین پانی کا محلول تھا) اس بارے میں معلومات کہ آیا بچہ کو ٹیکہ یا پلاسیبو ملا ان شیشیوں پر عددوں میں کوڈ کے طور پر موجود تھا جن سے انجیکٹ ہونے والا مواد لیا گيا، اور اس کو بچہ کے ریکارڈ سے مربوط کیا گيا۔ مشاہداتی مدت کے خاتمہ اور نتائج کے ریکارڈ کے بعد ہی – چاہے بچے کو مشاہداتی مدت کے دوران پولیو ہوا یا نہیں – بچہ کے تجرباتی یا کنٹرول اسٹیٹس کو منکشف کیا گيا۔

اہلکاروں کو پورے پولیو ویکسین کی آزمائش کے دوران ڈبل بلائنڈ، بذریعہ قرعہ اندازی معیار حاصل نہیں ہوا۔ کچھ برادریوں میں، سرکاری اہلکار نے پلاسیبو کے انجیکشن کے استعمال کا اعتراض کیا، اس لیے کنٹرول گروپ میں موجود بچوں میں صرف پولیو کے نشانات کا مشاہدہ کیا گيا۔ ان گروپوں کو مشاہدہ کردہ کنٹرول کے طور پر جانا گيا۔ مطالعہ کے کچھ ڈیزائنرز کو اس بات کی فکر تھی کہ مشاہدہ کردہ کنٹرول اور تجرباتی گروپ کے درمیان اختلافات نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مثلاً، مشاہدہ کردہ کنٹرول گروپ میں شامل تھے وہ بچے جن کے والدین اپنے بچوں کے ٹیکہ لگوانے پر راضی نہیں تھے۔ کیا ان بچوں کے درمیان کوئی اہم اختلافات تھے جن کے والدین جن کے والدین راضی نہیں تھے اور جن کے والدین راضی تھے، جیسے کہ آمدنی یا رہائشی یا والدین کی عمر؟ اور کیا وہ اختلافات اس بات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ آیا وہ بچے پہلے ہی پولیو کی زد میں آچکے تھے اور مامون ہو چکے تھے؟

ساک ویکسین کی آزمائش نے کامیابی کے ساتھ دکھایا کہ ویکسین نے فالجی پولیو کی روک تھام میں مدد کی اور اس کے بعد ویکسین کو جلد ہی اجازت مل گئی۔ وہ بیماری جس نے کبھی ہزاروں بچوں کو فالج میں مبتلا کردیا تھا اب مغربی کرہ ارض میں اس کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

اختتامہ

ویکسین کی تحقیق میں سائنسی قاعدہ کی تاریخ کی وجہ سے آج ویکسین کی تیاری کا محتاط اور باقاعدہ عمل کا وجود ہوا ہے۔ ان سالوں میں، ٹیکہ کے مطالعات کے معیارات میں مزید پیش رفت ہوئی ہے، اور اور کنٹرول گروپ اور ٹیکہ گروپ وجود میں آیا ہے ممکنہ حد تک ایک دوسرے کی طرح۔  کنٹرول، بلائنڈنگ اور قرعہ اندازی کے اصول ٹیکوں کی جانچ کے طریقے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔


وسائل

Harvard University Library Open Collections Program. Contagion: Historical Views of Diseases and Epidemics. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

Marks HM. The 1954 Salk poliomyelitis vaccine field trialClin Trials. 2011 Apr;8(2):224-34.  31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

Oshinsky DM. Polio: An American Story. New York: Oxford University Press, 2005.

Sir Alexander Fleming: Questions and Answers. Nobelprize.org. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

 

آخری بار 31 مارچ 2017 کو اپڈیٹ کیا گيا

ٹائم لائن اندراج 14/5/1796

جینر کی پیش رفت

ایڈورڈ جینر نے اس مفروضہ کا تجربہ کیا کہ جدری البقر کا انفیکشن چیچک کے انفیکشن سے ایک شخص کی حفاظت کر سکتا ہے. آج، ہم جانتے ہیں کہ جدری البقر کا وائرس وائرسوں کے آرتھوپاکس خاندان سے تعلق رکھتا ہے. آرتھوپاکس وائرسوں میں منکی پاکس وائرس اور چیچک (وائریولا) کے وائرس بھی شامل ہوتے ہیں جسکی وجہ سے چیچک ہوتا ہے.

مئی 14، 1796 کو، جینر نے گھوسن سارہ نمس کے ہاتھ پر جدری البقر کے گھاؤ کے مواد سے ایک آٹھ سالہ جیمس فپس کو ٹیکا لگایا. فپس کو ایک مقامی رد عمل کا سامنا کرنا پڑا اور کئی دنوں تک عَلِيل محسوس کیا لیکن مکمل طور پر ٹھیک ہو گیا. جولائی 1796 میں، جینر نے جدری البقر سے تحفظ کو چیلنج کرنے کی ایک کوشش میں ایک تازہ انسانی چیچک کے مواد سے فپس کو ٹیکا لگایا. فپس صحت مند بنا رہا. جینر نے آگے مظاہرہ کیا کہ انسانی زنجیر میں ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل کیا گیا جدری البقر کے مواد نے چیچک سے تحفظ فراہم کیا.

ٹائم لائن میں اس شے کے دیکھتے ہیں