اینٹی ویکسینیشن تحریکوں کی تاریخ

صحت اور طبی اسکارلروں نے ٹیکہ کاری کو 20وی صدی کے صحت عامہ کے دس سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔[1] پھر بھی، ٹیکہ کاری کے خلاف اعتراض موجود ہے[2] (حقیقت میں، ٹیکہ کاری سے پہلے کے عمل کا تنقید بھی کیا گیا ہے)۔ ٹیکہ کاری کی تنقیدیں مختلف پوزیشن تک پہنچ چکی ہیں، بشمول انگلینڈ اور یو ایس میں 1800 کی نصف دہائی میں چیچک کے ٹیکے کی مخالفت، اور اینٹی ویکسینیشن انجمنوں کا وجود؛ اور تازہ ترین ٹیکہ کاری تنازعات جیسے کہ خناق، کزاز اور کالی کھانسی (DTP) کی مامونیت کی ٹیکہ کاری سے متعلق تنازعات، خسرہ، گلسوئے اور روبیلا (MMR) ویکسین، اور مرکری پر مشتمل پریزرویٹیو کا استعمال جس کو تھیمیروسل کہا جاتا ہے۔

انگلینڈ میں چیچک اور اینٹی ویکسینیشن انجمنیں

وسیع پیمانے پر چیچک کی ٹیکہ کاری کی شروعات 1800 کی شروعاتی دہائی میں شروع ہوئی، ایڈوارڈ جینر کے جدری البقر تجربات کے بعد، جس میں اس نے دکھایا کہ وہ ایک بچے میں جدری البقر کے آبلہ کے مواد سے انفیکشن پیدا کرنے کے بعد وہ اسے چیچک سے محفوظ کر سکتا ہے۔ جینر کے آئيڈیاز اس کے وقت میں انوکھے تھے، اور اسے فورا عوام کے تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تنقید کی معقولیت مختلف تھی، اور اس میں صفائی، مذہبی، سائنسی اور سیاسی اعتراضات شامل تھے۔

کچھ والدین کے لئے، چیچک کی ٹیکہ کاری خود خوف اور احتجاج کا سبب بن گئی۔ اس میں شامل تھا کسی بچے کے بازو پر فلیش ڈالنا، اور کسی ایسے فرد کے آبلے کا سیالہ داخل کرنا جس کو ایک ہفتے پہلے ٹیکہ دیا گیا ہو۔ اعتراض کرنے والے کچھ لوگوں، بشمول مقامی پادری، کا ماننا تھا کہ ٹیکہ "عیسائیت" کے خلاف ہے کیونکہ یہ ایک جانور سے ماخوذ تھا۔ [3] ٹیکہ کی مخالف کرنے والوں دیگر لوگوں کے لئے، چیچک ٹیکہ کے ساتھ ان کی غیر اطمینانی نے دوا میں اور بیماری کے پھیلاؤ کے بارے میں جینر کے آئیڈیاز پر غیر اعتمادی کی عکاسی کی۔ ٹیکہ کی تاثیر پر شبہ کرنے والے کچھ لوگوں نے الزام عائد کیا کہ فضاء میں سڑنے والے مواد کے نتیجے میں چیچک پیدا ہوتے ہیں۔[4] بالآخر، بہت سے لوگوں نے ٹیکہ کاری کی مخالفت اس وجہ سے کی کہ انہیں لگتا تھا کہ اس سے ان آزادی کی خلاف ورزی ہوئی ہے، یہ ایک ایسا تناؤ تھا جو اس وقت مزید برتر ہو گیا جب حکومت نے لازمی ٹیکہ پالیسیاں تیار کیں۔ [3]

1853 کے ٹیکہ کاری قانون نے 3 مہینے تک کے بچوں کے لئے ٹیکہ کاری کو لازمی قرار دیا اور 1867 کے قانون نے اس عمر کو بڑھا کر 14 سال تک کردیا، اور ٹیکہ کاری سے انکار پر جرمانہ شامل کیا۔ ان شہریوں کی طرف فورا ان قوانین کی مخالفت کی گئی جو اپنے اور اپنے بچوں کے اجسام کے کنٹرول کے حق کا مطالبہ کررہے تھے۔[3] لازمی قوانین کے ردعمل میں ٹیکہ کاری مخالف انجمن اور ٹیکہ کاری کو لازمی قرار دیئے جانے کی مخالفت کرنے والی انجمن وجود میں آئی اور متعدد اینٹی ویکسینیشن جرائد کو ظہور ہوا۔[2]   

لیسیسٹر شہر ٹیکہ مخالف سرگرمی کا ایک خاص گڑھ تھا اور بہت سی ٹیکہ مخالف ریلیوں کی آماجگاہ تھا۔ مقامی اخبار میں ایک ریلی کے بارے میں بیان کیا گیا: "ایک نوجوان ماں اور دو جوان افراد کے ساتھ چلنے کے لئے ایک بینر تلے ایک محافظ دستہ تشکیل دیا گیا، ان میں سبھوں نے اپنے بچوں کو ٹیکہ دلوانے کے مخالفت کرتے ہوئے اپنے آپ کو پولس کے حوالے کرنے اور گرفتاری دینے کا عزم مصمم کر لیا تھا۔۔۔ان تینوں کے ساتھ ایک بڑی بھیڑ جمع ہو گئی۔۔۔ ان کے لئے نعرے لگائے گئے، جس کی وجہ سے ان میں ایک نیا جوش پیدا ہو گیا اور وہ پولس سیل میں داخل ہو گئے۔"[5] 1885 کا لیسیسٹر احتجاج مارچ اینٹی ویکسینیشن کے مشہور احتجاجات میں سے ایک تھا۔ ٹیکہ کی مخالفت کرنے والے 80,000-100,000 لوگوں نے ساتھ میں بینر، بچے کا ایک تابوت اور جینر کا ایک پتلا لیکر ایک وسیع مارچ نکالی۔[3]

ایسے احتجاجات اور ٹیکہ کی عام مخالفت کی وجہ سے ٹیکہ کاری کا مطالعہ کرنے کے لئے ایک کمیشن وجود میں آیا۔ 1896 میں کمیشن نے چیچک کے خلاف ٹیکہ کاری کا فیصلہ کیا، لیکن ٹیکہ کاری کی ناکامی کی وجہ سے جرمانے کو ہٹانے کا مشورہ دیا۔ 1898 کے ٹیکہ کاری قانون نے جرمانے کو ہٹا دیا اور ایک "اخلاقی عذر" کی دفعہ شامل کیا، تا کہ وہ والدین جن کو ٹیکہ کاری کی سلامتی یا تاثیر پر بھروسہ نہیں ہے وہ ایک استثناء سرٹیفیکیٹ حاصل کر سکے۔[2]

چیچک اور دنیا بھر میں اینٹی ویکسینیشن جذبات

جنوبی ایشیاء میں، چیچک کی ٹیکہ کاری کے تئیں مزاحمت عالمی ادارہ صحت کے چیچک کا خاتمہ کرنے والے پروگرام کے دوران 1973 اور 1975 کے بیچ اپنے زور پر تھا۔ اینٹی ویکسینیشن کوششوں کو ان مدت کے دوران ہوا ملی جب بیماری کا واقعہ خاص طور سے کم سے کم تھا، کیونکہ بیماری کو شکست مل رہی تھی۔ جنوب مشرقی ایشیاء میں، خاص طور سے انڈیا میں، سرکاری حکمرانوں کو محسوس ہوا کہ یہ بات نہایت ہی اہم ہے کہ یہ چیچک[6] کے کیس والا آخری ملک نہ رہ جائے۔ ملکی طبی اہلکاروں کو دباؤ کا احساس ہوا اور انہوں نے یورپ اور امریکہ میں اپنے ہم رتبہ افراد کے ساتھ میل کھانے کی کوشش کی، جو کچھ برسوں سے چیچک سے آزاد تھا۔ صحت اور کمیونٹی کے لیڈران کی مستعد کوششوں کی وجہ سے، چیچک کی ٹیکہ کاری کی مہم کامیاب رہی۔

خناق، کزاز اور کالی کھانسی (DTP) کی ویکسین کا تنازعہ                                      

اینٹی ویکسینیشن پوزیشن اور ٹیکہ کاری تنازعات ماضی تک ہی محدود نہیں ہے۔ 1970 کی نصف دہائی میں، DTP مامونیت کی سلامتی سے متعلق ایک بین الاقوامی تنازعہ یورپ، ایشیاء اور آسٹریلیا میں پیدا ہوا۔ ہندوستان اور پاکستان میں، مذہب اور عقا‏ئد پر مبنی بہت سی تنظیموں نے DTP ویکسینیشن کے مہمات کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے اس ٹیکہ کو نقصان دہ، غیر ضروری اور صحت کو کھوکھلا کرنے کے لئے امریکہ کی ایک چال قرار دیا ہے۔

اسی طرح، برطانیہ (یوکے) کے اندر، لندن میں بیمار بچوں کے گریٹ اورمونڈ اسٹریٹ اسپتال سے حاصل ہونے والی ایک رپورٹ کے ردعمل میں مخالف سامنے آئی، اس الزام کے ساتھ کہ DTP کی ٹیکہ کاری کے بعد 36 بچے نیورولوجیکل حالات سے دوچار ہو چکے ہیں۔[7]ٹیلی ویژن کے دستاویزی فلموں اور اخباروں کے رپورٹ نے اس تنازعہ کی طرف عوام کی توجہ مبذول کی۔ ایک وکالتی گروپ، اسوسی ایشن آف پیرینٹس آف ویکسن ڈیمیجڈ چلڈرین (APVDC)، نے بھی DTP کے ممکنہ جوکھم اور نتائج میں عام مفاد کو تحریک دی۔

ٹیکہ کاری کی شرحوں میں اضافہ اور کالی کھانسی کے تین بڑی وباؤں کے ردعمل میں، ٹیکہ کاری اور مامونیت کے جوائنٹ کمیشن (JCVI)، یو کے میں ایک آزاد مشاورتی کمیٹی نے مامونیت کی سلامتی کی تصدیق کی۔ اس کے باوجود، عوام کے اندر کنفیوژن جاری رہا، کچھ تو طبی پیشہ کے اندر متنوع رائے کی وجہ۔ مثلاً، 1970 کی آخری دہائی میں یو کے کے اندر طبی فراہم کاروں کے سروے میں پایا گيا کہ وہ سبھی مریضوں کو ٹیکہ کاری کی مامونیت تجویز کرنے میں جھجھک محسوس کررہے ہیں۔[8] مزید یہ کہ، صاف گو فیزیشین اور ٹیکہ کے مخالف کار، گورڈون اسٹیوارٹ، نے DTP کی وجہ سے ہونے والے نیورولوجیکل عوارض سے جڑی کئي کیس رپورٹیں شائع کی جس کی وجہ سے ایک اضافی مباحثہ وجود میں آیا۔ اس کے جواب میں، JCVI نے نیشنل چائلڈ ہوڈ انسیپھالوپیتھی مطالعہ (NCES) جاری کیا۔ مطالعہ میں 2 اور 36 مہینے کے درمیان ہر بچے کی پہچان کی گئی جو نیورولوجیکل بیماری کی وجہ سے یو کے میں داخل اسپتال تھے، اور اس بات کا اندازہ لگایا گیا کہ آیا ٹیکہ کاری کا تعلق جوکھم میں اضافے سے ہے یا نہیں۔ NCES نتائج نے اشارہ کیا کہ جوکھم بہت ہی کم تھا، اور اس ڈیٹا سے ایک ملکی ٹیکہ کاری مہم کو تائید حاصل ہوئی۔[9] APVDC کے ممبران تسلیم اور معاوضہ کے لئے کورٹ میں بحث کرتے ہیں، لیکن DTP کی مامونیت کے نقصان سے جڑے ثبوت کے فقدان کی وجہ سے انہیں یہ نہیں مل سکا۔

خسرے، گلسوئے، اور روبیلا (MMR) ویکسین کا تنازعہ


DTP تنازعہ کے تقریبا 25 سالوں بعد، انگلینڈ دوبارہ اینٹی ویکسینیشن سرگرمی کا مقام تھا، اس مرتبہ MMR ٹیکہ کے بارے میں۔

1998 میں، برٹش ڈاکٹر انڈریو ویک فیلڈ نے فضلاتی بیماری، خود استغراقی اور MMR ٹیکہ کے درمیان ایک ممکنہ رشتہ کی مزید تحقیق کی سفارش کی۔ [10] کچھ برسوں بعد، ویک فیلڈ نے الزام لگایا کہ ٹیکہ کو استعمال میں لانے سے پہلے صحیح طریقے سے اس کو ٹسٹ نہیں کیا گیا ہے۔ [11] میڈیا نے اس کو خوب اچھالا، جس کے نتیجے میں عوام میں ٹیکہ کی سلامتی سے متعلق خوف اور کنفیوژن پیدا ہو گیا۔ [12] لیسیٹ وہ رسالہ جو ویک فیلڈ کی طرف سے شائع ہوتا تھا اس نے2004 میں بتایا اسے پیپر کو نہیں کرنا چاہئے تھا۔[13] جنرل میڈیکل کاونسل، ایک یوکے میں ڈاکٹروں کا ایک آزاد ریگولیٹر نے پایا کہ ویک فیلڈ کے پاس ایک "شدید مفاد کا ٹکراؤ" ہے۔ ایک قانون بورڈ کے ذریعہ انہیں یہ پتہ لگانے کے لئے ادائیگی کی گئی کہ ان والدین کے قانونی مقدمہ کی تائید میں کوئی ثبوت ہے جن کا ماننا ہے کہ ٹیکہ نے ان کے بچوں کو نقصان پہنچایا ہے۔[13] 2010  میں، لیسیٹ نے رسمی طور پر اس وقت پیپر واپس لے لیا جب برٹش جنرل میڈیکل کاونسل مختلف ایریا میں ویک فیلڈ کے خلاف فیصلہ سنایا۔[14]ویک فیلڈ کو گریٹ برٹش کے میڈیکل رجسٹر سے خارج کردیا گیا اور اب وہ وہاں طبی کام انجام نہیں دے سکتے ہیں۔[15] جنوری 2011 میں، BMJ نے صحافی برائن ڈیئر کی متعدد رپورٹ شائع کیں اور اس ثبوت کا وضاحت کی کہ فیک فیلڈ نے ڈیٹا کے ساتھ جعل سازی کرکے سائنسی فریب کاری کی ہے اور یہ بھی کہ ویک فیلڈ کو متعدد طریقے سے اپنی تحقیقات سے مالی منافع کی امید ہے۔ [16]

MMR ٹیکہ کی سلامتی کا اندازہ لگانے کے لئے بہت سارے تحقیقی مطالعات انجام دیئے گئے ہیں اور ان میں سے کسی کو بھی ٹیکہ اور خود استغراقی کے درمیان تعلق نہیں ملا۔[17]

WHO ایسٹرن میڈیٹیرانین ریجن (EMR) نے 2010 تک خسرہ کا خاتمہ کرنے کے لئے 1997 میں ایک قرارداد پاس کیا۔ اس ہدف کی طرف بہت زیادہ پیش رفت ہوئی: خسرہ کی ٹیکہ کاری کی شرحوں میں اضافہ ہوا، اور خسرہ کے واقعہ میں 77 فیصد کی کمی آئی۔ تاہم، افغانستان، پاکستان، صومالیہ، سوڈان اور یمن میں 2011-2013 میں خسرہ کے کیس نے پھر سر اٹھایا، اور خسرہ کے واقعات دوگنا ہو گئے۔ ان میں کچھ کیس، جو ابھی واقع ہو رہے ہیں وہ پاکستان اور دیگر ممالک میں غالباً ٹیکہ مخالف مہم کی وجہ سے ہیں۔ تاہم، ملک کے محکمے صحت خسرہ کی وباء پر قابو پانے کے لئے بڑے قدم اٹھا رہے ہیں۔ [18]

"ہمارے ٹیکے کو گرین کریں"

تھیمروسول، ایک مرکری جس میں ایسا مرکب ہوتا ہے جس کا استعمال ٹیکوں میں ایک محافظی کیمیا کے طور پر کیا جاتا ہے،[19] وہ بھی ایک ٹیکہ کاری اور خود استغراقی تنازعہ کا مرکز رہا ہے۔  اگرچہ اس بات کو کوئی واضح علمی ثبوت نہیں ہے کہ ٹیکوں میں موجود تھیمروسل کی تھوڑی مقدار نقصان پہنچا سکتی ہے، لیکن 1999 میں، یو ایس میں صحت عامہ کی بڑی تنظیمیں اور ٹیکہ کے صنعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایک احتیاطی تدبیر کے طور پر تھیمروسل کو کم کیا جانا چاہئے یا ٹیکوں سے ہٹا دیا جانا چاہئے۔ [19] 2001 میں، انسٹی ٹیوٹ آف میڈیسین کا مامونیت کی سلامتی کا جائزہ لینے والی کمیٹی نے ایک رپورٹ جاری کی اور اس میں کہا کہ ان دعووں کو صحیح یا غلط ثابت کرنے کے لئے کوئی معقول ثبوت نہیں ہے کہ بچوں کے ٹیکوں میں موجود تھیمروسل خود استغراقی، توجہ کی کمی کی بیش حساسیت یا کلام یا زبان میں دیری کا سبب بنتا ہے۔[20] کمیٹی کے ذریعہ پیش کردہ ایک مزید تازہ ترین رپورٹ "تھیمروسل پر مشتمل ٹیکوں اور خود استغراقی کے درمیان ایک عارضی تعلق کے استرداد کی طرف داری کرتی ہے۔"[21] اس دریافت کے ساتھ بھی، کچھ تحقیق کار اب بھی تھیمروسل اور خود استغراقی کے درمیان ممکنہ ربط کا مطالعہ کرنے میں لگے ہیں۔[22] آج، تھیمروسل کا استعمال زیادہ تر بچوں کے ٹیکوں میں نہیں کیا جاتا ہے، اگرچہ مختلف خوراک والی شیشیوں میں دستیاب انفلوئنزا ٹیکہ کی کچھ قسموں میں محافظی کیمیا ہو سکتی ہے۔[23]

علمی ثبوت کے باوجود، تھیمروسل سے متعلق خدشات کی وجہ سے "ہمارے ٹیکوں کو ہرا بھرا کریں" مہم وجود میں آئی ہے، ایک ایسی تحریک جس کا مقصد ہے ٹیکوں سے "ٹاکسن" کو دور کرنا، اس خوف سے کہ یہ مواد خود استغراقی کا سبب بنتے ہیں۔ مشہور شخص جینی میک کارتھی، ان کا ایڈووکیسی گروپ جنریشن ریسکیو، اور آرگنائزیشن ٹاک اباوٹ کیورنگ آٹزم (TACA) نے ان کوششوں کی سربراہی کی۔ [24]

اختتامیہ

اگرچہ وقت بدل گیا ہے، لیکن جذبات اور پختہ عقائد - چاہے فلسفیانہ، سیاسی یا روحانی ہو - جو ٹیکہ کی مخالفت کے پس پردہ ہے وہ مقابلتا اس وقت سے اب بھی موجود ہے جب ایڈوارڈ جینر نے ٹیکہ کاری کو پیش کیا۔

آخری بار 31 مارچ 2017 کو اپڈیٹ کیا گيا


ذرائع

1.     بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے لئے مراکز (CDC)۔ Ten great public health achievements -- United States, 1900-1999MMWR. Atlanta, GA: بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے لئے مراکز (CDC)؛ 1999؛48 (12): 241-243۔ 14 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

2.     Wolfe RM, Sharpe LK. Anti-vaccinationists past and present. BMJ. 2002d;325:430-432.

3.     Durbach N. They might as well brand us: Working class resistance to compulsory vaccination in Victorian England. The Society for the Social History of Medicine. 2000;13:45-62.

4.     Porter D, Porter R. The politics of prevention: Anti-vaccination and public health in 19th century England. Medical History. 1988;32:231-252.

5.     Williamson S. Anti-vaccination leagues. Archives of Diseases in Childhood. 1984;59:1195-1196.

6.     Saint-Victor DS, & Omer SB. Vaccine refusal and the endgame: walking the last mile first. Philos Trans R Soc Lond B Biol Sci. 2013;368(1623), 20120148.

7.     Kulenkampff M, Schwartzman JS, Wilson J. Neurological complications of pertussis inoculation. Arch Dis Child. 1974;49:46-49.

8.     Baker J. The pertussis vaccine controversy in Great Britain, 1974-1986. Vaccine. 2003;21:4003-4011.

9.      Miller DL, Ross EM. National childhood encephalopathy study: An interim report. Br Med J. 1978;2:992–993.

10.  Wakefield A. Measles, mumps, and rubella vaccine: Through a dark glass, darkly. Adverse drug reactions and toxicological reviews. 2001;19:265-283.

11.  Wakefield A, Murch SA, A., Linnell J, Casson D, Malik M. Ileal-lymphoid-nodular hyperplasia, non specific colitis, and pervasive developmental disorder in children. The Lancet. 1998;351:637-641.

12.  Hackett AJ. Risk, its perception and the media: The MMR controversy. Community Practitioner. 2008;81:22-25

13.  A statement by the editors of the Lancet. Lancet. Published online 23/3/2004. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

14. Dyer C. Lancet retracts Wakefield's MMR paper. BMJ. 2010;340:c696.

15. Triggle N. MMR doctor struck from register. BBC News. 24/5/2010. 

16.  Deer B. How the case against the MMR vaccine was fixed. BMJ. 2011;342:c5347.  Deer B. How the vaccine crisis was meant to make money. BMJ.2011;342:c5258. Godlee F, Smith J, Marcovitch H. Wakefield's article linking MMR vaccine and autism was fraudulent. BMJ. 2011;342:c7452.  31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

17.  Stratton K, Gable A, Shetty P, McCormick M. Immunization safety review: Measles-mumps-rubella vaccine and autism. Washington, DC: Institute of Medicine, National Academies Press; 2001. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

18.  Naouri B, Ahmed H, Bekhit R, Teleb N, Mohsni E, & Alexander JP. Progress toward measles elimination in the Eastern Mediterranean RegionJournal of Infectious Diseases. 2015;204(suppl 1), S289-S298. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

19. بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے لئے مراکز (CDC)۔ Information about thimerosal. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

20.  Institute of Medicine (IOM). مامونیت کی سلامتی کا جائزہ: Thimerosal - containing vaccines and neurodevelopmental disorders. Washington, DC: National Academies Press; 2001. 14 جون 2016 کو رسائی کی گئی۔

21.  Institute of Medicine (IOM). Immunization safety review: Vaccines and autism. Washington, DC: National Academies Press; 2004. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

22.  بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے لئے مراکز (CDC)۔ Centers for Disease Control and Prevention (CDC). Vaccine Safety Datalink (VSD) Project Priority Studies.  31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

23.  بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے لئے مراکز (CDC)۔ Frequently Asked Questions about Thimerosal (Ethyl Mercury). 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

24.  Kluger J. Jenny McCarthy on autism and vaccinesTime Magazine. 2009.  31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔