ہیضہ

ہیضہ آنت کا ایک شدید انفیکشن ہے جو بیکٹیریم Vibrio cholerae والی غذا اور پانی کے استعمال سے لاحق ہوتا ہے۔ پوری دنیا میں ہر سال ہیضہ کے 1.4 سے لیکر 4.3 ملین معاملات سامنے آتے ہیں اور تقریبا 28,000 سے لیکر 142,000 لوگوں کی ہیضہ سے موت ہوتی ہے۔

علامات اور وجوہاتی عامل

ہیضہ ایک نہایت ہی زہر آلود بیماری ہو سکتی ہے۔ یہ بچوں سمیت بالغان کو بھی لاحق ہوتی ہے اور اگر اس کا علاج نہیں کیا جائے تو چند گھنٹوں کے اندر موت کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم ہیضہ سے ہونے والے زیادہ تر انفیکشن (80 فیصد) میں، متاثرہ فرد کو کوئی علامات لاحق نہیں ہوتی ہیں۔ جن لوگوں کو ہیضہ کی علامات لاحق ہوتی ہیں ان میں سے زیادہ تر لوگوں کو صرف ہلکی علامات کا تجربہ ہوگا۔ تاہم، جن لوگوں کو علامات لاحق ہوتی ہیں ان میں سے بیس فیصد لوگوں کو مزید سنگین علامات لاحق ہوں گی، بشمول بکثرت پتلے دست، قے اور ٹانگوں میں اینٹھن۔

وی۔ کولیرا کی زد میں آنے کے بعد علامات دو گھنٹے سے لیکر پانچ دنوں کے اندر ظاہر ہو سکتی ہیں۔ 

ترسیل

ہیضہ ان غذا کو کھانے یا ایسے پانی کو پینے سے منتقل ہوتا ہے جن میں  وی کولیرا موجود ہوں۔ آلودگی اس وقت واقع ہوتی ہے جب کسی بیمار فرد کا فضلاتی مواد غذا یا پانی سپلائی کے رابطہ میں آجائے۔ اگرچہ ہیضہ میں مبتلا فرد کو کوئی علامات لاحق نہ ہوں، لیکن انفیکشن کے بعد 1 سے 10 دنوں تک اس فرد کے پاخانہ میں جراثیم موجود ہوتے ہیں۔ یہ جراثیم واپس مادی ماحولیات میں داخل ہو سکتے ہیں، اور ممکنہ طور پر دیگر لوگوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

وہ علاقے جہاں ماحولیات کا نظم و نسق بہت ناقص ہے یا جہاں زیادہ بھیڑ بھاڑ ہے، وہاں ہیضہ کے جوکھم میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ اس بات کو یقینی بنانا کہ غذا اور پانی کی سپلائی صاف ہوں اور ان کا نظم و نسق بہتر ہو ہیضہ کے پھیلاؤ کی روک تھام کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔ پائپ پانی سسٹم، جراثیم سے پاک جگہیں، پانی کا فلٹریشن، پانی کا محفوظ اسٹوریج کنٹینر اور پانی کے مناسب بہاؤ نے ہیضہ کے پھیلاؤ کی روک تھام میں مدد کی ہے۔

ہیضہ خاص طور سے براہ راست ایک فرد سے دوسرے فرد میں نہیں پھیلتا ہے۔

علاج اور نگہداشت

مناسب علاج اور نگہداشت موصول ہونے پر ہیضہ کے تقریبا 80 فیصدی معاملات کا کامیابی کے ساتھ علاج کیا جا سکتا ہے۔ اس میں اورل ری ہائیڈریشن سالٹ اور الیکٹرولائٹس شامل ہے۔ پینے کا صاف اور محفوظ پانی اور مناسب صفائی کی فراہمی اس مہلک بیماری اور پانی سے پیدا ہونے والی دیگر بیماریوں پر قابو پانے کے لیے بہت اہم ہے۔

جو لوگ ہیضہ کی وجہ سے بیمار ہوتے ہیں ان کا علاج منہ کے بذریعہ لی جانے والے نمی پیدا کرنے والے سیال کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے۔ مریض کے جسم میں شدید پانی کی کمی ہونے پر درون رگ لئے جانے والے سیال کو سرایت کیا جا سکتا ہے۔

علامات کی شدت کو کم کرنے کے لیے انٹی بایوٹکس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، ان علاقوں میں جہاں ہیضہ کے بہت سے کیس ہیں عام طور پر وسیع پیمانے پر انٹی بایوٹکس کے استعمال کی سفارش نہیں کی جاتی ہے۔ انٹی بایوٹکس بیماری کے پھیلاؤ کو نہیں روکتی ہے، اور ان کی وجہ سے وی کالیرا بیکٹریا کے جراثیم مخالف مزاحمت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

پیچیدگیاں

ہیضہ کے سنگین معاملات میں، ڈائریا اتنا زیادہ ہو سکتا ہے کہ جسم میں پانی کی سخت کمی ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے آنکھیں دھنس سکتی ہیں، جلد سرد پڑ سکتی ہے، جلد کی لچک میں کمی آسکتی ہے، ہاتھوں اور پیروں میں جھریاں پڑ سکتی ہیں اور جلد کا رنگ ہلکا نیلا ہو سکتا ہے۔

اگر مریض کو علاج نہ ملے تو علامات کی شروعات کے چند ہی گھنٹے کے اندر موت واقع ہو سکتی ہے۔

دستیاب ٹیکے

دنیا بھر میں، عالمی ادارہ صحت (WHO) کے دو پہلے سے کوالیفائڈ منہ کے بذریعہ لئے جانے والے ٹیکے (OCV) دستیاب ہیں: Dukoral اور Shanchol/mORCVax۔ Dukorol کی دو خوراکیں بالغان کو اور ان بچوں کو دی جاتی ہے جن کی عمر 6 سال سے زیادہ ہو اور تین خوراکیں ان بچوں کو بھی دی جاتی ہیں جن کی عمر 2 سال سے زیادہ ہو یا 6 سال سے کم ہو۔ Shanchol کی مامونیت کے شیڈول میں شامل ہیں 2 خوراکیں جو 1 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو 2 ہفتے کے وقفے کے ساتھ دی جاتی ہیں۔

ٹیکوں کے لحاظ سے یہ ٹیکے دیئے جانے کے 4 مہینہ بعد سے لیکر 5 سال تک ٹیکے کے مطابق طبی طور پر شدید ہیضہ سے تقریباً 65 فیصد-85 فیصد تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

ٹیکہ کاری کی سفارش

ہیضہ کی ٹیکہ کاری سے متعلق WHO کی پوزیشن یہ ہے کہ مامونیت ایک قلیل مدتی، فوراً حفاظتی اثر فراہم کر سکتی ہے جبکہ پانی اور صفائی کو بہتر بناکر طویل مدتی معالجہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے مطابق، WHO کا مشورہ ہے کہ ہیضہ کے ٹیکہ کا استعمال ان علاقوں میں کیا جائے جہاں بیماری وبائی شکل میں ہو اور ان علاقوں میں بھی اس کے استعمال پر غور کیا جائے جہاں بیماری پھیلنے کا اندیشہ ہو۔

ہیضہ کی بیماری والے ممالک میں، WHO یہ مشورہ دیتا ہے کہ ٹیکہ کاری کا ہدف ان علاقوں اور ان لوگوں پر ہونا چاہیے جہاں اور جن پر اس بیماری کا جوکھم زیادہ ہو۔ زیادہ جوکھم والے افراد میں عام طور پر چھوٹے بچے شامل ہیں۔

 

چھٹیاں منانے والے اور تعاون کا کام کرنے والے افراد جو ان علاقوں میں سفر کررہے ہیں جہاں ہیضہ ہے ان کو ٹیکہ لینے کی سفارش کی جا سکتی ہے۔

 


وسائل

مراکز برائے ضبط و انسداد امراض۔ Cholera.  28/3/2017 2 کو رسائی کی گئی۔.

مراکز برائے ضبط و انسداد امراض۔ Cholera vaccines. 28/3/2017 کو رسائی کی گئی۔.

مراکز برائے ضبط و انسداد امراض۔ Infectious diseases related to travel: cholera Infectious diseases related to travel: cholera. 28/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

عالمی صحت تنظیم۔ Cholera fact sheet. 28/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

عالمی صحت تنظیم۔ Cholera vaccines: WHO position paper (450 KB). March 2010. 28/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

PDF پڑھنے کے لیے، Adobe Reader ڈاون لوڈ کریں اور انسٹال کریں.

 

آخری بار28 مارچ 2017 کو اپ ڈیٹ کیا گي