ایبولا وائرس بیماری اور ایبولا ٹیکے

ایبولا وائرس کی بیماری (ای وی ڈی) مغربی افریقہ کے اندر 2014 میں غیر معمولی وبائی سطحوں پر ابھر کر سامنے آئی۔ جبکہ سابقہ ای وی ڈی کے پھیلاؤ پر تیزی سے اور اچھی طرح سے قابو پایا گيا، لیکن یہ وباء ان بھیڑ بھاڑ والے شہری علاقوں میں پھیل گئی جہاں کئی مہینوں تک بغیر روک ٹوک کے اس بیماری کی منتقلی جاری رہی۔

ماضی کے حالات پر مشتمل تجزیہ اس بات کا اشارہ کرتا ہے کہ اس بیماری کا پہلا کیس 2013 کے آخر میں واقع ہوا ہوگا۔ گنی کے ایک چھوٹے گاؤں میں ایک 18 مہینے کا لڑکا بیمار پڑ گیا اور اور بعد میں دسمبر کے مہینے میں اس کی موت ہوگئی اور بیماری پھیلنا شروع ہو گئی۔ بعد میں مارچ 2014 کے بعد سے بیماری کا سبب بننے والے عامل کی نشاندہی ایبولا وائرس کے طور پر ہوئی۔ 2014 کے موسم خزاں میں، وباء سیرا لیون، گنی اور لائبیریا میں جاری تھی۔ نائجیریا اور سینیگل میں پڑوسی ممالک سے اشیاء کی درآمدگی سے متعلق تھوڑا پھیلاؤ واقع ہوا، لیکن وہاں صحت عامہ کے حکام نے اس بیماری کے پھیلاؤ پر قابو پا لیا۔ مالی سے متعدد کیس اور موت کی اطلاعات ملیں، لیکن بیماری کا پھیلاؤ محدود تھا۔ اسپین، برطانیہ، اٹلی اور ریاستہائے متحدہ میں کیسز واقع ہوئے اور ریاستہائے متحدہ میں ایک موت واقع ہوئی۔ مجموعی طور پر، 13 اپریل 2016 تک، 11,325 تصدیق شدہ، ممکنہ اور مشتبہ اموات واقع ہوئیں۔ کل ای وی ڈی کے کیسز کی تعداد 28,652 تک پہنچ گئی۔

بیماری کی منتقلی مغربی افریقہ کے ممالک تک محدود رہی، لیکن یورپ اور ریاستہائے متحدہ کے نگہداشت صحت کے مراکز میں کچھ منتقلیاں واقع ہوئیں۔ یو۔ایس کی دو نرسیں اور ایک ہسپانوی نرس ان مریضوں کے رابطے میں آنے سے بیمار پڑ گئیں جن کو مغربی افریقہ میں یہ بیماری لاحق ہوئی تھی۔ نرسیں صحت یاب ہو گئیں۔

ایبولا وائرس کی بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے، لیکن کسی اسپتال کے ماحول میں معاون نگہداشت کی وجہ سے مریض کی بقاء کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ مزید یہ کہ، روبہ صحت مریضوں کے پلازما ٹرانسفیوژن اور ایک تجرباتی انٹی باڈی دوا کا استعمال مخصوص مریضوں کے علاج میں کیا گيا ہے۔ اس وقت یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ کیا اس علاج کا ان مریضوں کی بیماری کے کورس پر کوئی اثر ہوا جنہوں نے اس کو لیا۔

ایبولا وائرس کی پہچان پہلی بار 1976 میں کی گئی۔ اس سال کے آخر تک، وائرس کے دو متعلقہ شکلوں کا نام ایبولا زائرے اور ایبولا سوڈان رکھا گيا دیگر تین شکلوں کی موجودگی کی خبر ہے۔ ٹیکہ ترقیات کی شروعات 1970 کی دہائی  میں ہوئی: گنی کے سوروں میں غیر فعال ایبولا ٹیکہ کی ایک جانچ کے نتائج 1980 میں  لینسیٹ میں شائع ہوئے۔ چونکہ ای وی ڈی کا پھیلاؤ شاذو نادر ہے اور 2014 تک فورا اس پر قابو پا لیا گيا، اس لیے تجارتی ٹیکہ تیار کرنے والوں نے طبی آزمائش کے ذریعہ ٹیکوں کو آگے بڑھانے کی تھوڑی ہنگامی ضرورت کا اظہار کیا ہے۔ 2014 میں اس میں تبدیلی آئی: ماضی میں جانوروں پر ٹسٹ کئے گئے متعدد ٹیکے پر مرحلہ 1 کے طبی آزمائش میں تیزی سے کام چل رہا ہے۔

ClinicalTrials.gov، ٹرائل کی ایک بین الاقوامی رجسٹری ہے جس میں انسانی موضوعات شامل ہیں، ایبولا ٹیکے کے جاری متعدد ٹرائل کی فہرست موجود ہے۔ ایبولا زائرے اس وائرس کی شکل ہے جو 2014 میں بیماری کے پھیلاؤ کے لیے ذمہ دار ہے؛ اس کے مطابق، وہ سبھی ٹیکے جن کو ترقی دی جارہی ہے اس شکل کی روک تھام کے لیے تیار گئے ہیں یہ ٹیکے ایبولا زائرے کےلیے کام کرتے ہیں، تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ ایک ہی اصول دیگر شکلوں پر لاگو ہو۔

بیماری کے پھیلاؤ کے درمیان، ٹیکہ کے ٹرائل میں شرکت کرنے والے بہت سے افراد وہ تھے جو اس بیماری سے دوچار ہونے کے شدید جوکھم میں تھے، جیسے کہ ہیلتھ کیئر ورکرس اور ان لوگوں کے کنبہ کے افراد جن کو ای وی ڈی لاحق تھا۔

جب بیماری کے پھیلاؤ کا مسئلہ حل ہونا شروع ہوا تو ٹیکوں کی طبی آزمائش جاری تھی، اور تحقیق کار اور عوامی صحت کے اہلکار امید کررہے تھے کہ بیماری کے نئے پھیلاؤ کی صورت میں ای وی ڈی ٹیکہ کو منظوری ملے گی اور وہ تیار رہے گا۔


وسائل

مراکز برائے ضبط و انسداد امراض۔ Outbreaks chronology: Ebola virus disease.   جون کو 2014 رسائی کی گئی۔ کو رسائی کی گئی۔

Gallagher J. Millions of Ebola vaccine doses by 2015, WHO says. BBC. October 24, 2014.   جون کو 2014 رسائی کی گئی۔ کو رسائی کی گئی۔

Honigsbaum M. Ebola: the race to find a vaccine. The Guardian. October 25, 2014.   جون کو 2014 رسائی کی گئی۔ کو رسائی کی گئی۔

Lupton HW, Lamber RD, Bumgardner DL, Moe JB, Eddy GA. Inactivated vaccine for Ebola virus efficacious in guineapig modelLancet. 1980;2(8207): 1294:1295. 14 جون 2016 کو رسائی کی گئی۔

Morello L. Millions of doses of Ebola vaccine to be ready by end of 2015Scientific American. October 27  جون کو 2014 رسائی کی گئی۔

Pollack A. Vaccine trials for Ebola are planned in West AfricaNew York Times. October 23, 2014. مارچ 2017  کو رسائی کی گئی۔

University of Maryland School of Medicine begins Ebola vaccine trial in Mali.  14 مارچ 2017  کو رسائی کی گئی۔

U.S. National Institutes of Health. Phase 1 trial of Ebola vaccine in Mali.  14 مارچ 2017  کو رسائی کی گئی۔

U.S. National Institutes of Health. A study to assess a new Ebola vaccine, cAD3-EBO Z.  14 مارچ 2017 کو رسائی کی گئی۔

عالمی صحت تنظیم۔Origins of the 2014 Ebola Epidemic  14 مارچ 2017 کو رسائی کی گئی۔

آخری بار 14 مارچ 2017 کو اپ ڈیٹ کیا گيا