پرٹوسس (کالی کھانسی)

پرٹوسس، جس کو کالی کھانسی بھی کہا جاتا ہے، ایک نہایت متعدی بیماری ہے جو بورڈیٹیلا سے ہونے والی کالی کھانسی بیکٹیریم کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے۔ یہ بیکٹیریا ایسی زہر آلودگی پیدا کرتے ہیں جو نظام تنفس کے خلیات کے کچھ حصوں کو فالج زدہ کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے نظام تنفس میں سوزش واقع ہو جاتی ہے۔

اگرچہ کالی کھانسی کی ویکسین متعارف کرائے جانے کے بعد دنیا میں کالی کھانسی کے کیس میں حیرت انگیز کمی آئی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں بیماری کا وسیع پیمانے پر پھیلاؤ ہوا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے اندازہ کے مطابق کالی کھانسی کی وجہ سے دنیا بھر میں 2012 میں 89,000 اموات ہوئیں۔

کالی کھانسی کی ابتدائی علامات میں شامل ہیں ناک بہنا، چھینک آنا، اور ہلکی کھانسی، جو ایک عام کھانسی جیسی لگ سکتی ہے۔ ہلکا بخار بھی عام طور پر واقع ہوتا ہے۔ تاہم، کھانسی آہستہ آہستہ مزید سنگین ہو جاتی ہے۔ آخر میں مریض کو کبھی کبھی سخت کھانسی لاحق ہوتی ہے اور اس کے بعد "کتے کے بھونکنے" جیسی آواز نکلتے لگتی ہے جو بیماری کو اس کا عام نام عطا کرتی ہے جب وہ اندر سانس لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب کھانسی کا دورہ واقع ہورہا ہو تو مریض کا رنگ نیلا ہو سکتا ہے۔

کالی کھانسی کو منظر ‏عام پر آنے میں 7 سے 10 دن لگ جاتے ہیں، لیکن اس میں ایک مہینے سے زیادہ بھی لگ سکتا ہے۔ جب پہلی بار علامات کا ظہور ہو جاتا ہے تو بیماری کو اپنی رفتار پکڑنے میں چند ہفتوں سے لیکر مہینوں لگ سکتے ہیں۔

بالغان کے لیے علامات کم سنگین ہو سکتی ہیں، لیکن کالی کھانسی شیرخوار اور چھوٹے بچوں کے لیے نہایت خطرناک ہو سکتی ہے۔

منتقلی

وہ بیکٹیریا جو کالی کھانسی کا سبب بنتے ہیں وہ اس وقت قطروں کی شکل میں ہوا میں پھیل جاتے ہیں جب کوئی بیمار فرد کھانستا یا چھینکتا ہے۔ قریب میں موجود لوگ ان قطروں کے اپنی سانس کے ذریعہ اندر داخل ہونے پر جراثیم سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

اس بیماری سے وابستہ کھانسی بالغ فرد میں اتنی ہلکی ہو سکتی ہے کہ غلطی سے اس کو عام کھانسی سمجھ لیا جاتا ہے۔ تاہم، ہلکی علامات والا بالغ فرد متعدی ہوتا ہے اور آسانی سے اس بیماری کو ان شیرخوار بچوں تک پھیلا سکتا ہے جو اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ ان کو ٹیکہ نہیں لگایا جا سکتا ہے، یا ان افراد تک پھیلا سکتا ہے جن کی مامونیت کمزور ہو گئی ہو۔

علاج اور نگہداشت

کالی کھانسی کا علاج عام طور پر معاون نگہداشت تک محدود ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اینٹی بایوٹکس کا استعمال کیا جاتا ہے؛ تاہم یہ ترجیحی طور پر بورڈیٹیلا سے ہونے والی کالی کھانسی بیکٹیریا کو کسی متاثرہ مریض کے اخراج سے نکالنے کے لیے انجام دیا جاتا ہے، تا کہ دوسروں کو متاثر کرنے کی صلاحیت میں کمی آئے۔ اس بات کا امکان کم ہے کہ اینٹی بایوٹکس علاج بیماری کے کورس کو متاثر کرے گا الا یہ کہ بہت پہلے دیا جائے۔

اینٹی بایوٹکس ان افراد کو دی جا سکتی ہے جو مریض کے رابطہ میں آتے ہیں تاکہ انہیں انفیکشن سے بچایا جا سکے۔

پیچیدگیاں

چھ مہینے سے کم عمر کے بچے خاص طور سے کالی کھانسی کی پیچیدگیوں اور موت کے جوکھم میں ہوتے ہیں۔ پیچیدگیوں میں شامل ہے نمونیا (بیکٹیریائی یا وائرل)، دماغی دورے، یا کان کا انفیکشن، اور جسم میں آبیدگی کی کمی، وغیرہ؛ بالغان میں، کھانسی سے پسلی کا فریکچر ہونا بھی ممکن ہے۔

شیرخوار بچوں کو لاحق ہونے والی ان میں سب سے عام پیچیدگی ہے بی۔کالی کھانسی نمونیا، جو کالی کھانسی سے ہونے والی تقریباً سبھی اموات کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔

دستیاب ٹیکے

کالی کھانسی کے خلاف مامونیت DTaP اور DTwP (خناق، کزاز اور کالی کھانسی) کے ٹیکوں کے کمبینیشن کے ذریعہ بچوں کے لیے دستیاب ہے۔ دیگر کمبینیشن ٹیکے نو عمروں اور بالغان کے لیے دستیاب ہیں۔

ٹیکہ کاری کی سفارشات

WHO اس بات کی سفارش کرتا ہے کہ دنیا کے سبھی شیرخوار بچوں کو کالی کھانسی کی ویکسین دیا جائے۔ ٹیکہ 2 مہینے کی عمر سے شروع کر کے DTaP اور DTwP کی 3 خوراک والے ابتدائی سلسلہ کے طور پر دیا جاتا ہے۔ تقریبا 2 سال کی عمر میں ایک بوسٹر خوراک کی سفارش کی جاتی ہے لیکن 6 سال کی عمر سے پہلے۔ کچھ ممالک میں، نوعمر کو دی جانے والی بوسٹر خوراکوں کی بھی سفارش کی جاتی ہے۔

کالی کھانسی کی ویکسین کا اصل ہدف ہے شیر خواروں میں سنگین کالی کھانسی کے جوکھم کی روک تھام کرنا۔ کالی کھانسی کی ویکسین کی تین خوراکیں شیر خواروں میں اس بیماری کے خلاف 90 فیصد مؤثر ہیں۔

2008 میں، دنیا بھر کے تقریبا 82 فیصدی بچوں کو کالی کھانسی کی ویکسین کی 3 خوراکیں دی گئیں۔ WHO کے مطابق، 2008 میں، تقریبا 687,000 اموات کو بین الاقوامی طور پر کالی کھانسی ٹیکہ کاری کے پروگرام کی وجہ سے روکا جا سکا۔


وسائل

مراکز برائے ضبط و انسداد امراض۔ Pertussis. Epidemiology and Prevention of Vaccine-Preventable Diseases. Atkinson W, Wolfe S, Hamborsky J, McIntyre L, eds. 13th ed. Washington DC: Public Health Foundation, 2015.  (730 KB). 20/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

Paddock CD, Sanden GN, Cherry JD, et. al. Pathology and pathogenesis of fatal Bordetella pertussis infection in infants. Clinical Infect Dis. 2008; 328-38.

عالمی ادارہ صحت۔ . Pertussis. Immunization, vaccines, and biologicals. 20/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

عالمی ادارہ صحت۔ Pertussis vaccines: WHO position paper. August 2015. (150KB). 20/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

 

Pdf فائل پڑھنے کیلئے Adobe Reader ڈاؤن لوڈ اور انسٹال کریں

آخری بار 20 مارچ 2017 کو اپڈیٹ کیا گيا