مختلف قسم کے ٹیکے

مامونیت کی تخلیق کے لیے وائرس کے خلاف پہلے انسانی ٹیکے کمزور یا کم اثر والے وائرس کے استعمال پر مبنی تھے۔ چھوٹی چیچک کی روک تھام کے لیے ٹیکہ میں گوتھن سیتلا (کاؤ پوکس) کا استعمال کیا گيا، ایک ایسا پوکس وائرس ہے جو کافی حد تک چیچک کے ہی جیسا تھا لیکن عام طور پر یہ سنگین بیماری کا سبب نہیں بنا۔ ریبیز پہلا وائرس تھا جس کو ایک لیب میں کم اثر کرکے انسانوں کے لیے ایک ٹیکہ تیار کیا گيا۔

ٹیکے مختلف کارروائيوں کے استعمال سے بنائے جاتے ہیں۔ ان میں ایسے زندہ وائرس ہو سکتے ہیں جن کے اثر کو کم کیا گيا ہے (کمزور کیا گيا ہو یا بدل دیا گيا ہے تا کہ بیماری کا سبب نہ بنیں)؛ غیر فعال یا ہلاک شدہ جرثومے یا وائرس؛ غیر فعال جراثیمی زہر (جراثیمی بیماریوں کے لیے جہاں جراثیم کے ذریعہ تخلیق کردہ زہر آلودگی نہ کہ خود جراثیم، بیماری کا سبب بنے)؛ یا صرف پیتھوجین کے سیگمینٹ (اس میں شامل ہے سب یونٹ اور کنجوگیٹ دونوں ٹیکے)۔

ٹیکہ کی قسم

اس قسم کے ٹیکے کی سفارش عالمی ادارہ صحت کے ذریعہ معمول کے استعمال کے لیے کی جاتی ہے (عمر 0-6)

زندہ، کمزورکردہ

بی سی جی (تپ دق)

پولیو (او پی وی)

خسرے

روٹاوائرس

جرمن خسرہ

غیر فعال/ہلاک شدہ

پولیو (آئی پی وی)

کالی کھانسی (ڈی ٹی پی مرکب مامونیت)

ٹاکسیڈ (غیر فعال زہر آلودگی)

ڈپتھیریا (خناق)، ٹیٹنس (ڈی ٹی پی مرکب مامونیت کا حصہ)

ذیلی یونٹ/کنجوگیٹ

ہیپاٹائیٹس بی
ہیموفیلس انفلوئنزا ٹائپ بی (ایچ آئی بی)
کالی کھانسی (ڈی ٹی پی مرکب مامونیت)
نیوموکوکسل

میننگو کوکسل

 

ٹیکہ کی قسم

دیگر دستیاب ٹیکے (کچھ علاقوں میں اور کچھ آبادی کے لیے سفارش شدہ ہیں)

زندہ، کمزورکردہ

ہیضہ

ڈینگو

جاپانی انسیفلائٹس

ٹائیفائیڈ بخار

ویریسیلا

زرد بخار

غیر فعال/ہلاک شدہ

ہیضہ

ہیپاٹائٹس اے

جاپانی انسیفلائٹس

ریبیز

ٹک-بورن انسفلائٹس

سب یونٹ/کنجوگیٹ

ہیومن پیپلوما وائرس

ٹائیفائیڈ بخار

زندہ، کمزور کردہ ٹیکوں کی سفارش فی الحال بین الاقوامی طور پر بہت سے بچوں کے لیے کی جاتی ہے جن میں خسرہ، پولیو (او پی وی)، روٹاوائرس، جرمن خسرہ اور تپ دق (بی سی جی) کے خلاف ٹیکے شامل ہیں۔ زندہ، کمزور کردہ ٹیکے کے علاوہ، ڈبلیو ایچ او کے سفارش شدہ شیڈول میں ہرایک دوسری بڑی قسم کے ٹیکے شامل ہیں – بچپن کے شیڈول سے متعلق سفارش کردہ ٹیکے کی قسم کے لیے مذکورہ بالا ٹیبل ملاحظہ فرمائیں۔

مختلف قسموں کے ٹیکے تیار کرنے کے لیے مختلف تکنیک درکار ہوتے ہیں۔ درج ذیل کے ہر سیکشن میں ٹیکہ کی ایک قسم کو بیان کیا گيا ہے۔

زندہ، کمزورکردہ ٹیکے

کمزور کردہ ٹیکے متعدد طریقوں سے تیار کئے جا سکتے ہیں۔ کچھ سب سے عام طریقوں میں بیماری کا سبب بننے والے وائرس کو متعدد خلیہ کے کلچر یا جانور کے جنین سے گزارنا (خاص طور سے چوزے کا جنین) شامل ہے۔ مثال کے طور پر چوزے کے جنین کا استعمال کرتے ہوئے، وائرس کی نشوونما ایک سیریز میں مختلف جنین میں ہوتی ہے۔ ہر بار گزرنے کے ساتھ، وائرس بہتر ہوجاتا ہے اور چوزے کے خلیات میں اپنی نقل بنانے کی صلاحیت میں بہتر بن جاتا ہے، لیکن انسانی خلیات میں اپنی نقل کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ کسی ٹیکہ میں استعمال ہونے والے وائرس کی 200 مختلف جنین یا سیل کلچر نشوونما کی جا سکتی ہے یا گزارا جا سکتا ہے۔ آخر کار، کمزور کردہ وائرس انسانی خلیات میں اچھی طرح سے (یا پوری طرح سے) اپنی نقل بنانے سے قاصر ہوگا، اور اس کا استعمال کسی ٹیکہ میں کیا جا سکتا ہے۔ وہ سبھی طریقے کار جن میں کسی وائرس کو کسی غیر انسانی میزبان سے گزارنا شامل ہے وہ وائرس کا ایک ورژن پیدا کرتے ہیں جس کو اب بھی انسانی مدافعتی نظام کے ذریعہ پہچانا جا سکتا ہے، لیکن کسی انسانی میزبان میں اچھی طرح نقل نہیں کر سکتا ہے۔

اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والا ویکسن وائرس کسی انسان کو دیے جانے پر یہ اتنی نقل نہیں تیار کرسکے گا کہ وہ بیماری کا سبب بن سکے، لیکن پھر بھی ایک مدافعتی ردعمل کو تحریک دے گا جو مستقبل میں انفیکشن سے تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔

ایک مسئلہ جس پر غور کرنا ضروری ہے وہ ہے بیماری پیدا کرنے والی کسی شکل میں واپس جانے کے لیے ٹیکہ کے وائرس کی امکانی مخفی قوت۔ تغیرات جو اس وقت واقع ہو سکتے ہیں جب ٹیکہ کا وائرس جسم میں نقل تیار کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں وائرس کے مزید نوع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کا امکان بہت کم ہے، کیونکہ نقل کرنے کی ٹیکہ کے وائرس کی صلاحیت محدود رہتی ہے؛ تاہم، کمزور کردہ وائرس کے ذریعہ کسی ٹیکہ کو تیار کرتے وقت اس کو دھیان میں رکھا جاتا ہے۔ یہ بات یاد رکھنے لائق ہے کہ تغیرات، بذریعہ منہ لئے جانے والے پولیو کے ٹیکوں (OPV) کے ساتھ واقع ہو سکتے ہیں، ایک ایسا زندہ ٹیکہ جو انجیکٹ کرنے کے بجائے بذریعہ منہ لیا جاتا ہے۔ ٹیکہ کا وائرس ایک زہریلی شکل میں تبدیل ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں شاذو نادر صورت میں پیرالائٹک پولیو واقع ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے، بین الاقوامی سطح پر او پی وی کو آخرکار غیر فعال پولیو ٹیکہ (IPV) کے ساتھ بدل دیا جائے گا۔

ایک لائیو، کم اثر وائرس والے ٹیکہ سے تحفظ خاص طور سے زیادہ دیر تک کام کرتا ہے جو ایک ہلاک شدہ یا غیر فعال ٹیکہ کے ذریعہ فراہم کیا جاتا ہے۔

ہلاک شدہ یا غیر فعال ٹیکے

کم اثر وائرس والے ٹیکوں کا ایک متبادل ہلاک شدہ یا غیر فعال ٹیکہ ہے۔ اس قسم کے ٹیکے ایک پیتھوجین کو غیر فعال کرکے تخلیق کئے جاتے ہیں، خاص طور سے گرمی یا کیمیکل کا استعمال کرکے جیسے کہ فارمل ڈیہائیڈ یا فارمالین۔ یہ پیتھوجین کی نقل کرنے کی صلاحیت کو ختم کردیتا ہے، لیکن اس کو کارگر رکھتا ہے تا کہ مدافعتی نظام اب بھی اس کی پہچان کر سکے۔ (عام طور پر اس قسم کے وائرل ٹیکوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے "ہلاک شدہ" کے بجائے "غیر فعال" کا استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ وائرس کو عام طور پر زندہ نہیں مانا جاتا ہے۔)

چونکہ ہلاک شدہ یا غیر فعال پیتھوجین بالکل بھی نقل نہیں کر سکتے ہیں، اس لیے وہ مزید کسی ایسی زہریلی شکل میں نہیں جا سکتے ہیں کہ وہ بیماری کا سبب بن سکیں (جیسا کہ اوپر زندہ، کم اثر وائرس والے ٹیکوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا ہے)۔ تاہم، وہ وہ زندہ ٹیکوں کے مقابلے ایک قلیل مدتی تحفظ فراہم کرتے ہیں اور طویل مدتی مامونیت فراہم کرنے کے لیے اس بات کا زیادہ امکان ہوتا ہے کہ ان کے لئے بوسٹر کی ضرورت ہو۔

ٹاکسائیڈ

کچھ جراثیمی بیماریاں براہ راست کسی بیکٹیریم سے نہیں ہوتی ہیں بلکہ بیکٹیریم کے ذریعہ پیدا ہونے والی زہر آلودگی کے ذریعہ ہوتی ہیں۔ ایک مثال ہے تشنج (ٹیٹنس): اس کی علامات کی وجہ کلوسٹریڈم ٹیٹانی بیکٹیریم نہیں ہے، بلکہ وہ نیوروٹاکسن ہے جس کو یہ پیدا کرتا ہے (ٹیٹانواسپاسمین)۔ اس قسم کے پیتھوجین کے لیے مامونیت اس زہرآلودگی کو غیر فعال کرکے حاصل کیا جا سکتا ہے جو بیماری کی علامات کے سبب بنتی ہے۔ جیسا کہ ہلاک شدہ یا غیر فعال ٹیکوں میں استعمال ہونے والے جرثوموں یا وائرس کے ساتھ ہوتا ہے، یہ کسی کیمیکل علاج کے ذریعہ جیسے کہ فورمالین یا گرمی یا دیگر طریقوں کا استعمال کرکے بھی انجام دیا جا سکتا ہے۔

غیر فعال ٹاکسن کے استعمال سے تخلیق ہونے والی مامونیت کو ٹاکسائیڈ کہا جاتا ہے۔ ٹاکسائیڈ کو حقیقت میں ہلاک شدہ یا غیر فعال ٹیکے سمجھا جاتا ہے، لیکن کبھی کبھی اس بات کو واضح کرنے کے لیے کہ ان میں ایک غیر فعال زہر آلودگی ہے اور وہ جراثیم کی کوئی غیر فعال شکل نہیں ہے، انہیں بعض اوقات اپنے ہی زمرے میں رکھا جاتا ہے۔

عام طور پر بچوں کی دی جانے والی ٹاکسائیڈ مامونیت میں شامل ہوتی ہے تشنج (ٹیٹنس) اور خناق مامونیت، جو مرکب شکل میں دستیاب ہوتی ہے۔

سب یونٹ اور کنجوگیٹ ٹیکے

سب یونٹ اور کنجوگیٹ دونوں ٹیکوں میں صرف ان پیتھوجین کے ٹکڑے ہوتے ہیں جن کے خلاف وہ تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

سب یونٹ ٹیکے مدافعتی نظام سے ردعمل کو تحریک دینے کے لیے صرف ایک ٹارگیٹ پیتھوجین کا حصہ استعمال کرتے ہیں۔ وہ کسی پیتھوجین سے کسی مخصوص پروٹین کو الگ کرکے اور اس کو اپنے آپ میں ایک انٹی جین کے طور پر پیش کرکے انجام دیا جا سکتا ہے۔ غیر خلیاتی کالی کھانسی کا ٹیکہ اور انفلوئنزا کا ٹیکہ (مختصر شکل میں) سب یونٹ ٹیکوں کی مثالیں ہیں۔

ایک دیگر قسم کا سب یونٹ ٹیکہ جنیاتی انجیرنگ کے ذریعہ تخلیق کیا جا سکتا ہے۔ کسی ٹیکہ پروٹین کے لیے جین کوڈنگ کسی دیگر وائرس میں داخل کی جاتی ہے، یا کلچر کے پیداواری خلیات میں داخل کی جاتی ہے۔ جب کیریئر وائرس دوبارہ پیدا ہوتا ہے، یا جب پیدا کرنے والا خلیہ میٹابولائز ہوتا ہے تو ٹیکہ کا پروٹین بھی تخلیق پاتا ہے۔ اس طریقہ کا آخری نتیجہ ہے ایک نو تشکیل شدہ ٹیکہ: مدافعتی نظام نمایاں پروٹین کی پہچان کرے گا اور ٹارگیٹ وائرس سے مستقبل میں تحفظ فراہم کرے گا۔ بین الاقوامی طور پر استعمال ہونے والا ہیپاٹائٹس بی ٹیکہ ایک نو تشکیل شدہ ٹیکہ ہوتا ہے۔

کنجوگیٹ ٹیکے کسی حد تک نو تشکیل شدہ ٹیکوں کے مشابہ ہوتے ہیں: دو مختلف اجزاء کے مرکب کے استعمال سے انہیں تیار کیا جاتا ہے۔ تاہم کنجوگیٹ ٹیکے کو جراثیم کے کوٹ کے ٹکڑوں کا استعمال کرکے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ کوٹ کیمیائی طور پر ایک کیریئر پروٹین سے جڑے ہوتے ہیں اور مرکب کا استعمال ایک ٹیکہ کے طور پر کیا جاتا ہے۔ کنجوگیٹ ٹیکوں کا استعمال ایک زیادہ طاقتور، مرکب مدافعتی ردعمل پیدا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے: خاص طور سے اس جراثیم کا "ٹکڑا" جس کو پیش کیا جارہا ہو خود سے مضبوط مدافعتی ردعمل تخلیق نہیں کرے گا، جبکہ کیریئر پروٹین تخلیق کرے گا۔ جراثیم کا ٹکڑا بیماری کا سبب نہیں بن سکتا ہے، لیکن کسی کیریئر پروٹین کے ساتھ مل کر یہ مستقبل میں انفیکشن کے خلاف مامونیت تخلیق کرسکتا ہے۔ فی الحال نیموکوکل اور مینینگوکوکل جراثیمی انفیکشن کے خلاف بچوں کے لیے جن ٹیکوں کا استعمال کیا جارہا ہے وہ اس ٹیکنک کے استعمال سے بنے ہوئے ہیں۔


وسائل

Plotkin SA, Mortimer E. Vaccines. New York: Harper Perennial; 1988.

Plotkin SA, Orenstein WA, Offit PA, eds. Vaccines. 6th. ed. Philadelphia: Elsevier; 2013.

عالمی صحت تنظیم۔ WHO Recommendations for Routine Immunization: Summary Information. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

 

آخری بار 31 مارچ 2017 کو اپ ڈیٹ کیا گيا

 

ٹائم لائن اندراج 1986

ہیپاٹائٹس بی: نو تشکیل حیویہ ویکسین کو لائسنس دیا گیا

ایک نو تشکیل حیویہ ہیپاٹائٹس بی ویکسین کو امریکہ میں لائسنس دیا گیا تھا. نو تشکیل حیویہ DNA کے طریقوں کے ذریعہ تیار کی گئی یہ ہیپاٹائٹس بی ویکسین پہلی انسانی ویکسین تھی.

اس نئی ویکسین کو اس لئے تیار کیا گیا تھا کیونکہ محققین پہلے کی ہیپاٹائٹس بی ویکسین، جسے انسانی خون کی مصنوعات سے بنایا گیا تھا، کے ساتھ ایک مسئلے کو دور کرنا چاہتے تھے. لہذا، سائنسدانوں نے وائرس کے سطح کی پروٹین (HBsAg، آسٹریلیا اینٹیجیں) کو ہٹانے کے لئے ایک اینزائم کا استعمال کیا. محققین نے خمیر کی خلیات کے اندر اینٹیجیں کے لئے ایک کوڈ داخل کیا، جس نے مزید سطح کا پروٹین پیدا کیا. خمیر سے حاصل کی گئی سطح پروٹین نے ہیپاٹائٹس بی وائرس کے لئے مامُونیت پیدا کیا.

عالمی ادارہ صحت کی طرف سے تمام بچوں کو ان کی پیدائش کے 24 گھنٹے کے اندر ہیپاٹائٹس بی کے ویکسین کی ایک خوراک، اور اسکے بعد بچپن میں ویکسین کی 2 یا 3 اضافی خوراک حاصل کرنے کی سفارش کی گئی ہے.

ٹائم لائن میں اس شے کے دیکھتے ہیں