بے نقاب کیا گيا: پولیو ٹیکہ اور ایچ آئی وی لنک

جب ہیومن امیونوڈیفیشیئنسی وائرس (ایچ آئی وی) 1980 کی دہائی میں دریافت کیا گيا، تو لوگ حیران رہ گئے کہ یہ کہاں سے آیا ہے اور یہ کیسے اس نے انسانوں میں اپنا راستہ پالیا۔ ایک قیاس جو 1990 کے دہائی میں نمودار ہوا ایچ آئی وی کے الزام کو عوامی صحت کے اقدام سے جوڑ دیا: ایک پولیو ٹیکہ۔

1950 دہائی کے آخر میں، تحقیق کاروں کے متعدد مختلف گروپس پولیو کے خلاف ٹیکے تیار کررہے تھے، جو کہ اس وقت دنیا بھر میں وہائی بنا ہوا تھا۔ ان میں سے ایک ٹیکہ جو ہیلری کوپروسکی، ایم ڈی (1916-2013) کے ذریعہ تیار کیا گیا، اس کا استعمال ریاستہائے متحدہ میں پہلے ٹسٹ کرلینے کے بعد افریقہ میں ٹرائل میں کیا گیا۔ ٹیکہ کے وائرس کی نشونما ان ٹیشو کلچر میں ہوئی جو میکاک بندروں سے لیے گئے تھے، اس سے پہلے اس کو برونڈی، روانڈا میں اور اب جو جمہوریہ کانگو ہے وہاں تقریبا لاکھوں افراد کو لگایا گیا۔

1992 میں، Rolling Stone نے ایک کہانی شائع کی جس میں کوپروسکی کے منہ کے ذریعہ لئے جانے والے ٹیکہ (OPV) کے بارے میں ايچ آئی وی اور پھر ایڈز وباء کے ایک ممکنہ ذرائع کے طور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کوپروسکی نے Rolling Stone پر مقدمہ دائر کیا اور اس مضمون اور جریدہ کے قلم کار نے دسمبر 1993 میں ایک وضاحتی بیان جاری کیا، اور یہ کہا (مختصر)

 

"Rolling Stone کے ڈائریکٹر یہ وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ مضمون میں کبھی بھی ان کا یہ تجویز پیش کرنے کا ارادہ نہیں تھا کہ کوئی سائنسی ثبوت ہے، اور نہ ہی انہیں کسی سائنسی ثبوت کے بارے میں معلومات ہے، کہ ڈاکٹر کوپروسکی، ایک نامور سائنسداں، حقیقت میں انسانی آبادی میں ایڈز کے دخول کے ذمہ دار تھے یا یہ کہ وہ بابائے ایڈز ہیں ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر کوپروسکی کی پولیو کے ٹیکوں کی تیاری میں پہل نے پارالائٹک پولیومائلائٹس کے لاکھوں ممکنہ شکار افراد کو موت اور اذیت سے بچانے میں مدد کی اور شاید یہ اعلی اور وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ حصولیابیوں کی پوری زندگی میں ان کی عظیم خدمات میں سے ایک ہے۔"

 

Rolling Stone کی وضاحت کے باجود، صحافی ایڈوارڈ ہوپر نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے The River: ایک OPV/HIV لنک کے بارے میں قیاس کی بنیاد پر 1999 میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے وسائل کا ایک سفر۔ ہوپر نے دلیل دی کہ استعمال ہونے والی جگہ میں ٹیکہ کے وائرس کو کلچر کرنے میں استعمال ہونے والے جانور کے خلیات تھے جس میں اس جگہ کے چمپنزیز کے گردے کے خلیات کا استعمال کیا گيا تھا، اور یہ چمپنزیز سیمین امیونوڈیفیسینشی وائرس سے متاثر تھے۔ ہوپر کے مطابق، اس خلیہ کے کلچر میں تیار کردہ ٹیکہ ایچ آئی وی والے انسانی انفیکشن کا سبب بنے گا۔

 

اگرچہ ہوپر کے دعوے وسیع پیمانے پر مشہور ہوئے، لیکن یہ ثبوت او پی وی اور ایچ آئی وی کے بیچ ربط کے خیال کی تائید نہیں کرتا (اور کچھ صورتوں میں براہ راست تضاد ہیں)۔

پہلے، موضوع بحث پولیو ٹیکہ کے بچے ہوئے اسٹاک کی خودمختار لیباریٹریز کے ذریعہ جانچ کی گئی، اور اس بات کی تصدیق کی گئی کہ اس کو بندروں کے خلیات کے استعمال سے تیار کیا گيا ہے – نہ کہ چمپنزی کے خلیات سے، جیساکہ ہوپر نے دعوی کیا تھا۔ مزید یہ کہ، اس میں سے کوئی ایچ آئی وی یا ایس آئی وی سے آلودہ نہیں تھا۔ یہ ڈیٹا ٹیکہ تیار کرنے والوں کے بیانات کو تقویت دیتا ہے کہ ٹیکہ تیار کرنے کے لیے صرف بندر کے خلیات کا ہی، نہ کہ چمپنزی کے خلیات، کا استعمال کیا گیا تھا۔

دوسرا، Nature کے اندر 2004 میں شائع شدہ ایک مطالعہ میں پایا گیا کہ وہ علاقے جہاں ہوپر نے دعوی کیا تھا کہ ٹیکہ چمپنزی کے خلیات کے استعمال سے تیار کیا گيا، یہ پایا گیا کہ چمپنزی کو متاثر کرنے والے ایس آئی وی کے اسٹرین جینیات کے لحاظ سے ایچ آئی وی اسٹرین سے الگ تھے۔ ایک اور زاویہ سے بھی اس نے ہوپر کے دعووں کو باطل کردیا: اگرچہ اس علاقوں سے ایس آئی وی سے متاثرہ چمپنزی کے خلیات کا استعمال ٹیکہ بنانے کے لیے کیا گيا تھا، لیکن وہ ایچ آئی وی کے ماخذ نہیں تھے۔

 

علم وہائی امراض کے مطالعات بھی او پی وی/ ایچ آئی وی ربط کے بارے می ہوپر کے اس دعوے سے متعلق ایک سنگین مسئلے کو نمایا کرتے ہیں:  ایچ آئی وی -1 (ایچ آئی وی کی دو مشہور قسموں میں سے ایک، جو کہ دوسرے، ایچ آئی وی-2 کے مقابلے زیادہ متعدی اور زہر آلود ہے) 1940 سے پہلے غالبا انسانوں میں متعارف ہونے کا امکان تھا، اور پولیو ٹیکہ ٹرائل کے مقام سے افریقہ کے ایک بالکل مختلف حصہ میں، شاید کیمرون کے متاثرہ چمپنزی کے ذریعہ۔ کانگو ٹیکہ ٹرائل 1950 کی دہائی میں انجام دیئے گئے – کم سے کم انسانوں میں ایچ آئی وی پھیلنا شروع ہونے کے ایک دہائی بعد، اور شاید اس سے طویل، تازہ ترین اندازوں کے مطابق (اوروبے 2008) ٹیکہ کئی برسوں تک اس وائرس کا ذریعہ نہ بن سکا جو پہلے ہی انسانوں کو متاثر کئے ہوئے تھا۔

 

ہوپر، اس حصہ کے لیے، اپنے دعووں پر قائم ہیں اور وہ ایک منظم سازش کا الزام لگاتے ہیں، لیکن ان کی دلیل کو بڑی حد تک غلط ثابت شدہ سازش کی تھیوری میں داخل ہو گيا ہے۔ اگرچہ اس کے دعووں میں کوئی حقیقت نہیں پائی گئی ہے، لیکن وہ پھر بھی پولیو کے خاتمہ کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچا چکے ہیں۔ موجودہ منہ کے ذریعہ لئے جانے والے پولیو کے ٹیکہ سے متعلق یہ افواہ کہ جان بوجھ کر اس میں ایسی دوائیں ملائی گئی ہیں جو بانجھ پن کا سبب بنتی ہیں اور "ایسے وائرس ہیں جو ایچ آئی وی اور ایڈز کا سبب بنتے ہیں" نے افریقہ کے کچھ حصوں میں ٹیکہ کی قبولیت سے انکار کے سبب ہیں۔ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ ان افواہوں کا تعلق اصل او پی وی/ایچ آئی وی کے تہمت سے ہے۔ اس انکار کے نتیجے میں جزوی طور پر افریقہ کے کچھ حصوں میں پولیو واپس سر اٹھانے لگا حالانکہ ٹیکہ کاری کی وجہ سے پولیو کے خاتمہ کی طرف مثبت اقدام ہوئے تھے۔


وسائل

1.    Cohen J. Forensic Epidemiology: Vaccine Theory of AIDS Origins Disputed at Royal Society.Science. 2000; 289(5486):1850-1851.

2.    Jegede A. What Led to the Nigerian Boycott of the Polio Vaccination Campaign? PLoS Med.2007; 4(3): e73.

3.    Korber B, Muldoon M, Theiler J, et al. Timing the ancestor of the HIV-1 pandemic strains.Science. 2000; 288(5472): 1789–96.

4.    Offit PA. Vaccinated: One Man’s Quest to Defeat the World’s Deadliest Diseases. New York: Harper Perennial; 1988.

5.    Worobey M, Santiago M, Keele B, et al. Origin of AIDS: contaminated polio vaccine theory refuted. Nature . 2004; 428(6985): 820.

6.    Plotkin SA. CHAT oral polio vaccine was not the source of human immunodeficiency virus type 1 group M for humans. Clin. Infect Dis.  2001; Apr 1;32(7): 1068-84.

7.    Plotkin SA. Untruths and consequences: the false hypothesis linking CHAT type 1 polio vaccination to the origin of human immunodeficiency virus. Philos Trans R Soc Lond B Biol Sci. 2001: June 29: 356(1410) 815-23.

8.    Sharp PM, Hahn BH. The evolution of HIV-1 and the Origin of AIDS.  Philos traqns R Soc Lond B Biol Sci. 2010 Aug 27:365(1552) 2487-94.

9.    Worobey M, Gemmel M, Teuwen DE et al. Direct evidence of extensive diversity of HIV-1 in Kinshasa by 1960. Nature. 2008 Oct 2 ; 455(7213) : 661-664.

 

آخری بار 14 جون 2016 کو اپ ڈیٹ کیا گي