خسرہ

خسرہ ایک نہایت متعدی مرض ہے جو پیرامائکسووائرس فیملی کے ایک وائرس کے ذریعہ لاحق ہوتا ہے۔ خسرہ کو "rubeola" بھی کہا جاتا ہے لیکن اسے روبیلا کے ساتھ یا نام نہاد جرمن خسرہ کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔

خسرہ بہت سے ترقی پذیر ممالک میں بچوں کی موت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ 2014 میں، دنیا بھر میں خسرہ کی وجہ سے 114,900 موتیں ہوئیں، جو کہ ہر گھنٹہ 13 موت کے برابر اور ہر دن 314 موت کے برابر ہے۔

علامات

خسرہ ایک نہایت متعدی مرض ہے جو پیرامائکسووائرس فیملی کے ایک وائرس کے ذریعہ لاحق ہوتا ہے۔ یہ براہ راست رابطے اور ہوا کے ذریعہ پھیلتا ہے۔ خسرہ کو "rubeola" بھی کہا جاتا ہے لیکن اسے روبیلا کے ساتھ یا نام نہاد جرمن خسرہ کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔

خسرہ کے علامات میں شامل ہیں بخار اور کھانسی اور اس کے بدنام سرخ باد، جو عام طور پر چہرے سے شروع ہوتے ہیں۔ خاص طور سے، بخار خسرہ کے سرخ باد سے پہلے آتا ہے؛ تاہم جب سرخ باد غائب ہو جائے تو بخار 104 فارنہائٹ (40 ڈگری سیلسیس) یا اس سے اوپر کے درجہ حرارت تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ علامات عام طور پر خسرہ وائرس کے ساتھ انفیکشن کے بعد ایک سے دو ہفتوں میں شروع ہوتی ہیں۔ زیادہ تر لوگ دو سے تین ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

منتقلی

خسرہ بہت ہی متعدی بیماری ہے۔ وائرس متاثرہ مریضوں کی ناک اور گلے میں پایا جاتا ہے اور کھانسی اور جھینک کے ذریعہ ہوا میں چلا جاتا ہے، جہاں یہ دو گھنٹے تک فعال اور متعدی رہے گا۔ اس کے نتیجے میں، ایک فرد صرف کسی ایسے کمرے میں ہوا کو سانس میں داخل کرنے سے ہی متاثر ہو سکتا ہے جہاں دو گھنٹے پہلے خسرہ سے متاثرہ کوئی فرد رہا ہو۔

علاج اور نگہداشت

خسرہ کے لیے کوئی براہ راست علاج نہیں ہے۔ معاون نگہداشت فراہم کی جا سکتی ہے، بشمول پانی اور سیال دے کر مریض میں نمی برقرار رکھنے کی کوششیں اور بیماری سے وابستہ بخار کو کم کرنے کی کوششیں۔

پیچیدگیاں

خسرہ کی وجہ سے مختلف شدت کی پیچیدگیاں لاحق ہو سکتی ہیں، ڈائریا سے لیکر انسیپفلائٹس (دماغ کی سوجن) تک، بالغ مریضوں کو خاص طور سے زیادہ پیچیدگیاں لاحق ہوتی ہیں۔ اگرچہ ایشیا اور افریقہ کے ترقی یافتہ ممالک میں بیماری شاذ و نادر طور پر مہلک ہوتی ہے، لیکن شرح اموات کم آمدنی والے ممالک میں سب سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

شرح اموات 28 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے اور جنگوں یا وسیع پیمانے پر غذا کی قلت کے دوران بڑھ جایا کرتی ہے۔

دستیاب ٹیکے

خسرہ سے تحفظ کرنے کے لیے ایک ٹیکہ 1960 کی دہائی میں تیار کیا گیا اور فورا اس کو اپنا لیا گیا۔ دور دور تک پھیلے ہوئے ویکسینیشن کے پروگرام، بشمول خسرہ کی پیش قدمی 2001 میں امریکی ریڈ کراس، یونائٹیڈ نیشنز فاونڈیشن، یو۔ایس کے ذریعہ جاری کیا گیا۔ بیماری کو کنٹرول کرنے اور روک تھام کرنے والے مراکز، یونیسیف اور عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر میں خسرہ کے کیس میں کمی لانے میں تعاون پیش کیا یہاں تک کہ رپورٹ کردہ کیس کی تعداد کم ہوکر 2014 میں 280,000 تک پہنچ گئی۔

2014 میں، دنیا کے تقریبا 85 فیصد بچوں نے اپنے پہلے جنم دن سے پہلے خسرہ کی ٹیکہ کاری کی 1 خوراک لی- 2000 میں %73 سے زیادہ۔ مامونیت کو یقینی بنانے کے لیے، ٹیکہ کی دو خوراکوں کی سفارش کی جاتی ہے۔ دوسری خوراک لینا خسرہ کی ٹیکہ کاری کے مجموعی لائحہ عمل کا ایک اہم حصہ ہے، کیونکہ ٹیکہ لینے والے 15 فیصد بچوں میں صرف پہلی ہی خوراک سے مامونیت پیدا نہیں ہوتی۔

تاہم، 2008 سے، ویکسینیشن کے مہمات مالی امداد کی کمی کے شکار رہے ہیں، جس کی وجہ سے شدید متعدی بیماری واپس سر اٹھانے لگی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگرچہ خسرہ کے خلاف کسی بچہ کو دیئے جانے والے ٹیکہ کی لاگت 1 امریکی ڈالر سے کم ہے، افریقہ کے 30 ممالک اور تھائی لینڈ، بلغاریہ، انڈونیشیا اور ویتنام میں اس کے پھیلاؤ کی اطلاع ملی ہے۔ 2012 میں ٹیکہ کاری کی بہت کم شرح کی وجہ سے پاکستان میں خسرہ کے پھیلاؤ کی وجہ سے 14,000 رپورٹ کردہ کیسوں میں سے 210 بچوں کی موت ہوگئی۔ جب برطانیہ میں 1998 میں MMR ٹیکہ اور آٹزم کے درمیان ربط ظاہر کرتے ہوئے ایک نقص پیپر کی اشاعت کی گئی تب سے برطانیہ میں بھی بیماری نے سر اٹھایا ہے۔ اگرچہ اس کے بعد پیپر کو واپس لے لیا گیا اور اس کے مصنف کے لائسنس کو منسوخ کردیا گیا، لیکن ملک کی MMR ٹیکہ کاری کی سطحیں ابھی تک واپس وہاں نہیں پہنچی ہیں جہاں وہ پیپر کی اشاعت سے پہلے تھیں۔ خسرہ کے معاملات میں، اس تعداد سے 10 گنا اضافہ ہوا ہے جس کی رپورٹ ایک دہائی قبل کی گئی تھی۔

ٹیکہ کاری کی سفارشات

WHO سفارش کرتا ہے کہ سبھی ملکی مامونیت پروگراموں میں خسرہ کے ٹیکہ کی دو خوراک والی ٹیکہ کاری شامل ہو۔ خسرہ کا ٹیکہ مندرجہ ذیل میں سے ایک شکل میں دستیاب ہے:

  • خسرہ، گلسوئے، اور روبیلا (MMR) ویکسین
  • خسرہ، گلسوئے، روبیلا اور چھوٹی چیچک (خسرہ) (MMRV) ویکسین
  • خسرہ-روبیلا (MR) ویکسین
  • صرف خسرے والی ویکسین

خسرہ کے ٹیکہ کی پہلی خوراک کی سفارش عام طور پر عمر کے 12 مہینے پر کی جاتی ہے۔ ان ممالک میں جہاں خسرہ کی منتقلی کی شرح بہت زیادہ ہے، خسرہ کے ٹیکہ کی پہلی خوراک کی 9 مہینے کی عمر میں سفارش کی جا سکتی ہے۔ دوسری خوراک کئی مہینوں بعد یا کچھ سالوں بعد دی جا سکتی ہے، اس کا انحصار ملک پر ہوتا ہے۔


وسائل

مراکز برائے ضبط و انسداد امراض۔ Measles. (600 KB). Epidemiology and Prevention of Vaccine-Preventable Diseases. Atkinson W, Wolfe S, Hamborsky J, McIntyre L, eds. 13th ed. 20/3/2017 کو رسائی کی گئی.

Moss WJ. Measles still has a devastating impact in unvaccinated populations. PLoS Medicine. 2007;4(1):e24. doi:10.1371/journal.pmed.0040024.

Niazi AK, Sadaf R. Measles epidemic in Pakistan: in search of solutions. Annals of Medical and Health Sciences Research 4.1 (2014): 1–2.PMC. 20/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

Perry, RT, Halsey, NA. The clinical significance of measles: a reviewThe Journal of Infectious Diseases 2004 189:S1, S4-S16.20/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

عالمی ادارہ صحت (WHO)۔ Measles. 20/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

عالمی ادارہ صحت (WHO)۔ Measles vaccines: WHO position paper. 2009;84:349-360. 20/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

PDFs پڑھنے کے لیے Adobe Reader ڈاون لوڈ کریں اور انسٹال کریں۔

آخری بار 20 مارچ 2017 کو اپڈیٹ کیا گيا