ٹیکہ کاری سے متعلق ثقافتی پس منظر

ٹیکہ کاری سے متعلق عوامی رائے میں شامل ہیں ایسے مختلف اور گہرے عقیدے جو مختلف ثقافتی نقطہ نظر اور نظام اقدار کے درمیان تناؤ کا ایک نتیجہ ہے۔ ٹیکہ کاری سے متعلق مختلف اہم تقافتی پس منظر مندرجہ ذیل سے ماخوذ ہیں (1) ٹیکہ کاری کے تئیں فرد کے حقوق اور عوامی صحت کے مواقف، (2) مختلف مذہبی نطقہ نظر اور ٹیکہ کے خلاف اعتراضات، اور (3) دنیا کی مختلف ثقافتوں اور کمیونٹیوں میں ٹیکوں سے متعلق شک اور عدم اعتمادی۔ 

فرد بنام عوامی صحت کے مواقف

بہت سے ممالک اپنے شہریوں سے تقاضہ کرتے ہیں وہ کچھ مخصوص حفاظتی ٹیکے لگوائیں، خاص طور سے پبلک اسکولوں میں داخلہ کے لیے۔ لازمی ٹیکہ کاری کی تاثیر، سلامتی اور شرح اموات سے متعلق تنازعات دو اور کبھی مختلف ہدف کے درمیان دیرینہ تناؤ کی وجہ سے واقع ہوتے ہیں: افراد کی آزادی اور عوام کی صحت کا تحفظ۔[1]

 

ان دو اہداف کے درمیان تناؤ کی موجودگی کی وجہ یہ ہے کہ عوامی صحت کے ضوابط کا ہدف ہے زیادہ سے زیادہ لوگوں کا تحفظ کرنا، لیکن وہ کبھی کبھی وہ انفرادی ترجیحات کے مقابلے میں اجتماعی ضروریات امتیازی حق فراہم کرتے ہیں۔ ٹیکہ کاری کی صورت میں، ٹیکہ کاری کے مطلوبات کی وجہ سے کمیونٹی کو بیماری سے بچانے کے لیے افراد کی خود مختاری قربان ہو جاتی ہے۔ ٹیکہ سے محروم افراد غیر موافق طبی علامات والے ان بچوں اور لوگوں کے لیے خطرہ پیدا کرتے ہیں جن کو ٹیکہ نہیں لگایا جا سکتا ہے، اور ٹیکہ لینے والے افراد کے لیے بھی خطرہ پیدا کرتے ہیں (ٹیکے 100 فیصد مؤثر نہیں ہوتے ہیں)۔ [2] 

پھر بھی سبھی عوامی صحت کے معالجات بشمول ٹیکہ کاری میں صحت کے خطرات شامل ہیں۔ اس لیے، لوگ اپنے آپ کی اور / یا اپنے بچوں کی حفاظت کرنے کے لیے اپنا حق استعمال کرنا چاہتے ہیں اگر انہیں ٹیکوں کی سلامتی کے بارے میں موجودہ طبی ثبوت قبول نہ ہو، اگر نظریاتی عقائد ٹیکہ کاری کی حمایت نہ کرتے ہوں۔ [2],[2]

عوامی صحت سے متعلق اچھی پالیسیاں انفرادی حقوق اور کمیونٹی کی ضروریات دونوں کے درمیان توازن قائم رکھتی ہیں۔ اس لیے، عوامی صحت کے اہلکار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی کامیابی اور قبولیت کی حمایت کرنے کے لیے ٹیکہ کاری پالیسیوں کے تئیں متنوع سماجی اور ثقافتی نقطہ نظر کو پہچانیں اور ان کا احترام کریں۔[3]

مذہبی نقطہ نظر اور ٹیکہ کے مقاصد

کچھ مخصوص مذاہب اور عقائد کے نظام ٹیکہ کاری کے تئیں متبادل نقطہ نظر کو فروغ دیتے ہیں۔ ٹیکوں سے متعلق مذہبی مقاصد عام طور پر مندرجہ ذیل چیزوں پر مبنی ہوتے ہیں (1) ٹیکے کی تخلیق میں انسانی نسیج کے خلیات کے استعمال سے جڑے اخلاقی مسائل، اور (2) یہ عقائد کہ جسم مقدس ہے، اور اس میں کچھ مخصوص کیمیکل یا جانوروں کے خون کا نسیج داخل نہیں کیا جانا چاہیے اور اس کا علاج اللہ یا فطری وسائل کی ذریعہ ہونا چاہئے۔

عقائد پر مبنی زیادہ تر تنظیمیں ٹیکوں کی قدر وقیمت اور افراد اور کمیونٹی کی صحت کے تحفظ کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہیں۔ تاہم، کیتھولک چرچ مشورہ دیتا ہے کہ اس کے ممبران کو ان ٹیکوں کے متبادلات کی تلاش کرنی چاہیے، اگر وہ دستیاب ہوں، جو اسقاط شدہ جنین سے حاصل کردہ سیل لائن کا استعمال کرکے بنائے گئے ہوں۔ [4] عیسائی سائنسدانوں کے پاس ٹیکوں کے خلاف کوئی باضابطہ پالیسی نہیں ہے، بلکہ وہ عام طور پر شفایابی کی دعا پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ان کا عیقدہ ہے کہ طبی معالجات، جن میں ٹیکے شامل ہو سکتے ہیں غیر ضروری ہیں۔ [5]

ٹیکے کا مذہبی استثناء اور اعتراضات میں حالیہ برسوں کے اندر اضافہ ہوا ہے، اگرچہ وہ ہمیشہ باضابطہ مذہبی نظریہ پرمبنی نہیں ہوتے ہیں۔ [6]  اگرچہ ان استثناء والے بالغ افراد اور بچوں کی تعداد مجموعی آبادی کے ایک چھوٹے حصہ پر مشتمل ہے، لیکن وہ ہمیشہ تنازعہ کا مرکز اور میڈیا کی توجہ میں رہتے ہیں۔ انفیکشن ٹیکہ سے محروم چھوٹی سماجی اور/ یا جغرافیائی چرچ کمیونٹیز کے توسط سے تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔ پاکستان میں واقع ہونے والی 2012-13 میں خسرہ کی وباء کو اس بات کے ساتھ جوڑا گیا کہ صحت کی نگہداشت سے متعلق ناکافی بیداری کی وجہ سے اور مذہبی لیڈران کی طرف سے ٹیکہ نہ لگوانے کے دباؤ کی وجہ سے والدین نے ٹیکہ لگوانے سے انکار کیا[7]

ان پھیلاؤ اور ٹیکہ کے خلاف بڑھتے مذہبی اعتراضات کی وجہ سے میڈیا اور عوامی صحت کے اہلکاروں نے والدین کو متنبہ کیا کہ ٹیکہ سے محروم بچے ان انفیکشن کی زد میں آنے کے زیادہ جوکھم میں ہیں جن کی روک تھام ٹیکہ سے کی جا سکتی ہے۔ [8]

ٹیکوں سے متعلق شک اور غیر اعتمادی

ٹیکہ کاری سے متعلق شک اور خوف عام بات ہے، خاص طور سے بین الاقوامی سطح پر حقوق سے محروم متعدد مخصوص برادریوں کے درمیان۔ ان برادریوں کے لیے، شک کو غیر مساوات اور غیر اعتمادی کے کسی سماجی اور تاریخی سیاق میں سب سے اچھی طرح سمجھا جاتا ہے۔ مثلا، متعدد مطالعات میں یہ پایا گیا ہے کہ دوا میں نسل پرستی کی وراثت اور آتشک (سفلس) سے متعلق تسکیگی مطالعہ، ایک طبی آزمائش جو ان افریقی امریکیوں کے ساتھ انجام دیا گيا جن کو مناسب علاج کے مواقع دینے سے انکار کیا گیا، وہ افریقی امریکیوں کی طبی اور عوامی صحت کے معالجات سمیت ٹیکہ کاری سے متعلق عدم اعتمادی کے اہم عوامل ہیں۔[9][10][11][12]

بین الاقوامی سطح پر، ایشیاء اور افریقہ کے کچھ حصوں میں، ٹیکوں کے تئیں بے اعتمادی اکثر "ویسٹرن پلان" تھیوری سے جڑی ہوتی ہے، جو یہ مشورہ دیتا ہے کہ ٹیکے غیر مغربی برادریوں کو ناقابل تولید بنانے کی ایک چال ہے۔ [13] گزشتہ 20 سالوں سے مختلف انفیکشن اور ٹیکوں کے لیے شک موجود ہے۔ مثلاً، 1990 میں کیمرون کے اندر، یہ افواہ اور خوف کہ عوامی صحت کے اہلکار خواتین کو ناقابل تولید بنانے کے لیے بچوں سے متعلق متعدد ٹیکے لگارہے ہیں ملک کی مامونیت کی کوششوں کو ناکام بنادیا۔ [14] اسی طرح، تنزانیا میں 1990 کی نصف دہائی میں ایک مشنری مبلغ نے ٹیٹنس کے ٹیکوں کے بارے میں تشویش اجاگر کیں، اس کی وجہ سے نس بندی کی افواہ پھیل گئی اور مہم رک گئی۔ [15] اور 2005 میں، خسرہ کے ٹیکہ سے متعلق شک کی وجہ سے ٹیکہ کاری کی شرح میں کمی آئی اور نائجیریا کے اندر انفیکشن میں اضافہ ہوا۔[15]

افریقہ میں ٹیکہ کے متعلق شک کے حیران کن واقعات میں سے ایک واقعہ پولیو ٹیکہ سے متعلق ہے۔ 1999 میں، برطانوی صحافی ایڈوارڈ ہوپر نے The River: لکھا ایچ آئی وی/ایڈز کے وسائل تک ایک سفر اس نے یہ قیاس کیا کہ وہ وائرس ایڈز کا سبب بنتا ہے جو پولیو ٹیکہ کے ذریعہ بندروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔ اس نے دلیل دی کہ پولیو ٹیکہ اس چیمپانزی کے خلیات سے تیار کیا گیا جس کو جانوروں والا ایچ آئی وی (سیمین امیونوڈیفیسینشی وائرس، یا ایس آئی وی) ہوا تھا، جو انسانوں میں منتقل ہو گيا اور بیماری کا سبب بن گیا؛ اور یہ اتفاق کی بات ہے کہ اسی سائٹ پر پولیو ٹیکہ پہلی بار لگایا گیا اور وہی ایچ آئی وی کا پہلا واقعہ نمودار ہوا۔ [16] اگرچہ سائنسداں اور طبی علماء نے ہوپر کے خیالات کو مسترد کرنے کے لیے بہت سارے ثبوت فراہم کیا ہے، لیکن میڈیا کی توجہ نے دنیا بھر میں سازش کی تھیوری تشویشات کو ہوا دی ہے۔[17]

مسلم قدامت پسندوں کے ذریعہ مذہبی اور سیاسی اعتراضات پاکستان، افغانستان اور نائجیریا میں پولیو ٹیکہ کے بارے میں شکوک پیدا کردیئے ہیں۔ مثلا، جنوبی افغانستان میں مقامی طالبان نے پولیو کی ٹیکہ کاری کو مسلم آبادی کو ناقابل تولید بنانے کی چال اور اللہ کی رضا کو دور کرنے کی کوشش قرار دیا۔ ٹیکہ کاری سے متعلق مزاحمت کے نتیجے میں پرتشدد مارپیٹ اور اغوا کی وارداتیں ہوئی ہیں۔ [18] اسی جیسے اعتراضات نے نائجیریا میں پولیو ٹیکہ کاری کی مہموں پر روک لگادی۔ 2003 میں، نائجیریا کی تین مختلف ریاستوں کے مذہبی لیڈران نے ٹیکہ کی سلامتی کی تصدیق کرنے والے ٹسٹ کے باوجود دعوی کیا کہ ٹیکوں میں ایسے وائرس موجود ہیں جو ایڈز اور ناقابل تولید اور کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔ آخر کار اس تعطل کا حل مذہبی لیڈران اور سیاسی لیڈران کے درمیان، WHO اور یونیسیف کے درمیان بات چیت کے توسط نکلا۔ [19]  پاکستان میں طالبان اور طالبان کے بکھرے ہوئے گروپوں کے ذریعہ پولیو ٹیکہ کاری کی ٹیموں اور سیکورٹی فورسز کا قتل کیا گيا۔ 2012 میں شروع ہونے والے حملوں سے 70 سے زیادہ پولیو ورکرس کو قتل کردیا گیا۔ [20]

ٹیکہ کاری کے تئیں مختلف ثقافتی نقطہ نظر اور رائے، بشمول آزادی پسند اور مذہبی اعتراضات، اور ٹیکہ سے متعلق شکوک نے طبی اور عوامی صحت کے اہلکاروں اور عوام کے درمیان ٹیکہ کاری سے متعلق قابل قبول اور مؤثر پالیسیوں کے بارے میں مسلسل مواصلات اور مشترکہ عمل کی ضرورت کا اشارہ دیا۔

آخری بار 31 مارچ 2017 کو اپ ڈیٹ کیا گيا


وسائل

Blum JD. Balancing individual rights versus collective good in public health enforcement. Medicine and Law. 2006;25:273-281.

Salmon DA, Omar SB. Individual freedoms versus collective responsibility: Immunization decision making in the face of occasionally repeating values. Emerging Themes in Epidemiology. 2006;3:1-3.

Parmet WE, Goodman RA, Farber A. Individual rights versus the public's health - 100 years after Jacobson v. Massachusetts. N Engl J Med. 2005;352:652-653.

Moral reflections on vaccines derived from cells derived from aborted fetuses. The National Catholic Bioethics Quarterly. 2006;6:541-549.  

Christian Science. What Is Christian Science? 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

Salmon DA, Siegel AW. Religious and philosophical exemptions from vaccine requirements and lessons learned from conscientious objectors from conscription. Public Health Reports. 2001;116:289-295.

Niazi A, Sadaf R. Measles epidemic in Pakistan: in search of solutionsAnnals of Medical and Health Sciences Research. 2014;4(1), 1–2. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

8.    Salmon DA, Siegel AW. Religious and philosophical exemptions from vaccine requirements and lessons learned from conscientious objectors from conscription. Public Health Reports. 2001;116:289-295.

Gamble VN. Under the shadow of Tuskegee: African Americans and health care. American Journal of Public Health. 1997;87:1773-1778.

Freimuth VS, Quinn SC, Thomas SB, Colea G, Zook E, Duncan T. African Americans’ views on research and the Tuskegee syphilis study. Social Science & Medicine. 2001;52:797-808.

Moutsiakis DL, Chin NP. Why blacks do not take part in HIV vaccine trials. Journal of the National Medical Association. 2007;99:254-257.

Newman PA, Naihua D, Roberts KJ, et al. HIV vaccine trial participation among ethnic minority communities: Barriers, motivators, and implications for recruitment. JAIDS. 2006;41:210-217.

UNICEF. Combating anti-vaccination rumors: Lessons learned from case studies in Africa. (425 KB). Nairobi, Kenya: UNICEF; 1997:1-68.  31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

Savelsberg PF, Ndonko FT, Schmidt-Ehry B. Sterilizing vaccines or the politics of the womb: Retrospective study of a rumor in the Cameroon. Medical Anthropology Quarterly.2000;14:159-179.

Clements CJ, Greenough P, Shull D. How vaccine safety can become political - the example of polio in Nigeria. Current Drug Safety. 2006;1:117-119.

Hooper E. The River : A Journey to the Source of HIV and AIDS New York: Little, Brown, and Company; 1999.

Plotkin S. CHAT polio vaccine was not the source of human immunodeficiency virus type 1 for humans. Vaccines. 2001;32:1068-1084.

Warraich HJ. Religious opposition to polio vaccine. Emerging Infectious Diseases.2009;15:978.

Jegede AS. What led to the Nigerian boycott of the polio vaccination campaign? PLOS Medicine. 2007;4:0417-0422.

Hashim A. Pakistan’s polio problem and vaccination danger. Al Jazeera. March 28, 2015. رسائی کی گئی 31/3/2017

PDF کو پڑھنے کے لیے، Adobe Reader ڈاون لوڈ اور انسٹال کریں۔