اخلاقی معاملات اور ٹیکے

ٹیکے بہت سے بین الاقوامی عوامی صحت کی کامیابیوں کا ذمہ دار ہے، جیسے کہ چھوٹی چیچک کاخاتمہ اور پولیو اور خسرہ جیسے دیگر سنگین انفیکشن میں بہت بڑی کمی۔ پھر بھی، ٹیکہ کاری لمبی مدت تک متعدد اخلاقی تنازعات کی شکار رہی ہے۔ ٹیکہ کے ضابطہ، تیاری اور استعمال سے متعلق اہم اخلاقی تبادلہ خیال انہیں چیزوں کے ارد گرد گھومتا ہے (1) اختیارات، (2) ریسرچ اور ٹسٹنگ، (3) باخبر رضامندی اور (4) رسائی میں تفاوت۔

ٹیکہ کے اختیارات اور اعتراضات

اسکول ٹیکہ کاری اور دیگر ٹیکہ کے ديگر تقاضوں سے متعلق اخلاقی مباحثہ اور اعتراضات اس وجہ سے سامنے آتے ہیں کیونکہ کچھ افراد اور برادریاں ان اختیارات سے غیر متفق ہیں اور/ یا ان کا مذہبی، فلسفیانہ یا صحت کے عقائد ٹیکہ کاری کے متضاد ہے۔ [1]مثلا، لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش میں، پبلک ہیلتھ ویکس ریگولیشن کسی فرد کی خودمختاری اور آزادی کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں۔ [2] تناؤ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لوگ ٹیکہ کاری کو انکار کرکے اپنا اور / یا اپنے بچوں کا تحفظ کرنے کے لیے اپنے حق کو استعمال کرنا چاہتے ہیں، اگر وہ موجودہ طبی یا سلامتی کے ثبوت کو قبول نہیں کرتے ہیں، یا اگر ان کے نظریاتی عقائد ٹیکہ کاری کی حمایت نہ کرے۔[2]

بہت سے مقامی سرکاری ادارے غیر موافق طبی حالات کی وجہ سے اسکول میں ٹیکہ کاری کے تقاضوں سے ٹیکہ کاری کو استثناء دیتے ہیں؛ بہت سے ادارے لوگوں کے فلسفیانہ اور مذہبی عقائد اور ان کے مختلف خدشات کا ازالہ کرنے کے لیے بھی استثناء کی اجازت دیتے ہیں۔[3] تاہم، بہت سے سائنسی اور طبی تحقیقی مطالعات میں پایا گیا ہے کہ جو افراد مذہبی اور / یا فلسفیانہ استثناء کا استعمال کرتے ہیں وہ انفیکشن کے بڑے جوکھم میں ہوتے ہیں، جو ان کو اور ان کی برادری کو جوکھم میں ڈال سکتا ہے۔ [4] اس لیے، طبی اور صحت عامہ کے حمایتی اکثر لوگوں کے عقائد اور برادری کی صحت کے تحفظ کے اخلاقیات میں توازن قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔[2]

ٹیکہ کی تحقیق اور ٹسٹنگ

اخلاقیاتی تبادلہ خیال ٹیکہ کی تحقیق اور ٹسٹنگ کا بھی احاطہ کرتا ہے، بشمول ٹیکہ ترقیات، مطالعہ کے ڈیزائن، آبادی اور آزمائش کے مقام کے بارے میں تبادلہ خیال۔

لائسنس یافتہ ہونے کے لیے، ٹیکے کئی سالوں کی تحقیق سے گزرتے ہیں، اور ان کو سلامتی اور تاثیر کے سخت معیار کو پاس کرنا ضروری ہے۔ [1] ٹیکہ ترقیات اور تحقیق کے عمل میں طرح طرح کے ماہرین، بہت سے سائنسی اور سماجی موضوعات، بشمول صحت عامہ، علم امراض وباء، علم مامونیت، اور اعداد وشمار اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں سے شامل ہے۔ یہ اسٹاک ہولڈرس کے متضاد ترجیحات اور محرکات ہو سکتی ہیں، جو مختلف اخلاقیاتی تبادلہ خیال میں معاون ہوتی ہیں۔[5]

کبھی کبھی تحقیق کار اس بات سے غیر متفق ہوتے ہیں کہ ٹیکہ کی آزمائش میں کس کو شامل کیا جائے۔ کسی ٹیکہ کی تاثیر کو ٹیسٹ کرنے کے لیے، طبی آزمائش بشمول ایک ایسا کنٹرول گروپ عام طور پر ضروری ہے جس کو ٹیسٹ ٹیکہ نہ دیا جائے۔ [1]  کسی معقول امتناعی اختیار کی فراہمی میں ناکامی اس وقت ایک دشوار کن فیصلہ ہو سکتا ہے جب ٹیکہ ممکنہ طور پر کسی سنگین، ناقابل علاج یا مہلک انفیکشن کو روک سکتا ہو۔ مثلا، ٹی بی ٹیکہ کے تحقیق کار نے اخلاقیاتی کنٹرول گروپ کی کاروائیوں کے بارے میں مشورہ دینے کی کوشش کی ہے۔ موجودہ ٹی بی کے ٹیکے، جن کو Bacillus Calmette-Guérin (BCG) ٹیکے کہا جاتا ہے، ہمیشہ ٹی بی کی روک تھام میں مؤثر نہیں ہوتے اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد میں انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں، جیسے کہ وہ لوگ جو ایچ آئی وی / ایڈز کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں۔ جب وہ نئے لائحہ عمل کی تاثیر کو ٹسٹ کرتے ہیں تو تحقیق کار اس بات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں کہ آیا شرکت کنندگان کے کنٹرول میں یہ ٹیکے دینا محفوظ اور اخلاقی ہے۔ [6] 

مزید یہ کہ، مختلف آبادیوں میں کسی ٹیکہ کی سلامتی اور تاثیر کو سمجھنا اہم ہے، لیکن غیر محفوظ آبادیوں میں کسی ٹیکہ کی ٹسٹنگ جیسے کہ بچے، اخلاقیاتی خدشات اجاگر کرتا ہے۔ [7] تحقیق کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کی سلامتی کے تحفظ کی ضرورت کے درمیان اور اس بات کو معقول طریقے سے سمجھنے کی ضرورت کے درمیان توازن قائم رکھیں کہ کیسے ایک ٹیکہ بچوں کے ساتھ کارکردگی کا مظارہ کرے گا اور ان کا تحفظ کرے گا جب وہ انہیں دیا جائے گا۔

ترقی پذیر ممالک میں لوگوں کے ذریعہ استعمال ہونے والے ٹیکوں کے لیے آزمائش کی انجام دہی کے وقت، اس سے جڑے مختلف اخلاقیاتی خدشات کو سمجھنا اہم ہے۔ خدشات میں شامل ہے کہ، کیسے بامعنی طریقے سے مقامی برادریوں کو تحقیق کے ڈیزائن کے عمل میں شامل کیا جائے؛ اس بات کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ آزمائش کی نگرانی مقامی جائزہ پینل کے ذریعہ ہو؛ اس بات کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ شرکت کنندگان رضامندی کو سمجھیں؛ اور اگر آزمائش کے دوران بیماریوں کا پتہ چلتا ہے تو کیسے ان کی جانچ کی جائے اور علاج فراہم کیا جائے۔ [6] یہ چیلینج مالی میں ہونے والے ملیریا ٹیکہ کی آزمائش میں واضح تھے، اس وقت جب شرکت کنندگان نے متعدد مفہوم کو سمجھنے میں دشواری کی اطلاع دی جس میں مطالعہ سے دست برداری کا طریقہ، ٹیکہ کے منفی اثرات اور کسی تحقیقی مطالعہ اور تھیراپی کے درمیان فرق شامل تھا[8]۔ یہ اس بات اشارہ کرتا ہے کہ پورے ماحول و ثقافت میں مناسب رضامندی کو یقینی بنانے کے لیے مواصلات کا بہتر لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔

اخلاقیاتی تبادلہ خیال ایچ آئی وی ٹیکہ کی تحقیق اور تیاری کا ایک اہم جزء ہے کیونکہ ایچ آئی وی ٹیکے متعدد منفرد اخلاقیاتی چیلینج پیش کرتے ہیں۔ مثلا، ایڈز سے متعلق ندامت ٹیکے کی آزمائش کے شرکت کنندگان کو نفسیاتی خطرے میں ڈال سکتا ہے اگر ان کے ساتھ امتیازی برتاؤ کیا جائے۔ اس کے علاوہ، تحقیق کار کو اس بات کا پتہ لگانا ہے کہ جن شرکت کنندگان میں ایچ آئی وی کی موجودگی پائی جائے ان کے لیے کیسے معقول طبی نگہداشت اور بدنامی سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ اور، تحقیق کاروں کو اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ اگر شرکت کنندگان آزمائش کو غلط سمجھ لیں، تو وہ یہ سوچ سکتے ہیں کہ انہیں وائرس سے تحفظ حاصل ہے اور اپنے آپ کو جوکھم میں ڈال سکتے ہیں۔.[1][5][9-10] ان مسائل کی پیچیدگی اخلاقیاتی تجزیوں کو ایچ آئی وی ٹیکہ کی تحقیق میں سب سے آگے رکھتی ہے۔ 

باخبر منظوری

کچھ سرکاری اداروں میں مخصوص باخبر رضامندی قوانین ہیں۔ [11] کچھ مخصوص قانون ساز اور مریض کے حقوق کی وکالت کرنے والے دیگر افراد اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مخصوص رضامندی ضرورت اخلاقیاتی اور مناسب ہے، تا کہ مریض اور افراد کو ٹیکوں کے بارے میں بہتر جانکاری حاصل ہو، اور ان کے پاس سوالات پوچھنے کے لیے معقول وقت ہو اگر ضرورت پڑے۔ مخالفین میں اس بات کا خوف ہے کہ ایک باقاعدہ تحریری رضامندی عمل ٹیکہ کاری کے عمل میں غیر ضروری خوف و خدشات پیدا کر سکتا ہے۔ [12]

رسائی کے مسائل

ٹیکہ سے جڑے بہت سے اخلاقیاتی مباحثے اس بات پر مرتکز ہیں کہ ٹیکہ کاری تک رسائی کچھ حد تک سماجی اقتصادی اور نسلی اور گروہی اقلیتی حیثیت پرمبنی ہے۔ اس مباحثے میں غیرواضح بات یہ سوال ہے کہ آیا سبھی زندگیوں کی قدر مساوی ہوتی ہے یا نہیں، اور انہیں ٹیکہ کاری کے ذریعہ تحفظ حاصل کرنے کا مساوی مواقع حاصل ہیں یا نہیں۔ [1]

ٹیکہ کی قلت ٹیکہ تیار کرنے والوں اور فراہم کرنے والوں کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے [1][13] مختلف عوامل ٹیکہ ترقیات کو محدود کردیتے ہیں، بشمول قانونی ذمہ داری، اخراجات، وقت، ملک کا سیاسی اور مذہبی ماحول۔ ایک اخلاقیاتی نظریہ سے، ٹیکہ تیار کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ سے صحت پر بڑا مثبت پڑے گا۔ جب ٹیکوں کی فراہمی کم ہو تو طبی فراہم کنندہ اس بارے میں فیصلہ لیں کہ کسے تحفظ فراہم کرنا ہے، اور کس کو بیماری کے ساتھ غیر محفوظ چھوڑنا ہے۔ [5]

بین الاقوامی صحت عدم مساوات اضافی اخلاقیاتی پش و پیش کو اجاگر کرتی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کو معذور کردینے والے اور مہلک انفیکشن کے خطرے کا سامنا ہے، جس کو "غربت کے سبب ہونے والے امراض" کہا جاتا ہے، جیسے کہ تب دق، جس کے بارے میں ترقی یافتہ ممالک کے بہت سے لوگ انجان ہیں۔ اگرچہ ٹیکے ان میں سے کچھ بیماریوں کی روک تھام میں مدد کر سکتے ہیں، لیکن ٹیکہ ترقیات نے برادری کی صحت کی ضروریات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ [1] معاملات کے مزید پیچیدہ بنانے کے لیے، غربت کے سبب ہونے والے امراض سے متاثرہ جگہوں میں اکثر ایسے بنیادی ڈھانچہ کا فقدان ہوتا ہے جو وسیع پیمانے پر ٹیکہ کاری کے لیے معاون ہو اور وہاں بہت سی مقابلہ جاتی صحت اور سماجی ترجیحات کا سامنا ہے، جیسے کہ غریبی، تشدد اور خراب سڑکیں.[1][5]  صحت عامہ اور طبی اہلکار اس بار ے میں ضرور مشکل فیصلہ لیں کہ صحت کی کن ضروریات کو پورا کرنے کی ضرورت ہے اور ٹیکہ کاری کو اکثر قلیل خدمات میں کیسے شامل کیا جائے۔

 


وسائل

  1. مراکز برائے ضبط و انسداد امراض۔ Public Health Law Program. State School and Childcare Vaccination Laws.  31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔
  2. Salmon DA, Omer SB. Individual freedoms versus collective responsibility: Immunization decision making in the face of occasionally repeating values. Emerging Themes in Epidemiology. 2006;3:1-3.
  3. Malone KM, Hinman AR. Vaccination mandates: The public health imperative  and individual rights. (104 KB). Atlanta, GA: مراکز برائے ضبط و انسداد امراض۔ 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔
  4. Feikin DR, Lezotte DC, Hamman RF, Salmon DA, Chen RT, Hoffman RE. Individual and community risks of measles and pertussis associated with personal exemptions to immunization. JAMA. 2000;284:3145-3150.
  5. Caplan AL, Schwartz JL. Ethics. In: Plotkin SA, Walter OA, Offit PA, eds. Vaccines. 5th ed. Philadelphia: Saunders, 2008.
  6. Snider DE. Ethical issues in tuberculosis vaccine trials. Clin Infectious Diseases. 2000;30 (Suppl 3):S271-5.
  7. U.S. Department of Health and Human Services U.S. Department of Health  and Human Services. Special Protections for Children as Research Subjects .
  8. Krosin MT, Klitzman R, Levin B, Cheng, J. Ranney, M. L. Problems in comprehension of informed consent in rural and peri-urban Mali, West Africa. Clin Trials  . 2006;3:306-313.  31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔
  9.  UNAIDS. Ethical considerations in HIV prevention vaccine research. (895 KB). Geneva: UNAIDS; 2004 (reprint);04-07E:1-52.  31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔
  10. Beloqui J, Chokevivat K, Collins C. HIV vaccine research and human rights: Examples from three countries planning efficacy trials. Health and Human Rights. 1998;3:38-58.
  11. مراکز برائے ضبط و انسداد امراض۔  Fact Sheet for Vaccine Information Statements.
  12.  Florida House of Representatives. CB/HB33: Childhood Vaccinations  31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔۔.
  13. Grady D. With few suppliers of flu shots shortage was long New York Times. October 17, 2004.  31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

PDF کو پڑھنے کے لیے، Adobe Reader ڈاون لوڈ اور انسٹال کریں۔

آخری بار 10 مارچ 2017 کو اپ ڈیٹ کیا گيا