ویکسین کے بارے میں غلط فہمیاں

ویکسین کیسے کام کرتا ہے اس بارے میں نا سمجھی کی وجہ سے کئی غلط فہمیاں کئی دہائیوں سے موجود ہیں۔ ویکسینیشن سے متعلق سب سے زیادہ عام غلط تصورات میں سے چند ذیل میں درج کئے جا رہے ہیں۔

 "اوور لوڈیڈ" مدافعتی نظام کے متعلق غلط فہمیاں

شاید سب سے زیادہ عام غلط فہمی یہ ہے کہ ایک بچہ اگر ایک سے زیادہ ویکسین لیتا ہے تو بچے کا مدافعتی نظام اوورلوڈیڈ ہو جاتا ہے۔ یہ تشویش سب سے پہلے اس وقت اجاگر ہونا شروع ہوئی جب تجویز کردہ بچپن کے حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول میں مزید ویکسینز کی شمولیت کی توسیع ہوئی اور جب چند ویکسینز ایک ہی شاٹ میں مشترک کر دیئے گئے۔ تاہم مطالعہ سے یہ بات بارہا واضح ہوگئی ہے کہ تجویز کردہ ویکسینز کو ایک ساتھ ملا کر دینے کی وجہ سے منفی اثرات مرتب ہونے کے امکان نہیں ہیں، خصوصاً جب الگ الگ دیئے جائیں۔

بعض والدین اس وقت کو "پھیلانے" کی کوشش کرتے ہیں جب ان کے پچے کو ویکسینیشن دیا جارہا ہوتا ہے بس صرٖف اسی حالت میں یہ غلط فہمی درست ہے۔ تاہم، اس نقطہ نظر کی حمایت کرنے کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے اور دیر سے ٹیکے لگوانا قابل علاج بیماری سے بچے کو خطرے میں ڈالنا ہے۔

"غائب امراض" کے بارے میں غلط فہمی

کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ جو بیماریاں نایاب ہیں ان میں بچوں کو ٹیکہ لگوانا ضروری نہیں ہے۔ تاہم، یہ نظریہ غلط ہے۔ مثلاً، پولیو آج بھی دنیا کے کچھ حصوں میں پایا جاتا ہے، اور اگر اس کو ادنٰی ویکسینیشن شرح کے ساتھ کسی ملک میں دوبارہ متعارف کرایا جائے تو آسانی سے کسی غیر محفوظ افراد میں انفیکشن ہونا شروع ہو جائے گا۔ مناسب ویکسینیشن کی شرح کے ساتھ، ویکسین کے ذریعے روکی جانے والی بیماریوں کو زیادہ پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر ویکسینیشن کی شرح گر جائے تو "درآمد" قابل روک تھام بیماریاں دوبارہ پھیلنا شروع ہو سکتی ہیں۔ مثلاً 2000 کی ابتدا میں برطانیہ میں ابتدائی ویکسینیشن کی شرح کی مسلسل ٹرانسمیش کو روک دیا گیا تھا اس کے بعد دوبارہ ملک میں خسرہ کی وباء عام ہوگئی۔

"ٹیکے سے محروم لوگوں کی بہ نسبت جنہوں نے ٹیکا لگایا ہے وہ زیادہ بیمار ہوتے ہیں" غلط تصور

جب کوئی مرض اچانک پھوٹ پڑے تو ایسا کسی علاقے میں شاذ و نادر ہی ہوتا ہے جیسا کہ خسرہ ہے ایسی صورت میں صرف ٹیکے سے محروم لوگ ہی خطرے میں نہیں ہیں۔ کیوں کہ کوئی بھی ٹیکہ 100% مؤثر نہیں ہوتا، بعض ٹیکہ لگائے گئے افراد بھی مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ درحقیقت، وباء پھیلنے کے دوران ٹیکے سے محروم لوگوں سے زیادہ جن کو ٹیکا لگایا گیا ہو ان میں بھی بعض افراد بیمار پڑ جاتے ہیں۔ تاہم، ایسا اس لئے نہیں ہے کہ ٹیکے غیرمؤثر ہوتے ہیں، بلکہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو پہلی بار ٹیکہ لگا نے سے کتراتے ہیں۔ فرضی وباء پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ہیں:

آپ کے پاس 500 افراد کا ایک گروہ ہے جو ایک غیرمعمولی بیماری پھیلنے کی وجہ سے سامنے آیا ہے۔ ان 500 میں سے 490 لوگوں کو ٹیکہ لگایا گیا؛ اور 10 کو نہیں لگایا گیا۔ مختلف قسم کی ویکسینز مختلف شرح پر تحفظ فراہم کرتی ہیں، لیکن اس معاملے میں آئیے یہ بات فرض کرلیں کہ ہر 100 لوگ جنہیں ٹیکہ لگایا گیا ان میں سے 98 لوگ کامیابی کے ساتھ بیماری سے لڑنے کی قوت پیدا کر لیں گے۔

جب وباء پھیلے گی تو وہ تمام 10 افراد جنہیں ٹیکہ نہیں لگایا گیا ہے، بیمار پڑ جائیں گے۔ لیکن 490 جن کو ٹیکے لگائے گئے تھے ان کا کیا؟

مٖفروضہ کی بنا پر 100 لوگوں میں سے 98 لوگوں میں کامیابی کے ساتھ قوت مدافعت میں اضافہ ہوا ہے (100 میں سے دو کو غیر محفوظ چھوڑ کر)، 490 میں سے تقریباً 10 افراد جن کو ٹیکہ لگایا گیا ہے وہ بیمار پڑ جایئں گے- ٹھیک ویسے ہی جیسے ویکسین سے محروم افراد بیمار پڑگئے تھے۔

بہر کیف جن کو ٹیکہ لگا یا گیا اور جو ویکسین سے محروم رہ گئے وہ تمام افراد بیمار پڑ گئے ان کے فیصد کو حساب میں نہیں لیا گیا ہے۔ اور جو لوگ بیمار پڑ گئے ان میں سے 10 کو ٹیکہ لگا یا گیا اور10 کو نہیں۔ لیکن جن 10 لوگوں کو ٹیکہ لگا یا گیا ان کی تعداد 500 کی آبادی میں (10/490) =%2 کی ہے۔ لیکن جن 10 کو ٹیکہ نہیں لگایا گیا ہے ان کا تناسب(10/10)= 100% ہے. چنانچہ، وباء پھیلنے کا حتمی نتیجہ ایسا دکھائی دیتا ہے:

·       آبادی کا حجم: ‎500‎

·       ویکسین لگائے افراد: ‎490‎

·       ویکسین سے محروم افراد: ‎‎10‎‎

·       ٹیکہ لگائے گئے افراد جو بیمار پڑ گئے ان کا فیصد: 2%

·       ویکسین سے محروم افراد جو بیمار پڑ گئے ان کا فیصد: 100%

"حفظان صحت اور بہتر غذائیت شرح امراض کو کم کرنے میں معاون ہوتی ہیں نہ کہ ٹیکہ" غلط فہمی

بہتر حفظان صحت اور غذائیت، دوسرے عوامل کے درمیان، یقینی طور پر کچھ بیماریوں کے واقعات کم کر سکتے ہیں. ویکسین کی ایجاد سے پہلے اور بعد میں مختلف قسم کی بیماریاں موجود تھیں اور ہیں، تاہم اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ویکسینز بیماری کی شرح میں سب سے بڑی گراوٹ کیلئے بے انتہا مؤثر ہوتی ہیں۔ مثلاً، ریاستہائے متحدہ میں سال 1950 اور 1963 کے بیچ خسرہ کے معاملات کی تعداد 300,000 سے لیکر 800,000 تک رہی، جب ایک نیا لائسنس یافتہ ٹیکہ کا وسیع پیمانے پر استعمال ہوا۔ 1965 تک، یو ایس میں خسرہ کے معاملات میں تیزی سے گراوٹ شروع ہوئی۔ 1968 میں، تقریبا 22,000 کیسز کی اطلاع ملی (صرف تین سالوں میں 800,000 کیسوں کی اونچائی میں 97.25% کی گراوٹ)؛ 1998 تک، کیسز کی اوسطاً تعداد فی سال 100 یا اس سے کم رہی۔ اسی طرح کی ٹیکہ کاری کے بعد گراوٹ ان زیادہ تر بیماریوں میں آئی جن کے لیے ٹیکے دستیاب ہیں۔

شاید اس بات کا بہترین ثبوت کہ ٹیکے، ناکہ حفظان صحت اور غذا، بیماری اور موت کی شرحوں میں تیز گراوٹ کے ذمہ دار ہیں وہ ہے خسرہ۔ اگر صفائی اور غذا صرف متعدی بیماریوں کی روک تھام کے لیے کافی ہوتے تو ریاستہائے متحدہ میں 1990 کی وسطی دہائی میں چھوٹی چیچک ٹیکہ کے تعارف سے کافی پہلے خسرہ کی شرحوں میں گراوٹ آ گئی ہوتی۔ اس کے بجائے، یو ایس اے میں 1990 کی دہائی کی ابتداء میں خسرہ کے معاملات کی تعداد، 1995 میں ٹیکہ کے وجود سے پہلے، لاکھوں میں تھی۔ حالیہ برسوں میں، بیماری کے واقعہ میں بڑی کمی آئی ہے۔

"فطری قوت مدافعت ٹیکہ سے حاصل کردہ قوت مدافعت سے بہتر ہوتی ہے" غلط فہمی

کچھ لوگوں کی دلیل ہے کہ ایک فطری انفیکشن سے بقا کے ذریعہ حاصل ہونے والی مامونیت ٹیکے کے مقابلے میں بہتر تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اگرچہ یہ صحیح ہے کہ فطری مامونیت کچھ معاملات میں ٹیکہ سے حاصل کردہ مامونیت کے مقابلے طویل مدتی ہوتی ہے، لیکن فطری انفیکشن کا جوکھم ہر سفارش کردہ ٹیکہ کے لیے مامونیت کے جوکھم سے زیادہ ہوتا ہے۔

مثلا، وائلڈ خسرہ انفیکشن 1000 متاثرہ افراد میں سے 1 میں انسیفلائٹس (دماغ کی سوزش) کا سبب بنتا ہے، اور رپورٹ کردہ ہر 1000 خسرہ کے کیسوں میں دو افراد کی موت ہو جاتی ہے۔ تاہم، کمبینیشن MMR (خسرہ، گلسوئے اور روبیلا) کے ٹیکے کے نتیجے میں انسیفلائٹس یا سنگین الرجی ردعمل ٹیکہ پانے والے ہر ملین افراد میں صرف ایک کو واقع ہوتا ہے، جبکہ خسرہ کے انفیکشن کی روک تھام کرتا ہے۔ ٹیکہ سے حاصل کردہ قوت مدافعت کے فوائد غیر معمولی طور پر قدرتی انفیکشن کے سنگین جوکھم سے زیادہ اہم ہوتے ہیں، یہاں تک کہ ان کیسوں میں بھی جہاں مامونیت کو قائم رکھنے کے لیے بوسٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔

مزید یہ کہ، کچھ ٹیکے، جیسے کہ کزاز کا ٹیکہ، حقیقت میں فطری انفیکشن سے زیادہ مؤثر مامونیت فراہم کر سکتے ہیں۔


وسائل

مراکز برائے ضبط و انسداد امراض۔ Chickenpox (Varicella): Surveillance.   18/4/2017 کو رسائی کی گئی۔

مراکز برائے ضبط و انسداد امراض۔ Summary of notifiable diseases, 2013MMWR.2015;62(53);1-119. 18/4/2017 کو رسائی کی گئی۔

Children’s Hospital of Philadelphia. Vaccine Education Center. Vaccine safety: Immune system and health. 18/4/2017 کو رسائی کی گئی۔

EuroSurveillance Editorial Team. Measles once again endemic in the United Kingdom. Eurosurveillance. 2008;13, 1. 18/4/2017 کو رسائی کی گئی۔

Offit, PA, Quarles J, Gerber MA, Hackett CJ, Marcuse EK, Kollman TR, ... & Landry S. Addressing parents’ concerns: do multiple vaccines overwhelm or weaken the infant’s immune system? Pediatrics. 2002;109(1), 124-129.

Orenstein WA, Papania MJ, & Wharton ME. Measles elimination in the United States. Journal of Infectious Diseases. 2004;189(Supplement 1);S1-S3. 

Ramsay ME, Jin L, White J, Litton P, Cohen B, & Brown D. The elimination of indigenous measles transmission in England and Wales. Journal of Infectious Diseases. 2003;187(Supplement 1), S198-S207. 14 جون 2016 کو رسائی کی گئی۔

آخری بار  14اپریل 2016 کو اپڈیٹ کیا گيا