مامونیت کا مستقبل

ٹیکے 200 سے زیادہ برسوں سے بیماری کے خلاف انسانوں کی لڑائی کا ایک حصہ رہے ہیں۔ دنیا بھر کی ٹیکہ کاری کی مہم نے چیچک کا خاتمہ کردیا، اور مامونیت نے دو ممالک کے علاوہ سبھی ممالک میں پولیو کا خاتمہ کردیا ہے۔ آج، ترقی یافتہ دنیا کے زیادہ تر حصے میں بچوں کی ٹیکہ کاری نے بڑی حد تک بیماری کو اور انفیکشن کی بیماری سے ہونے والی اموات کو کم کيا ہے دنیا کے زیادہ تر حصوں میں پوری زندگی ٹیکہ کاری جاری رہتی ہے، بالغان کو بیماری کی روک تھام کے لئے موسمیاتی انفلوئنزا کا ٹیکہ، نیموکوکسل ٹیکہ، اور دیگر ٹیکے دیئے جاتے ہیں۔

اگرچہ ہم بہت سی صحت عامہ کی کامیابیوں کو ٹیکہ کاری سے منسوب کر سکتے ہیں، لیکن مستقبل میں چیلینج جاری رہے گا۔ ایسی بیماری اب بھی باقی ہیں جن کے لئے تحقیق کار مؤثر ٹیکوں کا پتہ لگانے میں ناکام ہیں (جیسے کہ ایچ آئی وی/ایڈز، ملیریا، اور کالازار) یا جو دنیا کے اس حصے میں پنپ رہی ہیں جہاں ٹیکہ کاری کے بنیادی ڈھانچے ناقص ہیں یا موجود ہی نہیں ہیں اور یہاں تک کہ حالیہ موجود ٹیکے بھی نہیں پہنچائے جا سکتے ہیں۔ دیگر کیسوں میں، ٹیکہ کی لاگت اتنی زیادہ ہے کہ کم آمدنی والے ملک اس کو برداشت نہیں کر سکتے ہیں، اگرچہ یہ ہمیشہ وہاں ہوتا ہے جہاں لوگوں کو سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اور، یقینا، اگرچہ بہت سے حالیہ ٹیکے بہت مؤثر ہیں، لیکن ایسے ٹیکوں کی تیاری کی کوششیں اب بھی جاری ہیں جو ان ٹیکوں سے کہی زیادہ مؤثر ہوں جو آج دستیاب ہیں۔ اس لئے، تحقیق کار لگاتار نئے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ زیادہ تاثیر، کم لاگت اور آسان پہنچ اہم اہداف کے کچھ حصے ہیں۔

دوا تیاری کی نئی تکنیک

پہلا ٹیکہ – چیچک کا ٹیکہ – ایک لائیو، کمزور کردہ وائرس پر مشتمل تھا۔ "اٹینویشن" کا مطلب ہے کسی وائرس کو اس حد تک کمزور کردینا کہ یہ اب بھی کسی مدافعتی ردعمل کو تحریک دے سکے، لیکن انسان کے جسم میں بیماری پیدا نہ کرے۔

آج استعمال ہونے والے بہت سے ٹیکوں، بشمول خسرہ اور کاذب خسرہ کے لئے، میں لائیو، کمزور کردہ وائرس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ دیگر ٹیکوں میں ہلاک شدہ وائرس، بیکٹیریا کے ٹکڑے، یا غیر فعال قسم کی زہرآلودگی کا استعمال کیا جاتا ہے جس کو بیکٹیریا پیدا کرتے ہیں۔ ہلاک شدہ وائرس، بیکٹیریا کے ٹکڑے اور غیر فعال زہر آلودگی بیماری پیدا نہیں کر سکتی ہے لیکن پھر بھی ایک ایسے مدافعتی ردعمل کو تحریک دے سکتی ہے جو مستقبل میں انفیکشن سے تحفظ فراہم کرے۔

تاہم، مختلف قسم کے ٹیکے بنانے کے لئے نئے طریقوں کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان نئی قسموں میں شامل ہیں:

  • لائیو نوتشکیل حیویہ کے ٹیکہ
  • ڈی این اے ٹیکے  

لائیو نوتشکیل حیویہ کے ٹیکوں میں کمزور کردہ وائرس (یا بیکٹیریائی نسل) کا استعمال ویکٹر کے طور پر کیا جاتا ہے: کسی بیماری کا کوئی وائرس یا بیکٹیریم ضروری طور پر کسی دیگر متعدی ایجینٹ کے امیونوجینک پروٹین کے لئے ایک ڈیلیوری ڈیوائس کے طور پر کام کرتا ہے۔ کچھ کیسوں میں، اس طریقہ کا استعمال مدافعتی ردعمل کو بہتر بنانے کے لئے کیا جاتا ہے؛ اور کچھ میں، اس کا استعمال اس وقت کیا جاتا ہے جب ایک ٹیکہ کے طور پر حقیقی ایجینٹ کو دینے سے بیماری لاحق ہو۔ مثلا، ایچ آئی وی کو انسانوں میں ایک ٹیکہ کے طور پر دینے کے لئے اتنا کمزور نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اس کے بیماری پیدا کرنے کا جوکھم بہت زیادہ ہو۔

ایک مکمل وائرس سے شروعات کرتے ہوئے، تحقیق کار وائرس کے این ڈی اے کے ایک سیکشن کی پہچان کرتے ہیں جو نقل (ریپلیکیشن) کے لئے ضروری نہ ہو۔ ایک یا ایک سے زیادہ جینس جو دیگر پیتھوجینس کے امینوجینس کے جنیاتی کوڈ کی وضاحت کرتے ہیں انہیں اس جگہ میں داخل کیا جاتا ہے۔ (ہر جین بنیادی طور پر ایسی ہدایات پر مشتمل ہوتے ہیں جو جسم کو یہ بتاتے ہیں کہ ایک خاص پروٹین کیسے تیار کرناہے۔ اس کیس میں، تحقیق کار ان جینس کو منتخب کرتے ہیں جو ٹارگیٹ پیتھوج سے متعلق کسی پروٹین کے جیٹینک کوڈ کی وضاحت کرتے ہیں: ایک امینوجین جو اس پیتھوجین کے تئی ں ایک مدافعتی ردعمل تخلیق کریں گے۔) مثلا، ایک بیکولووائرس (ایک ایسا وائرس جو صرف کیڑوں کو متاثر کرتا ہے) اس کا استعمال ایک ویکٹر کے طور پر کیا جاتا ہے اور کسی انفلوینزا وائرس کے کسی مخصوص امینوجینک سرفیس پروٹین کے لئے جین کو داخل کیا جا سکتا ہے۔ 

جب ترمیم شدہ وائرس کسی فرد کے جسم میں داخل کیا جاتا ہے تو امینوجین کا ظاہر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے امینوجین کے خلاف ایک مدافعتی ردعمل پیدا ہوتا ہے – اور اس کے نتیجے میں، اس پیتھوجین کے خلاف ردعمل پیدا ہوتا ہے جہاں سے یہ نکلتا ہے۔ کیڑا وائرس کے علاوہ، انسانی اڈینووائرس کو نوتشکیل حیویہ والے ٹیکوں میں استعمال کے لئے ایک ممکنہ ویکٹر مانا گیا ہے، خاص طور سے ایڈز جیسی بیماریوں کے خلاف۔ ویسینیا وائرس، جو کہ چیچک ٹیکہ کی بنیاد ہے، اس کا استعمال پہلی بار لائیو نوتشکیل حیویہ والے ٹیکہ کے طریقہ کار میں کیا گيا۔ [1] تجرباتی نوتشکیل حیویہ ویسینا کی نسلوں کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ انفلوینزا، باولاپن، اور ہیپاٹائٹس بی، اور دیگر بیماریوں کے خلاف تحفظ فراہم کرے۔ 

ڈی این اے ٹیکے ایک مخصوص اینٹی جن کے لئے ڈی این اے کی کوڈنگ پر مشتمل ہوتا ہے، جو براہ راست عضلات میں انجیکٹ کیا جاتا ہے۔ ڈی این اے خود لوگوں کے خلیات میں داخل ہو جاتا ہے، جو پھر متعدی ایجینٹ سے اینٹی جن پیدا کرتا ہے۔ چونکہ اینٹی جن خارجی ہوتا ہے، اس لئے یہ ایک مدافعتی ردعمل پیدا کرتا ہے۔ اس قسم کے ٹیکے میں یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ان کی تخلیق کرنا تناسبا آسان ہوتا ہے، کیونکہ ڈی این اے بہت مستحکم ہوتا ہے اور اس کی تیاری آسان ہوتی ہے، لیکن اب بھی تجرباتی ہے کیونکہ ڈی این اے پر مبنی کسی ٹیکوں میں یہ نہیں پایا گیا کہ وہ ایسا مستحکم مدافعتی ردعمل پیدا کرتا ہے جو انفیکشن کی روک تھام کے لئے درکار ہے۔ تاہم، تحقیق کاروں کو اس بات کی امید ہے کہ ڈی این اے ٹیکے ملیریا جیسی طفیلی جرثومہ والی بیماریوں کے خلاف مامونیت تخلیق کر سکتے ہیں – فی الحال کسی طفیلی جرثومہ کے خلاف کوئی انسانی ٹیکہ استعمال نہیں کیا جارہا ہے۔[2]

ڈیلیوری کی نئی تکنک

جب آپ ٹیکہ کاری کے بارے میں سوچتے ہیں تو آپ شاید ٹیکہ لگانے والے کسی ڈاکٹر یا نرس کے بارے میں سوچتے ہیں۔ تاہم، مستقبل میں ٹیکہ کاری کے ڈیلیوری کے طریقے اس سے پوری طرح سے الگ ہونگے جس کا استعمال آج ہم کرتے ہیں۔

مثلا، سانس کے ذریعہ لئے جانے والے ٹیکے پہلے ہی کچھ کیسوں میں استعمال ہورہے ہیں: انفلوینزا کے ٹیکوں کو ایک ناک کے اسپرے کی شکل میں تیار کیا گيا ہے۔ ان میں سے ایک ٹیکہ موسمیاتی فلو کے لئے ہر سال دستیاب ہوتا ہے۔ ہمارے ممکنات میں شامل ہے ایک پیچ کا استعمال، جہاں نہایت چھوٹی سوئی میٹریکس پر مشتمل ایک پیچ بغیر سرینج کے استعمال کے ایک ٹیکہ ڈیلیور کرتا ہے۔ ڈیلیوری کا یہ طریقہ خاص طور سے دور دراز علاقوں میں مفید ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے استعمال کے لئے تربیت یافتہ طبی فرد کے ذریعہ ڈیلیور کی ضرورت نہیں ہوگی، جن کی عام طور پر ان ٹیکوں کے لئے ضرورت ہوتی ہے جن کو سرینج کے ذریعہ دیا جاتا ہے۔

ایک دوسرا مسئلہ جس کو تحقیق کار حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ ہے نام نہاد ٹھنڈک کا مسئلہ۔ بہت سے ٹیکوں کو زندہ رکھنے کے لئے ٹھنڈے اسٹوریج کے درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے، درجہ حرارت کنٹرول والے اسٹوریج اکثر دنیا کے اس حصوں میں غیر دستیاب ہوتا ہے جہاں بیماری کو کنٹرول کرنے کے لئے ٹیکہ کاری ناگزیر ہے۔ چیچک کے خاتمہ کی کامیابی کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ تھی کہ چیچک کا ٹیکہ تناسبا اونچی درجہ حرارت پر رکھا جا سکتا تھا اور اس کو معقول مدت تک زندہ رکھا جا سکتا تھا؛ تاہم، کچھ ہم عصر ٹیکے اس درجہ حرارت کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ اپریل 2010 میں آئسلینڈ میں آتش فشاں کے پھوٹنے سے شمالی یوروپ میں ہوائی راستہ ٹھپ ہو گیا تھا، بشمول ان ان جہازوں کے جو پولیو ویکسین کے 15 ملین خوراک لیکر مغربی افریقہ جارہے تھے۔ اہلکاروں کو اس بات کا ڈر محسوس ہوا کہ ٹیکوں کی ڈیلیوری میں دیری کی وجہ سے پولیو پھیل سکتا ہے، یا یہ کہ زمین سے لگے جہاز کے کارگو میں موجود درجہ حرارت ٹیکوں کو غیر مؤثر بنا دے گا۔[3]

یہ صورت حال ٹیکہ کے ایسے میٹیریل کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں کہ جن کو آسانی کے ساتھ متعدد حالات میں منتقل کیا جا سکے اور وہ پھر بھی زندہ رہیں۔ جینر انسٹی آف یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں تحقیق کاروں نے 2010 کے شروع میں اس مسئلہ کا ایک ممکنہ حل کا مطالعہ کیا۔ فلٹر جیسی ایک چھوٹی سی جھلی کے ساتھ شروع کرکے، تحقیق کاروں نے اس پر چینی کے شیشے کی نہایت باریک پرت چڑھائی، اور وائرل ذرات کو اس کے اندر ڈال دیا گيا۔ اس حالت میں، جن وائرس کا استعمال تحقیق کاروں نے کیا تھا وہ 113 فارنہائٹ تک درجہ حرارت پر مدافعتی ردعمل تحریک دینے کی اپنی صلاحیت کھوئے بغیر چھہ مہینوں تک رہ سکتا تھے۔ موازنہ کے ذریعہ، جب 113 ڈگری فارنہائٹ پر سیال اسٹوریج صرف ایک ہفتہ رکھا گيا، تو ٹسٹ کردہ دو وائرس میں سے ایک ہلاک ہو گيا۔

تحقیق کاروں نے یہ بھی دکھایا کہ ٹیکہ کے میٹیریل ایک ایسے ہولڈر میں رکھا جا سکتا ہے جس کو کسی سرینج سے منسلک کیا جا سکتا ہو، تا کہ کوئی ٹیکہ کار ٹیکہ کے میٹیریل کو تیار کر سکے (سرینج کے اندر موجود ایک سیال کے ذریعہ) اور ٹیکہ کو تقریبا ایک ہی وقت میں سرایت کرسکے۔

اگرچہ یہ تحقیق ابتدائی تھی، لیکن یہ ٹیکہ کے رکھ رکھاؤ اور ڈیلیوری کے لئے ایک امید افزا نیا راستہ پیش کرتی ہے۔ اس طرح کے ایک مستحکم طریقے کے ساتھ، وسیع پیمارنے پر پھیلے ویکسینیشن کے مہمات ان علاقوں میں ممکن ہو سکتی ہیں جہاں پہلے پہنچنا مشکل یا ناممکن تھا۔[4]

مامونیت کے مستقبل کا انحصار ان ٹیکہ کے لئے طبی تحقیق کی کامیابی پر ہے جن کا لینا آسان ہو، جو ریفریجریشن کے بغیر بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکیں، اور جو ایک مزید مستحکم اور طویل مدتی مدافعتی ردعمل فراہم کریں۔ اور ساتھ ہی، اتنی ساری متعدی بیماریوں کے خلاف ٹیکوں کی مسلسل کامیابی نے سائنسدانوں کو اس بات کی تحریک دی ہے کہ وہ ان بیماریوں کا مقابلے کرنے کے لئے اسی جیسے طریقوں کا استعمال کریں جو بہت سے لوگوں کے لئے جان لیوا ہیں، جیسے کہ ملیریا، ایچ آئی وی/ایڈز، اور دیگر بیماریاں جن کے لئے ابھی تک کوئی مؤثر ٹیکے نہیں ہیں۔ 


وسائل

  1. Plotkin S, Mortimer E. Vaccines. New York: Harper Perennial; 1988.
  2. Volcanic ash delays West African polio vaccination. Updated April 20, 2010   14 مارچ 2017
     کو رسائی کی گئی۔
  3. Carvalho JA, Rodgers J, Atouguia J, Prazeres DM, Monteiro GA. DNA vaccines: a rational design against parasitic diseases. Expert Rev Vaccines. 2010 Feb;9(2):175-91.
  4. Alcock R, Cottingham M, Rollier C et al. Long-Term Thermostabilization of Live Poxviral and Adenoviral Vaccine Vectors at Supraphysiological Temperatures in Carbohydrate Glass. Sci. Transl. Med. 2010;2(19), 19ra12.

آخری بار 14 مارچ 2017  کو اپڈیٹ کیا گيا