لائیو اٹینچویٹیڈ ویکسین

لائیو اٹینچویٹیڈ ویکسین

لائیو اٹینچویٹیڈ (کمزور) ویکسین اس لۓ تیار کئے جاتے ہیں تاکہ وہ علامات کے بغیر ایک انفیکشن پیدا کریں (یہ "غیرعلاماتی" ہوتا ہے) یہ فطری انفیکشن جیسا ہی ایک مدافعتی ردعمل پیدا کرتا ہے، لیکن بیماری کا سبب بنے بغیر- اور دیگر افراد تک انفیکشن پھیلائے بغیر۔ یہ ویکسین اکثر طویل مدتی مامونیت عطا کرتے ہیں۔ لائیو ویکسین یا تو وائرس یا بیکٹیریا کے لۓ بنائے جا سکتے ہیں، لیکن زیادہ عام طور پر ان میں وائرس شامل ہوتے ہیں۔


لائیو ویکسین دیگر قسم کے ویکسین کے مقابلے کسی حد تک ہلکے منفی اثرات کے زیادہ امکان پیدا کرتے ہیں، کیونکہ ان میں بیماری کا ایک فعال لیکن کمزور عامل ہوتا ہے۔ کمزور مدافعتی نظام والے لوگ ہو سکتا ہے کسی انفیکشن کو کنٹرول نہ کرپائيں - یہاں تک کہ ایک کمزور انفیکشن کو - اس لۓ لائیو ویکسین کی خاص طور سے ان افراد کے لۓ سفارش نہیں کی جاتی ہے۔

لائیو اٹینچویٹیڈ ویکسین

وائرس کی نوعیت کو منتخب کیا جاتا ہے

تحقیق کار پہلے ایک ایسے وائرس کو الگ تھلگ کردیں جس کے ساتھ کوئی ٹیکہ تیار کرنا ہو۔ دیگر معیار کے درمیان، یہ ضروری ہے کہ اس وائرس کی نشوونما لیباریٹری میں کی جائے۔

لائیو اٹینچویٹیڈ ویکسین

سیل کلچر میں وائرس کی نشوونما بار بار ہوتی ہے- یا "گزارے" جاتے ہیں

[رول اور ٹیکسٹ] منتخب وائرس کی سیل کلچر میں یا دیگر وسائل میں بار بار گزار کر نشوونما کی جاتی ہے

لائیو اٹینچویٹیڈ ویکسین

کمزور نوعیت کے وائرس کو نکال دیا جاتا ہے

[رول اوور ٹیکسٹ] کو جراثیمی صلاحیت والے وائرس کے ساتھ منتخب کیا جاتا ہے۔ ان کم صلاحیت والی نوعیت کو پھر بڑی تعداد میں دوبارہ پیدا کیا جاتا ہے اور ایک ویکسین کے طور پر استعمال کے لۓ تیار کیا جاتا ہے۔

لائیو اٹینچویٹیڈ ویکسین

لائیو، لیکن کمزور ویکسین وائرس انجیکٹ کیا جاتا ہے

[رول اور ٹیکسٹ] اگرچہ ویکسین کے وائرس اتنا مشابہ نہیں ہوتا کہ بیماری کا سبب بن سکے، لیکن وہ ایک مدافعتی ردعمل کو فعال کرنے کے لۓ ہوسٹ کے اندر ان کی تاثیر کئي گنا ہو جاتی ہے۔ خسرہ، گلسوئے اور روبیلا ویکسین لائیو اٹینویٹیڈ ویکسین کی مثالیں ہیں ۔

لائیو اٹینچویٹیڈ ویکسین

مدافعتی ردعمل کا ارتقاء ہوتا ہے

لائیو اٹینویٹیڈ وائرس ویکسین ایک مستحکم مدافعتی ردعمل پیدا کرتے ہیں کیونکہ وہ میموری بی سیلز اور میموری ٹی سیلز دونوں کو متحرک کرتے ہیں۔ انسانوں کو اکثر ایک اٹینویٹیڈ ویکسین سے صرف ایک دو خوراک کے بعد طویل مدتی مامونیت حاصل ہو جاتی ہے۔

غیر فعال ویکسین

غیر فعال ویکسین

غیر فعال ویکسین (کبھی کبھی ان کو "ہلاک شدہ" ویکسین کہا جاتا ہے) ان ویکسین میں سے ہیں جن کو سب سے پہلے تیار کیا گيا۔ عام طور پر ان کے منفی اثرات لائیو اٹینویٹیڈ ویکسین کے مقابلے کم ہوتے ہیں، لیکن وہ لائیو ویکسین کے مقابلے کم طاقتور مدافعتی ردعمل پیدا کر پاتے ہیں۔ غیر فعال ویکسین وائرس یا بیکٹیریا کے لۓ تیار کئے جا سکتے ہیں۔

غیر فعال ویکسین

بیکٹیریائي یا وائرل کی نوعیت منتخب کی جاتی ہے

[رول اوور ٹیکسٹ] ویکسین کے لۓ بہترین پیتھوجین کی نشاندہی کی گئی ہے۔

غیر فعال ویکسین

ویکسین تیار کیا جاتا ہے

[رول اوور ٹیکسٹ] ان وائرس یا بیکٹیریا کو پھر بڑی تعداد میں دوبارہ پیدا کیا جاتا ہے اور ایک ویکسین کے طور پر استعمال کے لۓ تیار کیا جاتا ہے۔

غیر فعال ویکسین

گرمی یا کیمیکل کے استعمال سے یتھوجین کو غیر فعال کیا جاتا ہے

یہاں وائرس یا بیکٹیریا غیر فعال ہوتے ہیں یا کیمیکل کے ذریعہ "ہلاک" ہو جاتے ہیں، جیسے کہ فارمل ڈی ہائیڈ گيس کی تشکیل۔ کچھ صورتوں میں، اس کے بجائے بیکٹیریا گرمی سے غیر فعال ہو جاتے ہیں۔

غیر فعال ویکسین

غیر فعال (ہلاک شدہ) پیتھوجین انجیکٹ کیا جاتا ہے

غیر فعال وائرس یا بیکٹیریا انفیکشن کا سبب نہیں بن سکتے ہیں، لیکن اینٹی باڈیز پیدا کرنے کے لۓ بی سیلز کو ضرور متحرک کرتے ہیں۔ آج سرایت کئے جانے والے غیر فعال وائرل ویکسین کی مثالیں ہیں غیر پولیو اور ہیپاٹائٹس اے ٹیکے۔

غیر فعال ویکسین

مدافعتی ردعمل کا ارتقاء ہوتا ہے

مختلف خوراکیں یا بوسٹر شاٹ خاص طور سے ایک مؤثر مدافعتی ردعمل پیدا کرنے کے لۓ درکار ہوتی ہیں۔

سب یونٹ/کنجوگیٹ ویکسین

سب یونٹ/کنجوگیٹ ویکسین

کچھ بیماریوں کے لۓ، ایک مخصوص پروٹین یا کاربوہائڈریٹ جو ایک حفاظتی مدافعتی ردعمل کو تحریک دیتا ہے اس کو کسی ٹیکہ میں استعمال کے لۓ الگ کردیا جاتا ہے۔ مثلا انفلوینزا ویکسین، وائرس کی سطح سے پروٹین کا استعمال کرکے تیار کئے جا سکتے ہیں۔ کالی کھانسی کی ویکسین اس قسم کے بیکٹیریا کی ایک مثال ہے۔ اس قسم کے ویکسین کو سب یونٹ ویکسین کہا جاتا ہے۔

جب کسی پیتھوجین کے کاربوہائڈریٹ کا استعمال کسی ویکسین کے لۓ کیا جاتا ہے تو ایسے شیرخوار بچوں میں مامونیت کو متحرک کرنے کے لۓ ایک اضافی قدم کی ضرورت ہوتی ہے، جن کا مدافعتی نظام انہیں "دکھائی" نہیں دیتا۔ اس لۓ کاربوہائڈریٹ کیمیکلی طور پر ایک "کیریئر پروٹین" سے جڑا ہوتا ہے یا مربوط ہوتا ہے - ایک مختلف ایجنٹ کا ایک پروٹین۔ اس قسم کے ویکسین، جیسے کہ پیڈیاٹرک نیموکوکل اور ہب ویکسین کو کنجوگیٹ ویکسین کہا جاتا ہے۔ سب یونٹ اور کنجوگیٹ دونوں ویکسین وائرس یا بیکٹیریا کے لۓ تیار کئے جا سکتے ہیں۔ ایک سب یونٹ ویکسین تیار کرنے کا طریقہ نیچے دکھایا گیا ہے۔

سب یونٹ/کنجوگیٹ ویکسین

مکمل وائرس یا بیکٹیریا کی نوعیت کو منتخب کیا جاتا ہے

ویکسین کی تیاری کے لۓ ضروری اینٹی جن کی نشاندہی کے لۓ ایک مکمل وائرس یا بیکٹیریا ضروری ہے۔

سب یونٹ/کنجوگیٹ ویکسین

پیتھوجین کا وہ حصہ جو ایک حفاظتی مدافعتی ردعمل پیدا کرتا ہے اسے الگ کر دیا جاتا ہے

[رول اور ٹیکسٹ] دیگر ٹیکوں کے برعکس، یہ ویکسین صرف پیتھوجین کے اس حصہ کا استعمال کرتے ہیں جو ایک مدافعتی ردعمل کا اخراج کرتا ہے - اینٹی جن۔ سب یونٹ ویکسین میں کم سے کم ایک یا 20 سے زیادہ اینٹی جن ہو سکتے ہیں۔

سب یونٹ/کنجوگیٹ ویکسین

پیتھوجین کے حصہ کو تنہا پیش کیا جاتا ہے یا ایک ریکومبیننٹ ویکسین کی تخلیق کے لۓ استعمال کیا جاتا ہے

کچھ سب یونٹ ویکسین خود بخود اینٹی جن کی حیثیت سے الگ پروٹین پیش کرتے ہیں۔ یا، کسی مخصوص پروٹین کے لۓ ایک جین کوڈنگ کو کسی دیگر خوردبینی جرثومہ میں داخل کیا جا سکتا ہے یا کلچر میں پروڈیوسر سیل میں داخل کیا جا سکتا ہے۔ پھر، جب کیریئر خوردبینی جرثومہ دوبارہ پیدا ہوتا ہے یا پروڈیوسر سیل نئے خلیات بناتا ہے تو ویکسین پروٹین بھی تخلیق ہوتی ہے۔ یہ طریقہ کار ایک سب یونٹ ویکسین تخلیق کرتا ہے جس کو ریکومبیننٹ ویکسین کہا جاتا ہے۔

سب یونٹ/کنجوگیٹ ویکسین

ویکسین انجکشن دیا جاتا ہے.

نو ویکسین انجکشن دیا جاتا ہے. ایک نو ویکسین کی ایک مثال ہیپاٹائٹس بی ویکسین ہے.

سب یونٹ/کنجوگیٹ ویکسین

مدافعتی ردعمل کا ارتقاء ہوتا ہے

سب یونٹ اور کنجوگیٹ ویکسین ایک یا ایک سے زیادہ اینٹی جن میں ایک مدافعتی ردعمل پیدا کرتے ہیں، جو اس پیتھوجین کے خلاف مستقبل میں تحفظ فراہم کریں گے جس سے ان کو الگ کیا جاتا ہے۔ یہ ویکسین بیماری کا سبب نہیں بن سکتے ہیں، کیونکہ ان میں پورا پیتھوجین نہیں ہوتا۔