ملیریا اور ملیریا کے ٹیکے کے امیدوار

مہلک ملیریا پیراسائٹس لے جانے والے مچھر ہزاروں سال سے انسانوں کے درمیان گھومتے رہے ہیں اور دستاویزی رپورٹ میں یہ بیماری 2700 قبل مسیح میں پائی جاتی ہے۔[1] ملیریا آج بھی انسانوں کو متاثر کرتا ہے، جس کی وجہ سے ہر سال لاکھوں افراد کی موت ہو جاتی ہے۔

ملیریا پیراسائٹس پلازموڈیم کی وجہ سے واقع ہوتا ہے، جو کہ یک خلوی جاندار ہوتا ہے جس کی زندگی کے متعدد مراحل ہوتے ہیں اور اپنی بقا کے لیے اس کو ایک سے زیادہ میزبان کی ضرورت ہوتی ہے۔ پیراسائٹس کی پانچ اقسام انسانوں میں بیماری پیدا کرتی ہیں – پلازموڈیم فالسیپیرم، پی۔ویویکس، پی۔ملیریا، اور پی۔نولیلسی۔ پلازموڈیم فالسیپیرم انسانوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک قسم ہے اور یہ آج زیادہ تر سائنسی تحقیق کا ہدف ہے۔ 2002 میں، سائنسدانوں نے پی۔فالسیپیرم جینوم کو، ترتیب دینے میں کامیابی حاصل کی، جس کی مدد سے تحقیق کاروں نے اس کو ہدف بنانے کے طریقوں کی بہتر سمجھ میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔[2]

نام ملیریا mal’ariaسے ماخوذ ہے جو کہ "بری ہوا" کے لیے اطالوی لفظ ہے۔ 1800 کی دہائی کے آخر میں جرثومہ کی تھیوری کی تخلیق سے پہلے، بہت سے لوگ سوچتے تھے کہ بیماری بدبودار بخارات یا آلودہ ہوا کے ذریعہ منتقل ہوتی ہے۔ 1897 تک، برطانوی فیزیشین رونالڈ روس نے دریافت کیا کہ مچھر ایسے ذرائع ہیں جو بیماری کو منتقل کرتے ہیں۔ سائنسدانوں نے پھر پتہ لگایا کہ صرف زنانہ اینوفیلز مچھر ہی پیراسائٹس منتقل کرتے ہیں (مردانہ خون سے غذا حاصل نہیں کرتے ہیں)۔ انوفلیز مچھر کی 60 مختلف زنانہ قسمیں ایک ملیریا حاملین کا کام کرسکتی ہیں۔[3]

دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی ایسے علاقوں میں رہتی ہے جو ملیریا کے لیے غیر محفوظ ہیں، 109 سے زیادہ ممالک میں ایسے کیسوں کی دستاویز سازی کی گئی ہے اور اموات کی سب سے زیادہ شرح (کُل اموات کی تقریباً 89 فیصد) افریقہ میں واقع ہوئی ہے۔ پیراسائٹس ہر سال 220 ملین لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ، پانچ سال سے کم عمر کے بچے، حاملہ خواتین اور ایچ آئی وی/ایڈز والے لوگ سنگین بیماری اور موت کے سب سے زیادہ جوکھم میں ہوتے ہیں۔[4]

ملیریا کی طویل تاریخ میں اس کو شکست دینے کی کوششیں شامل ہیں۔ سنکونا درخت کی چھال سے حاصل کردہ ایک مادہ کونین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 1600 کی دہائی سے ہی ملیریا کے خلاف مؤثر رہا ہے۔[5] ملیریا کی منتقلی میں مچھروں کے کردار کو سمجھنے کے بعد، سائنسدانوں نے ویکٹر (حامل مرض) کنٹرول پر اپنی توجہ مرکز کی۔ انہوں نے یہ مانا کہ حامل مرض کو ہلاک کرکے وہ انفیکشن کے چکر کو روک سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں، DDT اور دیگر کیڑے مار دوائیں 1900 کی نصف دہائی میں وجود میں آئیں اور تب ہی سے اس کا استعمال کیا جانے لگا۔ سوتے ہوئے لوگوں کو مچھر کے کاٹنے سے بچانے کے لیے مچھردانی کا استعمال حامل مرض کو کنٹرول کرنے کی ایک دوسری شکل ہے جو کہ نہ صرف مؤثر ہے بلکہ اس میں لاگت بھی کم آتی ہے۔[6] ، آخرکار، مختلف ملیریا مخالف دواؤں کی تیاری نے ملیریا سے متاثرہ ممالک کی طرف اور عام طور پر سفر کرنے سے وابستہ جوکھم کو دیکھنے کے مسافروں کے نظریہ کو بدل دیا۔[7] حقیقت میں، مذکورہ بالا سبھی اقدام کی وجہ سے، ملیریا سے ہونے والی تخمینی اموات میں 13 فیصدی کی کمی آئی جو 2000 کی 755,000 سے گھٹ کر 2010 میں 655,000 تک پہنچ گئی۔[8] بیماری کے کیسوں میں بھی کمی واقع ہوئی، اگرچہ کم تیزی سے جو کہ 2000 کے 223 ملین سے گھٹ کر 2010 میں 216 ملین تک پہنچ گئی۔

ان سبھی ترقیات کے باوجوود، ملیریا اب بھی ایک مسئلہ کیوں بنا ہوا ہے؟ دواؤں اور کیڑے مار دواؤں کے تئیں مزاحمت کا ظہور ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ملیریا کا پیراسائٹ 50,000 سال سے زیادہ عرصے سے موجود ہے، اور قدرتی انتخاب جرثوموں کی نسل کی تغیر و تبدیلی میں مدد کرتا ہے جس کی وجہ سے انہیں خطرات سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ آج ہم زیادہ سے زیادہ دوا سے مزاحمت کرنے والے پیراسائٹس اور کیڑے مار دوا کی مزاحمت کرنے والے مچھر دیکھ رہے ہیں۔ ملیریا کی روک تھام کے اگلے دور میں بین الاقوامی کوششیں جاری ہیں: ملیریا ٹیکوں کی تخلیق جن میں بے شمار زندگیوں کو بچانے کی صلاحیت موجود ہے اور جو آخرکار اس تاریخی حالت زارکے خاتمہ میں مدد کر سکتے ہیں۔

پلازموڈیم کا دورانیۂ حیات

 ملیریا کسی دیگر متعدی بیماری کے برعکس ہے جس کے لیے ہم پہلے ہی ایک کامیاب ٹیکہ تیار کر چکے ہیں۔ ان میں سے سب سے قابل غور اختلاف یہ ہے کہ ملیریا ایک پیراسائٹ کے ذریعہ منتقل ہوتا ہے جو زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے، ان میں سے ہر ایک، ٹیکہ تیار کرنے والوں کے لیے ایک منفرد چیلینج پیش کرتا ہے۔ پلازموڈیم کے دورانیۂ حیات میں ان تین مراحل کو دو الگ الگ زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے – پہلے دو مراحل میں، پیراسائٹس میزبان کے جسم میں لاجنسی افزائش سے گزرتے ہیں اور تیسرے مرحلے میں یہ مچھروں کے حامل مرض آنت میں جنسی افزائش سے گزرتے ہیں۔ چونکہ پیراسائٹس لاجنسی اور جنسی دونوں طرح سے افزائش نسل کر سکتے ہیں، اس لیے وائرس اور بیکٹیریا کے مقابلے انہیں بہت سارے فوائد حاصل ہیں جن کے خلاف ہم فی الحال ٹیکہ لگاتے ہیں۔

پلازموڈیم کا دورانیۂ حیات تین مراحل پر مشتمل ہوتا ہے (1) پری-اریتھروسائٹک مرحلہ، جس کو لیور اسٹیج کے نام سے جانا ہے، یا اس سے پہلے کا مرحلہ جب پیراسائٹس انسان کے خون کے سرخ خلیات میں انفیکشن پیدا کر دیتے ہیں، (2) اریتھروسائٹک مرحلہ، یا خون کا مرحلہ جب پیراسائٹ خون کے سرخ خلیات میں انفیکشن پیدا کررہا ہو، اور (3) جنسی مرحلہ، وہ مرحلہ جب پیراسائٹس مچھر میں چلے جائیں اور یہ جنسی طور پر مچھر کی آنت میں افزائش کرتے ہیں۔

یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ زندگی کا ہر مرحلہ متاثرہ انسان یا حامل مرض کے ایک مختلف حصہ میں واقع ہوتا ہے۔ پہلا، جب کوئی مچھر پلازموڈیم کے ساتھ کسی انسان کو کاٹتا ہے، پیراسائٹ براہ راست جگر میں جاتا ہے۔ دوسرا، جب پیراسائٹ جگر میں پختہ ہو چکا ہو تو یہ خون کے دھارے میں داخل ہو جائے گا اور خون کے خلیات پر حملہ کر دے گا۔ آخر میں، جب یہ اپنے اگلے شکار کو متاثر کرنے کے لیے تیار ہو، یہ کسی دیگر زنانہ اینوفیلز مچھر کے ذریعہ نگل لیا جائے گا اور جنسی طور پر یہ مچھر کی آنت میں افزائش کرے گا۔[9]

اس سے پہلے کہ ہم اس تفصیل میں جائیں کہ ایک ٹیکہ کیسے ملیریا کو روک سکتا ہے، پیراسائٹ کے دورانیۂ حیات کے مراحل کا جائزہ لینا معاون ہوگا۔ پہلی شکل کو اسپوروزائٹ کے نام سے جانا جاتا ہے (اس کا تلفظ ہے اسپور-او-زو-آئٹ)۔ جب ملیریا پیراسائٹ والا کوئی مچھر کسی فرد کو کاٹتا ہے تو پیراسائٹ انسان کے جسم میں ایک اسپوروزائٹ کے طور پر داخل ہو جاتا ہے۔ جب اسپوروزائٹ جگر میں جاتا ہے تو یہ فورا جگر کے خلیات کو جراثیم سے متاثر کر دیتا ہے اور میروزوائٹس کی لاجنسی افزائش کے مختلف دوروں سے گزرتا ہے (اس کا تلفظ ہے میر-او-زو-آئٹس)۔ یہ ساری پیش رفت پیراسائٹ کے دورانیۂ حیات کے پری-اریتھروسائٹک مرحلہ کو پورا کرتی ہے۔ ایک اسپوروزوائٹ لاجنسی طور پر 40,000 تک میروزوائٹ کی شکل کی افزائش کر سکتا ہے، جو کہ پیراسائٹس کو کنٹرول کرنے کے لیے مدافعتی نظام کی صلاحیت کو سخت چیلینج کرنے کے لیے بہت کافی ہے۔

اریتھروسائٹک مرحلہ اگلا مرحلہ ہے، جو اس وقت واقع ہوتا ہے جب میروزائٹ جگر کے خلیات سے نکل جاتے ہیں اور خون کے دھارے میں داخل ہوتے ہیں۔ یہاں، میروزوائٹ خون کے سرخ خلیات کو جراثیم سے متاثر کرتا ہے اور لاجنسی طور پر افزائش شروع کر دیتا ہے اور سیکڑوں نئے میروزائٹ جاری کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جب ایک فرد ملیریا سے وابستہ میعادی بخار جیسی علامات کا تجربہ کرنا شروع کر دے گا۔ علامات خون کے سرخ خلیات کے پھٹنے کا نتیجہ ہوتی ہیں، اسی وجہ سے علامات اکثر معیادی طور پر واقع ہوتی ہیں – جب پیراسائٹس خون کے سرخ خلیات میں افزائش کررہا ہوتا ہے تو بخار کم ہو جائے گا اور مریض کو ایسا لگے کہ بخار ٹھیک ہورہا ہے، لیکن جب میروزوائٹ جاری ہو جائیں گے تو دوبارہ شروع ہو جائے گا۔

تیسرے مرحلہ میں یا جنسی مرحلہ میں، میروزوائٹ سے متاثرہ چند خون کے خلیات لاجنسی طور پر افزائش بند کردیں گے اور اس کے بجائے پیراسائٹس کی جنسی شکل اختیار کرلیں گے – جو زنانہ اور مردانہ گيمٹوسائٹس کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ایک مائیکرو اسکوپ میں، پی۔فالسیپیرم گیمٹوسائٹس اپنی منفرد کیلے جیسی شکل کے ذریعہ قابل امتیاز ہوتے ہیں۔ جب کوئی اینوفیلز مچھر کسی انسان کو کاٹتا ہے جس کو ملیریا ہو تو خون کے ساتھ اس میں گیمٹوسائٹس بھی داخل ہوں گے۔ یہ گیمیٹوسائٹس پھر جنسی طور پر مچھر کی آنت میں افزائش کرتے ہیں، پختہ جنسی خلیات یا گیمیٹس بن جاتے ہیں، اور آخر میں جب وہ مچھر کی آنت کی دیوار میں اوپر حرکت کرتے ہیں تو ایک اوسسٹ بن جاتے ہیں۔ اوسسٹ بڑھتا ہے، تقسیم ہوتا ہے، اور آخر میں پھٹ جاتا ہے اور ہزاروں ہیپلائیڈ اسپوروزائٹس پیدا کرتا ہے، جو مچھر کے لعاب کے غدود میں سفر کریں گے اور مچھر کی اگلی خونی غذا کے دوران اگلے فرد میں داخل ہو جائیں گے۔ (اگر آپ یاد کریں گے تو اسپوروزائٹ ان پیراسائٹس کی ایک شکل ہے جو جگر کو جراثیم سے متاثر کرتے ہیں۔) اس لیے پیراسائٹس کا دورانیۂ حیات مکمل دائرہ بن جاتا ہے اور اس کی مدد سے ملیریا پھیلتا رہتا ہے اور دنیا بھر میں لوگوں متاثر کرتا رہتا ہے۔[10]

ایک ملیریا ٹیکہ: پیراسائٹس کے خلاف ایک مامونی طریقہ کار

پلازموڈیم کا پیچیدہ دورانیۂ حیات ملیریا کے ٹیکے کی تیاری کے لیے ایک چیلینج پیش کرتا ہے۔ تحقیق کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس بات کا تعین کریں کہ پیراسائٹس کی زندگی کے کس مرحلہ کو ہدف بنانا ہے، یا کیا ٹیکہ میں ایسے عناصر شامل کرنے کی ضرورت ہے جو زندگی کے ایک سے زیادہ مرحلہ کو ہدف بنائے۔ تاہم، حالیہ دریافتوں سے ہم ملیریا کے ایک مؤثر ٹیکے کے امکان کے بارے میں پرامید ہیں۔

ملیریا ان ساری بیماریوں سے تھوڑا سا الگ ہوتا ہے جن کے لیے فی الحال ہم ٹیکہ لیتے ہیں کیونکہ یہ نام نہاد جراثیم سے پاک مامونیت عطا نہیں کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ ملیریا سے بیمار ہو جائیں اور صحت یاب ہو جائیں تو آپ بار بار سے جراثیم سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ حقیقت کہ آپ کے مدافعتی نظام نے ماضی میں ملیریا کے تئیں ردعمل کیا تھا مستقبل میں انفیکشن کو نہیں روک سکے گا۔ یہ خسرہ جیسی کسی بیماری سے بالکل الگ ہے: زیادہ تر لوگ جن کو خسرہ لاحق ہوتا ہے وہ مستقبل میں زندگی بھر خسرہ کے انفیکشنز سے محفوظ رہیں گے۔ ملیریا کے ساتھ، قدرتی طور پر حاصل کردہ قوت مدافعت کی ایک ڈگری کا کچھ ثبوت ہے – کوئی ایسا فرد جسے ماضی میں ملیریا لاحق ہو چکا ہو وہ اب بھی دوبارہ اس میں مبتلا ہو سکتا ہے، لیکن شاید وہ کم سنگین کیس میں مبتلا ہو۔ بہت سے افریقی ممالک میں جہاں ملیریا عام ہے، زیادہ تر لوگ جو ملیریا سے دوبارہ متاثر ہوتے ہیں انہیں اس جزوی حاصل کردہ قوت مدافعت کی وجہ سے صرف ہلکی علامات کا تجربہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ کہ ملیریا پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے اتنا زیادہ مہلک ہوتا ہے۔ ان بچوں نے پیراسائٹس کے خلاف ابھی تک کسی سطح کی قوت مدافعت حاصل نہیں کی ہے، اور اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ وہ ایسے سنگین کیس کا سامنا کریں جس کی وجہ سے مہلک پیچیدگیاں لاحق ہو سکتی ہیں۔ مزید یہ کہ، یہی وجہ ہے کہ وہ غیر ملکی جن کو کبھی ملیریا لاحق نہیں ہوا انہیں بہت محتاط رہنا چاہیے – جب پہلی بار وہ اس سے متاثر ہونگے تو ان کا کیس بہت سنگین ہو سکتا ہے۔ آخر میں، قدرتی طور پر حاصل کردہ جزوی قوت مدافعت طویل مدت تک نہیں رہتی ہے۔ حقیقت میں، جب کسی نے افریقہ میں اپنی پوری زندگی بسر کی ہو اور ایک سال کے لیے بھی وہاں سے روانہ ہوگا تو وہ اپنی جزوی مامونیت کھو دے گا اور پھر ایک بار ملیریا سے غیر محفوظ ہو جائے گا ٹھیک اس شخص کی طرح جو کبھی بھی ملیریا سے متاثر نہیں ہوا ہو۔[11] ، اس لیے، ایک ملیریا ٹیکہ تیار کرنے کا ایک طریقہ یہ ہوگا کہ جزوی مامونیت کے نظام کو سمجھا جائے اور اس اصول کی بنیاد پر کوئی ٹیکہ تیار کیا جائے۔

ایک اور طریقۂ کار جس نے ملیریا ٹیکہ کے تحقیق کنندگان کی رہنمائی کی ہے وہ ہے ایک لائیو اٹینویٹیڈ (کمزور شدہ) کامل پیراسائٹس کے ذریعہ اس کے اسپوروزائٹ شکل میں مامونیت فراہم کرنے کا تصور۔ اس آئیڈیا کو 1967 میں انجام دیئے گئے ایک مطالعہ میں تائید حاصل ہوئی جس میں Nussenzweig اور دوسرے لوگوں نے چوہوں کو ریڈی ایشن سے کمزور کردہپلازموڈیم بارگھیئی (ملیریا کی ایک غیر انسانی شکل) اسپوروزوائٹ کے ساتھ مامون کیا اور دیکھا کہ چوہے بعد میں متعدی اسپوروزوائٹس والے چیلینج میں محفوظ ہیں۔ [12]

2002 میں انسانوں کے لیے اس آئیڈیا کو اختیار کرکے، ہوفمین اور دوسرے لوگوں نے یہ دکھایا کہ وہ متاثرہ انوفلیز مچھروں میں موجود اسپوروزوائٹ کو کمزور کرنے کے لیے گاما ریڈی ایشن کا استعمال کر سکتے ہیں، اور پھر انسانوں کو تقریبا پوری طرح سے محفوظ بنا سکتے ہیں۔ زیر تحقیق انسانوں کو جراثیم سے متاثرہ مچھروں کے ذریعہ کاٹنے کی زد میں لایا گيا، جنہوں نے تابکاری والے اسپوروزوائٹس کو ان زیر تحقیق انسانوں میں داخل کیا۔ اسپوروزوائٹس جگر کے خلیات میں سفر کر سکتے ہیں، لیکن مزید پختہ نہیں ہو سکتے ہیں۔ یہ کمزور شدہ اسپوروزوائٹس اب بھی انسانی میزبان میں ایک مامونی ردعمل پیدا کرنے کے لائق تھے، لیکن چونکہ وہ جگر سے آگے بڑے نہیں ہو سکتے تھے، اس لیے میزبان بیمار نہیں ہوگا۔ نتیجتاً، اگلی بار جراثیم سے متاثر ایک مچھر نے مامون شدہ فرد سے خون کی غذا لی اور پلازموڈیم اسپوروزوائٹ والے فرد میں داخل کردیا، مدافعتی نظام اس خطرے کی پہچان کرے گا اور اس سے پہلے کہ وہ بیماری کا سبب بنے، پیراسائٹ کا خاتمہ کرے گا۔

اس تابکاری کے طریقہ میں دو بڑی خامیاں ہیں: یہ کفایتی نہیں تھا اور بڑے پیمانے پر قابل عمل نہیں تھا۔[13] اس کے باوجود اس نے اصول کے ثبوت کے طور پر کام کیا، اور سائنسدانوں کو مستقبل کے لیے امید دلائی اور اس میدان میں بڑی تحقیق کی انجام دہی میں ان کی مدد کی۔

 

حالیہ تحقیق

سائنسدانوں نے ملیریا کے بہت سے ممکنہ ٹیکے تیار کرنے کے لیے 2002 کے مطالعہ سے جو کچھ بھی سیکھا ان میں توسیع کی ہے۔ ایک لائیو اور کمزور شدہ ٹیکہ کو آزمانے کے بجائے، زیادہ تر سائنسداں آج ٹیکہ میں مخصوص اینٹی جن کو الگ کرنے اور منتقلی کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کررہے ہیں۔[14] اور جونکہ پیراسائٹ کی زندگی کے تین مختلف مراحل ہوتے ہیں، اس لیے تین مختلف ٹیکوں کے طریقوں پر تحقیق کی جارہی ہے۔

پری-اریتھروسائٹک ٹیکے متعدی مرحلہ کو ہدف بناتے ہیں اور اس کا ہدف ہے یا تو جگر کے خلیات سے اسپوروزوائٹ کی روک تھام کرنا یا جراثیم سے متاثرہ جگر کے خلیات کو تباہ کرنا۔[15] ایک پری-اریتھروسائٹک ٹیکہ کے لئے ایک نمایاں چیلینج ٹائم فریم ہوتا ہے: اسپوروزوائٹس مچھر کے ذریعہ داخل کئے جانے کے بعد ایک گھنٹہ سے کم عرصہ میں جگر میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں، آپ کے مدافعتی نظام کے پاس پیراسائٹ کا خاتمہ کرنے کے لیے محدود وقت ہوتا ہے۔ اگرچہ زیادہ تر ممکنہ پری-اریتھروسائٹک ٹیکے اب بھی مرحلہ I یا مرحلہ II کی آزمائش میں ہیں، لیکن ایک ٹیکہ فی الحال مرحلہ III کی آزمائش میں ہے اور اس میں امید کی کرن دکھائی دے رہی ہے: RTS,S ٹیکہ۔ (یاد رکھیں کہ مرحلہ 1 مطالعات میں سلامتی، مرحلہ II کی جانچوں میں دوا کی خوراک، اور مرحلہ III کی جانچوں میں مجموعی تاثیر کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔[16] )

RTS,S ٹیکہ تیار کرنے کے لیے، ٹیکہ تیار کرنے والوں نے اس پروٹین کی پہچان کی ہے جو 2002 سے تابکاری والے اسپوروزوئٹس کی آزمائش میں تحفظ کا سب سے زیادہ ذمہ دار تھا۔ یہ اینٹی جین کو سرکمسپوروزوائٹ پروٹین یا سی ایس پروٹین کہا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ اینٹی جین حفاظتی ہے، لیکن یہ خود زیادہ مامونیت ساز نہیں ہے، اس کا مطلب ہے کہ یہ مدافعتی ردعمل کو متحرک کرنے کے لیے اچھا نہیں ہے۔ اس لیے، سائنسدانوں نے ہیپاٹائٹس بی سرفیس اینٹی جین (وہ اینٹی جین جو ہیپاٹائٹس بی ٹیکہ میں تحفظ فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے) کی آمیزش سی این پروٹین کے ایک اینٹی جین کے ساتھ کی۔ مدافعتی نظام کو مزید تحریک دینے کے لیے، سائنسدانوں نے ایک مرکب کا استعمال کیا جس کو معاون دوا کہا جاتا ہے جو اینٹی جین کے تئیں مدافعتی نظام کے ردعمل کو مضبوط کرتی ہے۔ ہدف ہے اسپوروزوائٹس کو جگر کے خلیات میں داخل ہونے سے روکنا اور تباہ کرنے کے لیے مخصوص متاثرہ خلیات کو نشان زد کرنے کے لیے اونچی سطح کی اینٹی باڈیز پیدا کرنا۔

RTS,S ٹیکہ کی 11 مختلف افریقی ممالک میں مرحلہ III کی آزمائش میں جانچ کی گئی۔ ان آزمائشوں کو کچھ کامیابی حاصل ہوئی۔ ابتدائی نتائج، جو کہ اکتوبر 2011 میں جاری کئے گئے، دکھاتے ہیں کہ 5 سے لیکر 17 مہینے کے بچوں میں RTS,S کے ذریعہ ٹیکہ کاری نے کلینیکل ملیریا اور سنگین ملیریا کے خطرےکو علی الترتیب 56 فیصد اور 47 فیصد کم کردیا۔[17] تاہم، نومبر 2012 میں جاری کردہ نتائج میں، ٹیکہ اپنی پہلی ٹیکہ کاری پے 6-12 ہفتوں کی عمر کے شیرخوار بچوں میں کم مؤثر تھا۔ اس گروپ میں، RTS,S کے ذریعہ ٹیکہ کاری کی وجہ سے کلینیکل اور سنگین دونوں ملیریا کے واقعات میں ایک تہائی کمی واقع ہوئی۔ آزمائش کے حتمی نتائج نے، جس میں چھوٹے بچوں کی متابعت تقریباً 3 برسوں تک کی گئی، پہلی ٹیکہ کاری پر سب سے چھوٹے بچوں کے لیے کلینیکل ملیریا کیس میں 26 فیصد کی کمی دکھائی اور 17 مہینے تک کے بچوں کے لیے 36 فیصد کی کمی دکھائی۔[18] جولائی 2015 میں، یوروپی میڈیسین ایجنسی نے سفارش کی کہ ٹیکہ افریقہ میں چھوٹے بچوں کے لیے استعمال ہونے کی خاطر لائسنس یافتہ ہو؛ عالمی ادارہ صحت ٹیکہ سے متعلق سفارش پر غور کر رہا ہے۔ اسی دوران، WHO کے ایک مشاورتی گروپ نے کچھ ذیلی سہارا افریقی ممالک میں ٹیکہ کے نفاذ کی سفارش کی ہے۔[19] RTS,S کے سب سے بڑے صانع، سیٹل، واشنگٹن، یو ایس اے میں واقع ایک غیر منافع بخش ادارہ دی ملیریا ویکسن انیشیٹیو، کو امید ہے کہ 2025 تک ایک پہلے سے بھی بہتر ٹیکہ تیار ہو جائے گا جو 80 فیصد مؤثر ہوگا۔[20]

متعدد دیگر پری-اریتھروسائٹک ٹیکے آزمائشوں میں ہیں لیکن کسی میں بھی امید یا RTS,S کی کامیابی دکھائی نہیں دی ہے۔ سائنسداں پرائم بوسٹ ٹیکنالوجی، معاون دواؤں اور اینٹی جین کو بہتر بنانے کی تکنیک کا استعمال کرکے RTS,S ٹیکہ کی تاثیر کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ اس کو 50 فیصد سے زیادہ مؤثر بنا سکیں۔[21]

اریتھروسائٹک ٹیکوں، یا بلڈ اسٹیج کے ٹیکوں کا ہدف ہے خون کے سرخ خلیات میں پیراسائٹ کے سخت حملہ اور لاجنسی افزائش کو روکنا۔ یاد کریں کہ بلڈ اسٹیج وہ وقت ہوتا ہے جب علامات نمودار ہوتی ہیں اور خون کے سرخ خلیات کے پھٹنے کی وجہ سے یہ مریض کے لیے سب سے زیادہ تباہ کن بھی ہوتا ہے۔ اس مرحلہ میں بڑی تعداد میں میروزوائٹس کے پیدا ہونے کی وجہ سے، 40,000 میروزوائٹس جگر کے ہر ایک متاثرہ خلیہ کے لیے جاری ہوتے ہیں- ایک بلڈ اسٹیج ٹیکہ کا ہدف خون کے سرخ خلیات کو متاثر کرنے والے میروزوائٹس کی تعداد کو کم کرنا ہے بجائے اس کے کہ ان کی نقل سازی کو پوری طرح سے بلاک کردیا جائے۔[22] فی الحال کوئی ایسے بلڈ اسٹیج ٹیکے نہیں ہیں جن کو RTS,S ٹیکہ کی کامیابی ملی ہو اور ان میں سے زیادہ تر اب بھی مرحلہ I یا مرحلہ II سے گزر رہے ہیں۔

آخر میں، ایک دیگر قسم کا ٹیکہ جنسی افزائش کے مرحلہ کو ہدف بناتا ہے جو مچھر کی آنت میں واقع ہوتی ہے۔ اس طریقہ کو ایک ٹرانزمیشن بلاکنگ ٹیکہ (TBV) کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ اس کا ہدف ہے پیراسائٹ کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حامل مرض، اینوفیلز مچھر کو ہلاک کرنا۔ یہ کسی ٹیکہ تک پہنچنے کا ایک براہ راست طریقہ ہے کیونکہ یہ براہ راست کسی ایسے فرد کا تحفظ نہیں کرے گا جس کو پیراسائٹ موصول ہوتا ہے بلکہ اس کے بجائے جاری پھیلاؤ کو روک دے گا۔[23]

ایک TBV امیدوار ٹیکہ25-EPA Pfs ہے جو یو ایسنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اور انفیکشن ڈیزیز لیباریٹری آف ملیریا امیونولوجی اور ویرولوجی اور جانس ہوپکنس یونیورسٹی سنٹر برائے ویکسین کی تحقیق کے ذریعہ تیار کیا جا رہا ہے۔ اس ٹیکہ کے پس پشت آئیڈیا یہ ہے کہ اگر جسم Pfs25  اینٹی جین کے خلاف اینٹی باڈیز تیار کر سکتا ہے تو خون کی غذا حاصل کرنے والا ایک مچھر ان میں سے کچھ اینٹی باڈیز کو اپنے پیٹ میں داخل کر لے گا۔ وہاں اینٹی باڈیز اینٹی جین کا مقابلہ کریں گی، انہیں تیاری کے ساتھ مداخلت کرنے کے قابل بنائیں گی اور پیراسائٹ کو ہلاک کر دیں گی۔[24]

آخرکار، بہت سے سائنسداں سوچتے ہیں کہ اگلا قدم ہے ایک ملیریا ٹیکہ تیار کرنے کے لیے مختلف طریقوں کو مرکب کرنا۔ لیکن انفرادی مرحلہ کے ان ٹیکوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود سے تاثیر کا مظاہر کریں اس سے پہلے کہ سائنسداں طریقوں کے امتزاج سے کوئی ٹیکہ تیار کریں۔ مزید یہ کہ بڑا چیلینج جس کا سامنا سائنسدانوں کو مستقبل میں ہوگا وہ یہ ہے کہ مامونیت کے لیے کوئی معلوم عوامل ارتباط نہیں ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ٹیکہ کی تاثیر کا مظاہرہ کرنے کے لیے انسانوں میں مہنگی کلینیکل آزمائش کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔[25] اس لیے اگرچہ بڑی پیش رفت ہوئی ہے لیکن ملیریا ٹیکہ کی تیاری ہمیشہ مہنگی رہے گی اور اس کے لیے مختلف الجہات کوششیں درکار ہوں گی۔


1.      CDC. The history of malaria, an ancient disease. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔.

2.      Gardner MJ et al. Genome sequence of the human malaria parasite Plasmodium falciparum. Nature. 2002 3;419(6906):498-511. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

3.   CDC. The History of malaria, an ancient disease. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔.

4.      منظمة الصحة العالمية. http://www.who.int/mediacentre/factsheets/fs094/en
31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔ . 

5.      Achan J et al. Quinine, an old anti-malarial drug in a modern world: role in the treatment of malaria.
 Malar J. 2011; 10: 144.  31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔ 

6.      http://info.onlinelibrary.wiley.com/userfiles/ccoch/file/CD000363.pdf 
31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔.

7.     CDC. The History of malaria, an ancient disease. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔.

8.     WHO.  World malaria report 2011. (29 MB) 
31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

9.     http://www.malariavaccine.org/malvac-lifecycle.php 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔.

10.   http://www.niaid.nih.gov/topics/malaria/pages/lifecycle.aspx  31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

11.    Doolan DL Dobaño C, Baird JK. Clin Microbiol Rev. 2009 Jan;22(1):13-36,
 Table of Contents. Acquired immunity to malaria. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔.

12.    Nussenzweig RS, Vanderberg J, Most H, Orton C. Protective immunity produced by the injection of x-irradiated sporozoites of Plasmodium berghei. Nature 1967; 216:160 – 2.

13.   Hoffman et al. Protection of humans against malaria by immunization with radiation-attenuated Plasmodium falciparum sporozoitesJ Inf Dis 185:1155–1164 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔.

14.    MVI Website  31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔.

15.    http://www.malariavaccine.org/rd-vaccine-candidates.php 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔.

16.   http://www.historyofvaccines.org/content/articles/vaccine-development-testing-and-regulation
31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

17.    The RTS, S Clinical Trials Partnership. First results of Phase 3 trial of RTS,S/AS01 malaria vaccine in African childrenN Engl J Med 2011; 365:1863-1875. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔.

18.   Moorthy VS, Okwo-Bele JM. Final results from a pivotal phase 3 malaria vaccine trialLancet.2015; 386. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔.

19.   http://who.int/mediacentre/news/releases/2015/sage/en  31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔.

20.    http://www.malariavaccine.org/rd-research-programs.php 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔.

21.    http://www.malariavaccine.org/rd-collaborations.php  31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔.

22.    http://www.malariavaccine.org/malvac-approaches.php  31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔.

23.    http://www.malariavaccine.org/malvac-approaches.php 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔.

24.    http://www.malariavaccine.org/pr_2011_pfs25.php 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔.

25.     http://www.malariavaccine.org/malvac-state-of-vaccine-dev.php 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔.

 

PDF پڑھنے کے لیے، Adobe Reader ڈاؤن لوڈ کریں اور انسٹال کریں۔

آخری بار 31 مارچ 2017 کو اپڈیٹ کیا گي