ایچ آئی وی ٹیکوں کی تیاری

ایک ایسے وقت میں جب 1990 کی دہائی میں انفیکشن کی بہت سی بیماریوں پر بین الاقوامی ٹیکہ کاری کی کوششوں سے قابو پایا جارہا تھا، ایڈز وائرس (HIV) نے، جس کی پہچان صرف 1984 میں ہی ہوئی، دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو انفیکشن سے متاثر کردیا تھا۔ 1990 سے لیکر 2014 تک، ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے لوگوں کی تعداد میں 8 ملین سے 36.9 ملین تک اضافہ ہوا؛ ایچ آئی وی/ایکوائرڈ امیون ڈیفیسینشی سنڈروم (ایڈز) وباء کی شروعات سے ہی، ایڈز نے 34 ملین سے زیادہ جانیں لے لیں۔

ایچ آئی وی صحت عامہ کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے نہ صرف اس وجہ سے کہ ٹیکہ کے ذریعہ اس کو روکا نہیں جا سکتا ہے، بلکہ اس لئے بھی کہ جن لوگوں کو یہ بیماری لاحق ہوتی ہے انہیں زندگی بھر کے لئے یہ لاحق ہوتی ہے ایک ایسے وائرس کے ذریعہ جو مدافعتی نظام کو اپنا نشانہ بناتا ہے – انہیں دیگر انفیکشن کے لئے مزید غیر محفوظ بنا دیتا ہے۔ وائرس ان امیون ٹی ہیلپر خلیات کو ہلاک کر دیتا ہے جن کو CD4+ خلیات کہا جاتا ہے، جو انسان کے مدافعتی نظام کے رابطہ کار ہیں۔ یہیں سے "اکوائرڈ امیون ڈیفیسینشی سنڈرم" کا نام ماخوذ ہے: جب ایچ آئی وی کافی CD4+ خلیات کو ہلاک کردیتا ہے تو متاثرہ فرد کا مدافعتی نظام ان انفیکشن سے مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہتا ہے جن کو وہ یونہی قابو میں کر لیتا تھا۔ جب CD4+ خلیات کی تعداد گھٹ کر ایک مخصوص نقطہ سے نیچے چلی جاتی ہے، تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس فرد کی بیماری ایچ آئی وی انفیکشن سے ایڈز میں داخل ہو گئی ہے۔ ایڈز والے افراد کو بہت سی قسم کے انفیکشنز لاحق ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، بشمول وہ انفیکشن جن سے وہ یونہی مقابلہ کر سکتے تھے، بشمول نمونیا کی قسمیں، تپ دق، اور چکتے، اور کچھ مخصوص قسم کے کینسر۔[2]

ایڈز وباء کے ابتدائی سالوں میں، وائر کی زد میں آنے والے لوگوں کو خاص موت کا سامنا کرنا پڑتا تھا، اکثر انفیکشن کے بعد صرف چند ہی سالوں کے اندر۔ اگرچہ بڑھتے بحران میں مالی امداد اور تحقیقی کوششیں جاری کرنے کے لئے طبی اور صحت عامہ کے میدانوں میں بہت سے لوگ ایک ساتھ آئی ں، لیکن ملکی حکومت کا ردعمل عام طور پر دھیما رہا۔ وہ عوامل جو ملکی حکومت کو کاروائی کرنے پر مجبور کیا ان میں شامل ہیں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد اور ان کے ساتھیوں کے ذریعہ آواز اٹھانا اور سائنسی دنیا کے حامیوں کے ذریعہ مستقل کوششیں۔ انھوں نے مؤثر علاج کی ضرورت، مؤثر علاج تک رسائی کو بہتر بنانے کی ضرورت جب وہ تخلیق ہو جائے، اور ایچ آئی وی انفیکشن کے ساتھ زندگی گزارنے کے کلنک کو کم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے پر زور دیا۔

اگرچہ اینٹی ریٹرو وائرل علاج نے ایچ آئی وی سے متاثر افراد کے لئے زندگی کی بقا اور زندگی کی کوالٹی میں میں بڑا سدھار پیدا کیا، لیکن ایچ آئی وی انفیکشن کی روک تھام اب بھی ایک اولین ہدف ہے، خاص طور سے ان ترقی پذیر ممالک کے لئے جن پر اس عام وباء کی سب سے زیادہ مار پڑی ہے اور وہ علاج کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں۔ ایچ آئی وی ٹیکہ کی تیاری کے لئے کئی سال کوشش کی گئی اور اب بھی کوشش جاری ہے۔

تاہم، یہ خاص وائرس ٹیکہ کی تیاری میں منفرد چیلینج پیش کرتا ہے۔

عام اصطلاح میں، سبھی ٹیکے ایک ہی طریقہ سے کام کرتے ہیں: وہ کسی مخصوص پیتھوجین کی پہچان کرنے اور اس پر حملہ کرنے کے لئے اپنا کام مدافعتی نظام سے شروع کرتے ہیں اگر مستقبل میں یہ جسم کے اندر دکھائی دے۔ یہ مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے: آپ پیتھوجین کو غیر فعال کرکے کوئی ٹیکہ تخلیق کر سکتے ہیں (جیسا کہ انجیکٹ ہونے والے پولیو ویکسین میں ہوتا ہے)، یا اس کو کمزور کرکے (جیسا کہ خسرہ کے ویکسین میں ہوتا ہے)، یا صرف اس کے ایک حصہ کا استعمال کرکے (کالی کھانسی)، یا اس کو کسی اور چیز کے ساتھ ملا کر جو ایک مدافعتی ردعمل کو تحریک دینے میں اس کی مدد کرے (نیموکوکسل ویکسین)۔ کسی بھی طریقہ کا استعمال ہو، لیکن ٹیکہ پیتھوجین کے ساتھ فوری طور پر ردعمل کرنے کے لئے مدافعتی نظام کو ترجیح دیتا ہے اگر یہ مستقبل میں یہ جسم کے اندر داخل ہو۔

ایچ آئی وی کے منفرد چیلینج 

اپریل 1984، یو ایس میں۔ صحت اور انسانی خدمات کے سیکریٹری مارگریٹ ہیلکر نے ایک ایچ آئی وی ٹیکہ کے بارے میں ایک امید افزا بیان دیا، جو کہ ایک ایسی بات چیت پر مبنی تھا جو وہ وائرس کے دریافت کرنے رفیق کار رابرٹ گیلو کے ساتھ کی تھی: انہوں نے ایک پریس کانفرینس میں کہا کہ "ہمیں امید ہے کہ ہم تقریبا دو سالوں میں ٹسٹنگ کے لئے ایک ٹیکہ تیار کرلیں گے"۔[3] یقینا، یہ پیشن گوئی بہت امید افزا تھی، اس بات کے مدنظر کے کہ زیادہ تر ٹیکوں کو تیار کرنے میں 10-20 سال لگتے ہیں۔ لیکن 30 سال بعد، کیوں ابھی تک کوئی لائسنس یافتہ ایچ آئی وی ٹیکہ نہیں ہے؟

مختصر یہ کہ، عام طورپر بتائی جانے والی وجوہات ہیں

·       ایچ آئی وی کے تئی ں فطی مامونیت کا فقدان

·       ایچ آئی وی کی اقسام میں تغیر و تبدیلی

·       حفاظتی مامونیت کے باہمی تعلق کا فقدان

·       ایک ایسے جانور ماڈل کا فقدان جو بھروسہ کے ساتھ انسانوں میں ٹیکہ کی تاثیر کی پیشن گوئی کرے۔

یہ سبھی عوامل مزید پیش رفت کے لئے ٹیکہ کے امیدواروں کا انتخاب کرنا اور ترجیح دینا دشوار بناتے ہیں۔ ان کے بارے میں نیچے سمجھایا گیا ہے۔

ایچ آئی وی ٹیکہ کے معیاری طریقے کار کے لئے چیلینج پیدا کرتا ہے جس کی پہلی اور سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ خسرہ اور چیچک جیسی بیماریوں کے برعکس، کوئی بھی فرد ایچ آئی وی کے انفیکشن سے فطری طور پر صحت یاب نہیں ہوتا ہے۔ اگر کسی فرد کو خسرہ لاحق ہوئی ہے اور زندہ بچ جاتا ہے تو انفیکشن کے تئیں قوت مدافعت کا ردعمل عام طور پر مستقبل میں خسرہ والے انفیکشن کی روک تھام کے لئے کافی ہوگا۔ تحقیق کار اس فطری طور پر حاصل کردہ مامونیت کا استعمال تحفظ کی اس سطح کے لئے ایک نمونہ کے طور پر کر سکتے ہیں جو ایک کامیاب ٹیکہ کو فراہم کرنا چاہئے۔

فطری مامونیت کے لئے کسی نمونہ کے بغیر، تحقیق کاروں کے پاس اس مدافعتی ردعمل کو پہچاننے کا کوئی راستہ نہیں ہے جو ایچ آئی وی کے خلاف مؤثر ہوگا، اور اس لئے ایک ایچ آئی وی ٹیکہ تیار کرنا بہت زیادہ دشوار ہے۔ (کچھ افراد فطری طور پر انفیکشن کو کنٹرول کرنے اور ایڈز کی طرف اس کی پیش رفت کو روکنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اس بارے میں تحقیق کہ کیسے یہ افراد، جن کا ذکر یہاں "ممتاز کنٹرولرس" کے نام سے کیا گیا ہے، انفیکشن کو کنٹرول کرنے کے قابل ہیں، ٹیکہ کی تیاری کے لئے ایک اور ممکنہ راستہ پیش کرتی ہے۔)

ایک ٹیکہ کی تیاری میں پیش آنے والا دوسرا چیلینج یہ ہے کہ ایچ آئی وی اکثر و بیشتر ساکت رہتا ہے۔ وائرس میں اکثر پیش آنے والی یہ تبدیلیاں کسی ٹیکہ کے ہدف کی پیش رفت کو دشوار بناتی ہیں۔ مزید یہ کہ، ایچ آئی وی کے بہت ساری ذیلی قسمیں ہیں، جن میں سے ہر ایک جنیاتی طور پر الگ ہے؛ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ اضافی ذیلی قسموں کا ابھرنا جاری رہے گآ۔ یہ ایک دوسرا چیلینج پیش کرتا ہے، کیونکہ ایک ٹیکہ جو ایک ذیلی قسم کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے وہ ہو سکتا ہے کہ دوسروں کے خلاف تحفظ فراہم نہ کرے۔

ایک تیسرا چیلینج (پہلا سے جڑا) یہ ہے کہ تحقیق کار ابھی تک یہ تعین نہیں کرپائی ں ہیں کہ ایچ آئی وی انفیکشن اور حفاظتی مامونیت کے درمیان باہمی تعلق کے بارے میں کیا جانکاری حاصل ہے۔ حفاظتی مامونیت کے باہمی تعلق کا مطلب ہے کہ "ایک مخصوص مدافعتی ردعمل جس کا قریبی تعلق انفیکشن، بیماری یا دیگر مقررہ نقطہ اختتام کے خلاف تحفظ سے ہو"۔ چونکہ ایسا کسی فرد کے بارے میں جانکاری نہیں ہے جس کو ایچ آئی وی لاحق ہوا ہو اور پھر اس نے فطری طور پر وائرس کو صاف کردیا ہو*، اس لئے ہمیں معلوم نہیں ہے کہ کسی فرد میں ایچ آئی وی سے تحفط کیسا دکھائی دے گا۔ کیا یہ کسی مخصوص قسم اور مخصوص تعداد کی اینٹی باڈیز کی تخلیق ہوگی؟ کیا یہ کسی مخصوص قسم کی میموری ٹی سیل کی استقامت ہوگی؟ جب تک تحقیق کار اس حقیقت تک پہنچ نہ جائی ں کہ ایچ آئی وی انفیکشن کا حفاظتی مامونیت کے ساتھ کیا باہمی تعلق ہے، تب تک ایک ٹیکہ کی تیاری اور تصدیق دشوار ہوگي۔

آخر میں، زیادہ تر بیماریوں اور ویکسین کی تحقیق میں انفیکشن اور مدافعتی نظام کے ردعمل کے بنیادی طریقے کو سمجھنے میں جانور کے نمونے اہم ہوتے ہیں۔ تاہم، ایچ آئی وی انفیکشن اور مدافعتی نظام کے ردعمل کے لئے کوئی بھروسہ مند، غیر انسانی جانور کا نمونہ نہیں ہے۔ جانوروں میں ایچ آئی وی ویکسین کی جانچوں سے ابھی تک اس بارے میں درست پیشن گوئی حاصل نہیں ہوئی ہے کہ ٹیکے کیسے انسانوں کے اندر کام کرتے ہیں۔ تحقیق کار سیمیان امیونوڈیفیسینشی وائرس (SIV) کے خلاف، ایچ آئی وی سے جڑا بندر کے وائرس کے خلاف اور جنیاتی طور پر تیار کردہ SIV اور HIV کے مخلوط النسل کے خلاف ٹیکوں کو ٹسٹ کرنے کے لئے لگاتار ٹرائل انجام دیتے رہے ہیں اس امید میں کہ وہ یہی طریقہ ایچ آئی وی کے خلاف استعمال کر سکے۔

توقع کی حالیہ وجہ 

2009 میں، تاریخ میں ایچ آئی وی ویکسین کی سب سے بڑی آزمائش کے نتائج کا اعلان کیا گيا۔ “RV144” یا "تھائی ٹرائل" کے نام ذکر کیا گيا (کیونکہ یہ تھائلینڈ میں انجام دیا گيا)، اس میں 16,000 سے زیادہ شرکت کنندگان تھے اور اس کی تکمیل میں چھہ سال لگ گئے۔

آزمائش میں دو تجرباتی ایچ آئی وی ٹیکوں کے ساتھ "پرائم بوسٹ" حکمت عملی استعمال کی گئی۔ پہلا ایک ریکومبیننیٹ ٹیکہ تھا جس میں ایک کاناریپوکس وائرس کا استعمال کیا گيا، داخل کردہ ایسے جین کے ساتھ جو ایچ آئی وی کے اینٹی جینک پروٹین کوڈ تھے۔[4][5] اس ٹیکہ کا استعمال "پرائم" کے طور پر کیا گيا اور اس کا مقصد تھا خلیات کے ثالثی والی مامونیت (ٹی سیل ریسپانس) کو تحریک دینا۔ "بوسٹ" ٹیکہ ایچ آئی وی کا جنیاتی طور پر منظم کردہ اینٹی جینک سرفیس پروٹین کا ایک مرکب تھا، اور اس کا مقصد تھا اینٹی باڈی کی تخلیق کو تحریک دینا (جو کہ بی سیل ریسپانس ہے)۔[6][7]

انسانوں میں ایچ آئی وی کے خلاف پرائم ٹیکہ کی تاثیر کو کبھی ٹسٹ نہیں کیا گيا تھا (اگرچہ یہ سلامتی کے متعدد ٹرائل سے گزرچکا تھا)۔ بوسٹ ٹیکہ کو جب پہلے ٹسٹ کیا گيا تو وہ ایچ آئی وی کے خلاف اپنی تاثیر کے اظہار میں ناکام ہو گيا تھا۔ لیکن جب ان کا استعمال RV144 ٹرائل میں کمبینیشن کے ساتھ کیا گيا تو ٹیکے ایچ آئی وی انفیکشن کی روک تھام میں معتدل طور پر مؤثر تھے۔ خاص طور سے، ٹرائل کے ان شرکت کنندگان میں 31 فیصد کم ایچ آئی وی انفیکشن پائے گئے جن کو پرائم بوسٹ کمبینیشن ملا تھا ان لوگوں کے مقابلے میں جس کو ایک پلاسیبو ملا تھا۔

31 فیصد تاثیر کی سطح اتنا بھی زیادہ نہیں ہے کہ ٹرائل مرکز کے باہر ٹیکہ کے استعمال کی گراینٹی دے دی جائے، خاص طور سے ايچ آئی وی جیسی سنگین ایک بیماری کے لئے۔ ابھی تک پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ کسی ایچ آئی وی ٹیکہ کی تاثیر کے ٹرائل میں حقیقی طور پر وائرس کے خلاف تحفظ کا ثبوت پایا گيا، جو تحقیق کاروں کو ایک امید دیتا ہے کہ ایک مؤثر ایچ آئی وی ٹیکہ ممکن ہے۔

ایچ آئی وی ٹیکہ کی تیاری کی موجودہ حالت

RV144 ٹرائل کے مثبت نتائج کی روشنی میں تحقیق کاروں کے لئے پہلی ترجیح یہ ہے کہ پرائم بوسٹ ٹیکہ کے کمبینیشن سے تحفظ کے باہمی تعلق کا تعین کرنا: وہ یہ ہے کہ بالکل ٹھیک طور پر اس بات کا تعین کیا جائے کہ پرائم بوسٹ کمبینیشن نے کیسے ایچ آئی وی والے انفیکشن کے خلاف تحفظ فراہم کیا۔ تحقیق کار پرائم بوسٹ کمبینیشن کے ذریعہ پیدا ہونے والی اینٹی باڈیز کا مطالعہ کر چکے ہیں (جس میں شامل ہے اینٹی باڈی ردعمل کی مختلف قسمیں)؛ کیا ٹی سیل ردعمل واقع ہوا؛ اور کیا مطالعہ کے شرکت کنندگان کے انفرادی جینیٹکس نے ٹیکہ کے کمبینیشن کے تئیں ان کے ردعمل میں کوئی کردار ادا کیا۔ 2012 میں شائع ہونے والا ایک مطالعہ اشارہ کرتا ہے کہ ٹی سیل کے ردعمل نے غالبا انفیکشن کے خلاف تحفظ میں کوئی کردار ادا نہیں کیا، اور یہ کہ ٹیکہ کی تاثیر کا تعلق وائرل انویلپ پروٹین کے مخصوص علاقوں کے تئی ں اینٹی باڈی کے ردعمل سے تھا۔[8]

RV144 ٹرائل میں تخلیق کردہ مدافعتی ردعمل کو سمجھنے اور اس کو بہتر بنانے کی کوشش میں اضافی مطالعات جاری ہیں۔ پی 5 شراکت داری (پوکس پروٹین پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ) نے مستقبل میں RV144 کے سلسلہ جاتی تاثیری مطالعات کا منصوبہ بنایا ہے۔

تحقیق کار RV144 کے اصولیات اور انتظامی نقطہ نظر کا بھی مطالعہ کررہے ہیں، اس امید میں کہ تاریخ میں ایچ آئی وی ویکسین کی سب سے بڑی آزمائش سے حاصل کردہ جانکاری کا استعمال مستقبل کے ٹرائل کے ڈیزائن کو بہتر بنانے کے لئے کیا جائے گا۔ یہ ٹرائل غیر نافع بخش گروپوں، پرائیویٹ کمپنیوں اور تھائی اور یو ایس حکومتوں کے درمیان ایک بڑا بین الاقوامی شراکت داری تھا: دونوں ٹیکے اصل میں VaxGen اور Sanofi Pasteur کے ذریعہ تیار کئے گئے تھے؛ ٹرائل کو مالی امداد یو ایس کے ذریعہ فراہم کیا گیا۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اور انفیکشس ڈیزیز اور یو۔ایس۔ آرمی میڈیکل ریسرچ اور میٹریل کمانڈ؛ اور مطالعہ متعدد معاون تنظیموں کی کوششوں سے انجام دیا گیا، جس کی قیادت تھائی وزارت صحت عامہ نے کی۔ ٹیکہ تیار کرنے والوں کا خیال ہے کہ RV144 ٹرائل کے تنائج کی جانچ سے صرف بہت ساری جانکاری حاصل نہیں کی جا سکتی ہے بلکہ ان چیلینج کو جانا جا سکتا ہے جو اس کے چھہ مدت میں پیش آئے اور اس بات کی جانکاری حاصل ہو سکتی ہے کہ شرکت کرنے والے تنظیموں نے کیسے ان چیلینج کا سامنا کیا۔

RV144 ٹرائل سے بالکل الگ تھلگ کوششیں اور کاروائیاں جاری ہیں۔ تحقیق کار سابقہ مذکورہ "ممتاز کنٹرولرس" کا مطالعہ کررہے ہیں جن کے ایچ آئی وی انفیکشن کبھی ایڈز میں نہیں بدلتے ہیں، اس امید میں کہ ایچ آئی وی کو کنٹرول کرنے کے لئے ان کے پاس جو بھی صلاحیت ہے وہ ٹیکہ کی تیاری میں بصیرت فراہم کر سکتی ہے۔ ان افراد کے بارے میں مطالعہ کرنے کی بھی کوششیں کی جارہی ہیں جو بار بار ایچ آئی وی کی زد میں آنے کے باوجود بھی ایچ آئی وی میں مبتلا نہیں ہوتے ہیں۔

دیگر بہت سے ٹیکہ کنڈیڈیٹ ٹسٹنگ اور تیاری کے مختلف مراحل میں ہیں۔ RV144 ٹرائل میں "پرائم" حیثیت سے استعمال ہونے والے کاناریپوکس پر مبنی نوتشکیل ٹیکہ کے علاوہ، نوتشکیل کنڈیڈیٹ بھی اڈینووائرس کی بنیاد پر تیار کئے گئے ہیں۔ اس ٹیکہ کے طریقہ (HVTN 505) کا ایک حالیہ ٹرائل کو جولائی 2013 میں اس وجہ سے روکنا دیا گيا کیونکہ اس ٹیکہ لوگوں میں انفیکشن کے جوکھم کو کم کرنے میں ناکام رہا۔[9] دیگر جنیاتی طور پر تیار کردہ کنڈیڈیٹ ایک پروٹین پر مشتمل ہیں جو ایک معاون دوا کے ساتھ دیا جاتا ہے – ایک ایسا ایجینٹ جو مدافعتی نظام کو مزید تحریک دینے کے لئے شامل کیا جاتا ہے۔

مزید یہ کہ، ریسس مکاک بندروں میں SIV ویکسین کی آزمائش کے مثبت نتائج نے مستقبل میں ایچ آئی وی ٹیکہ کے کنڈیڈیٹ میں ایک حامل مرض کے طور پر سائٹومیگالووائرس (CMV) کے استعمال کا خیال پیدا کیا ہے۔ اس طریقہ کار میں، ٹی سیل جس کو قاتل ٹی سیل کے نام سے جانا جاتا ہے، جو جراثیم سے متاثرہ خلیات کو ہلاک کر سکتا ہے، وہ ٹیکہ کی استطاعت کے مطابق تحفظ فراہم کرتے ہیں۔**[10]

ٹیکہ کے دیگر طریقوں میں ترقی ہورہی ہے، جیسے کہ وہ کنڈیڈیٹ جو آنت کے میوکوسل سروفیس میں مدافعتی ردعمل کو تحریک دیتے ہیں – ایچ آئی وی کی ابتدائی نقل کی ہی جگہ۔

آخر میں، تحقیق کار ایچ آئی وی کے لئے اینٹی باڈیز کی تخلیق کے طریقوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔  اینٹی باڈیز وائرس کے اثر کو ختم کرنے کے قابل ہوتا ہے اس سے پہلے کہ وہ کسی فرد میں داخل ہو۔  گزشتہ دو سالوں میں اجتماعی کام کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ انسان ایسی اینٹی باڈیز تخلیق کرتے ہیں جو ایچ آئی وی کی متعدد نسلوں کے اثر کو باطل کرنے پر قادر ہوتی ہیں۔  یہ اینٹی باڈیز ایچ آئی وی کے سرفیس پر کمزوری کو اجاگر کرکے ٹیکہ کی دریافت کے لئے ایک بہترین ٹارگیٹ فراہم کرتی ہیں۔ 

تھیوراپیوٹک ٹیکے

ایچ آئی وی کے ٹیکے جن کے بارے میں اوپر تبادلہ خیال کیا گیا ہے ان کا مقصد ہے کہ وہ انسدادی ٹیکے بنیں۔ وہ یہ ہے کہ انہیں اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ ایچ آئی او کو جسم میں جراثیم داخل کرنے سے روکیں۔ ایک تھیوراپیوٹک ٹیکہ ایک مختلف ڈیزائن کا ٹیکہ ہے، جس کا استعمال اس وقت کیا جائے گا جب انفیکشن پہلے ہی لاحق ہو چکا ہو۔ زیادہ تر تحقیق کار کا خیال ہے کہ ایک تھیوراپیوٹک ایچ آئی وی ٹیکہ ایک علاج نہیں ہوگا – مطلب یہ ہے کہ شاید یہ جسم کو وائرس سے چھٹکارا نہیں دلائے گا اور اس کی وجہ سے اینٹی ریٹروائرل تھیراپی روکنا پڑے گا۔ تاہم، ایسا ٹیکہ وائرس کے تئی ں جسم کے مدافعتی ردعمل کو مضبوط کر سکتا ہے، جس کی وجہ سے جسم میں وائرس کی مقدار کم ہو سکتی ہے، سنگین بیماری کا جوکھم کم ہو سکتا ہے، اور ممکنہ طور پر اینٹی ریٹرووائرل دواؤں کی ضرورت میں کمی آسکتی ہے۔ اس طرح کے متعدد تھیوراپیوٹک ٹیکے پر کلینیکل ٹرائل جاری ہے۔[11][12] جولائی 2014 میں، میلبورن میں انٹرنیشنل ایڈز کانفرینس کے اندر ایک ٹیکہ کنڈیڈیٹ کے کمبینیشن میں رومیڈیپسن نامی دوا پر 2014 کے ایک چھوٹے سے مطالعہ کے پہلا مرحلہ کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔ ایک میموری کے مدافعتی ردعمل کے لئے بنیاد قائم کرنے کی خاطر ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کو ٹیکہ دیا گیا۔ پھر سبجیکٹوں کو دوا دی گئی، جو اس ہدف کے ساتھ دی گئی کہ ایچ آئی وی کو جسم میں موجود مخفی محفوظ گاہ سے باہر نکالا جائے۔ ٹرائل کے مرحلہ 1 کے نتائج مثبت تھے: دوا نے ایچ آئی وی کو محفوظ گاہ سے باہر نکال دیا اور ایچ آئی وی کی قابل سراغ مقدار میں اضافہ کردیا۔ ٹرائل کا اگلا مرحلہ، جس میں اس بات کا مظاہرہ ہونا چاہئے کہ کیا ٹیکہ ایچ آئی وی سے متاثرہ خلیات کو ناکارہ بنانے کے لئے مؤثر ہے یا نہیں، 2015 میں اس کی تکمیل کی امید ہے۔[13][14]

امید کرنا

بہت سے دیگر گروپ ایچ آئی وی ٹیکہ کی تیاری کے لئے ان طریقوں اور دیگر طریقوں پر ایک ہو کر کام کررہے ہیں – شاید آج تک کسی بھی ٹیکہ کی تیاری میں ہونے والی کوشش سے زیادہ۔ غیر منافع بخش تنظیمیں، حکومتیں، فارماسیوٹیکل کمپنیاں، خیراتی گروپ، اور وکالتی تنظیمیں ساتھ ملکر ایک ایسی کوشش کررہی ہیں جو صحیح معنوں میں ایچ آئی وی ٹیکہ کے تئی ں ایک بین لاقوامی کوشش بن چکی ہے۔

**CMV پر مبنی ویکٹر ٹیکہ کے مقابلے میں طویل مدتی مامونیت کی تخلیق کے لئے اکلوتا دیگر SIV ٹیکہ وہ تھا جو لائیو، اٹینویٹیڈ سیمیان امیونوڈیفیسینشی وائرس پر مشتمل تھا۔  اس طریقہ کو انسانوں کے لئے ایک امکان نہیں مانا جاتا ہے، کیونکہ ایک لائیو ایچ آئی وی ٹیکہ، اگرچہ کمزور ہو جائے، لیکن انسانی ٹسٹنگ کے لئے بہت خطرناک ہوگا۔


حالیہ آزمائش

انٹرنیشنل ایڈز ویکسن انیشیٹیو کے پاس ایڈز کے ٹیکہ سے متعلق موجودہ اور ماضی کے ٹرائل کی ایک فہرست ہے، جو اسٹیٹس، آزمائش کے مرحلہ اور لائحہ عمل کے اعتبار سے مرتب ہے۔ یہاں ڈیٹابیس ملاحظہ فرمائیں: 

IAVI ٹرائل ڈیٹابیس

مزید مطالعہ 

آپ مندرجہ ذیل تنظیموں کے ذریعہ ایچ آئی وی ویکسین کی تحقیق کے بارے میں تازہ ترین خبروں سے واقف رہ سکتے ہیں۔

·       انٹرنیشنل ایڈز ویکسن انیشیٹیو (iavi.org)

·       امریکہ ملیٹری ایچ آئی وی ویکسن ریسرچ پروگرام (USMHRP)

·       ایچ آئی وی ویکسن کی آزمائش کا نیٹ ورک (HVTN)


  1. عالمی ادارہ صحت۔ HIV/AIDS Fact Sheet. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

2.   AVERT. The different stages of HIV infection. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

3.    Callahan GN. Infection: The uninvited universe. New York: Macmillan, 2006. Cohen J. Shots in the dark: The wayward search for an AIDS vaccine. New York: Macmillan, 2001.

4.    Safety of and immune response to an HIV-1 vaccine in Infants born to HIV infected mothers. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

5.    HIV vaccine trial in in Thai adults. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

6.    Department of Diseases Control, Ministry of Public Health, and Thai AIDS Vaccine Evaluation Group. The prime-boost phase III HIV vaccine trial.

7.    “Frequently asked questions regarding the RV144 Phase III HIV Vaccine Trial.” Distributed by U.S. Military HIV Research Program (MHRP). Formerly available at hivresearch.org.

8.    Haynes BF, et al. Immune-correlates analysis of an HIV-1 vaccine efficacy trial. NEJM. 2012;366(14)1275:1286.

9.    National Institute of Allergy and Infectious Diseases. Questions and answers: The HVTN 505 HIV Vaccine Regimen Study.  31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

10. Hansen SG, Ford JC, Lewis MS et al. Profound early control of highly pathogenic SIV by an effector memory T-cell vaccine. Nature. 473:523-527. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

11. U.S.H.H.S. Therapeutic HIV vaccines. 2006. (54 KB). 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

12. Pollard RB, et al. Safety and efficacy of the peptide-based therapeutic vaccine for HIV-1, Vacc-4x: a phase 2 randomised, double-blind, placebo-controlled trialLancet Inf Dis.2014;14(4)291:200.  31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

13. The safety and efficacy of the histone deacetylase inhibitor romidepsin and the therapeutic vaccine Vacc-4x for the reduction of the latent HIV-1 reservoir (REDUC). ClinicalTrials.gov Identifier NCT02092116.  31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

14. First evidence that romidepsin "kicks" HIV out of reservoirs. Bionor Pharma. 31/3/2017 کو رسائی کی گئی۔

PDF پڑھنے کے لئے، Adobe Reader ڈاؤن لوڈ اور انسٹال کریں۔

آخری بار 31 مارچ 2017 کو اپڈیٹ کیا گي